یوگی کااے ایم یو کادورہ ،وائس چانسلر سے ملاقات کی

علی گڑھ :وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور میڈیکل کالج اسپتال کو آکسیجن سپلائی اور ریمڈیزور انجکشن کی فراہمی سمیت ہر ممکنہ مدد کا یقین دلایا۔وزیر اعلیٰ نے علی گڑھ اور قریبی اضلاع میں کووِڈ 19سے پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ لیا، اور غمزدہ کنبوں سے تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حکام بشمول وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور، رجسٹرار مسٹر عبدا لحمید آئی پی ایس، میڈیکل کالج پرنسپل و سی ایم ایس پروفیسر شاہد علی صدیقی،ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر راکیش بھارگو اور کارگزار میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر امجد علی رضوی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ پروفیسر طارق منصور نے اس موقع پر کہاکہ میڈیکل کالج کو آکسیجن اور ریمڈیزور انجکشن کی مسلسل شدید ضرورت ہے۔ میڈیکل کالج کے ڈاکٹر، نرس اور نیم طبی عملہ کے اراکین تندہی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس دوران ان میں سے کئی ایک کووِڈ سے متاثر ہوگئے ۔ انھوں نے سنجیدگی اور محنت کے ساتھ کام کرنے کے لیے طبی عملے کی ستائش کی۔ پروفیسر طارق منصور نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر سے نپٹنے کے لیے سبھی کوششیں کی جارہی ہیں اور ہمیں تیسری ممکنہ لہرکے لیے بھی تیاریاں کرنی ہوں گی جس میں بچوں کے زیادہ تعداد میں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج میں صحت ڈھانچہ کی بلندکاری اور پیڈیاٹرک آئی سی یو کی سہولیات میں اضافہ کے لیے میڈیکل کالج ،ریاستی و مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا، تاکہ خاص طور سے بچوں کو بہتر علاج مل سکے۔انھوں نے کہاکہ میڈیکل کالج نے ٹیلی میڈیسن خدمات شروع کی ہیں جسے مزید مستحکم کیا جائے گا۔ وائس چانسلر، وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) سے لگاتار رابطہ میں ہیں۔ انھوں نے کووِڈ بحران کے وقت یونیورسٹی کو تعاون دینے کے لیے وزیر اعظم، مرکزی وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ اور ان کے دفاتر کا شکریہ ادا کیا۔ وائس چانسلر اور یونیورسٹی حکام نے زیادہ سے زیادہ ٹیکہ کاری کے لیے یونیورسٹی برادری کے نام سوشل میڈیاو دیگر وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اپیلیں جاری کی ہیں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہاکہ یونیورسٹی نے جینوم سیکونسنگ کے لیے نمونے جانچ کی خاطر آئی سی ایم آر کو بھیجے ہیں۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں زیادہ اموات کے اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے جے این میڈیکل کالج کے اہلکاروں نے کہاکہ ویکسین نہ لگوانے، دیگر امراض ہونے اور میڈیکل کالج میں تاخیر سے مریض کو بھرتی کرنے سے اموات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ایک حلقہ میں کووِڈ سے اموات کی تعداد کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا گیا اور اس میں دیگر امراض اور جے این میڈیکل کالج اسپتال سے باہر ہونے والی اموات کو بھی شامل کرلیا گیا۔اس کے علاوہ کئی سبکدوش اساتذہ جن کا انتقال دہلی، نوئیڈا، غازی آباد، لکھنؤ، بھوپال، میرٹھ وغیرہ میں ہوا ان کا نام بھی اس میں شامل کیا گیا۔اس مشکل وقت میں یونیورسٹی سبھی غمزدہ کنبوں کے ساتھ ہے ۔