یوگی حکومت کا فیصلہ،گھروں سے ہٹائے جائیں گے بجلی کے چائنیز میٹر

لکھنو:ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں ملک میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایک مستقل آواز اٹھ رہی ہے۔ اترپردیش میں اس سلسلے میں ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اب یوپی میں چین میں بنائے گئے بجلی کے میٹر نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ ریاستی صارف کونسل کی شکایت کے بعد لیا گیا ہے۔میٹر کے علاوہ چینی آلات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یوپی کے گورکھپور میں لگائے گئے 15 ہزار چینی میٹروں کو نکال دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی میٹر اور آلات کو استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ وزیر توانائی نے جائزہ اجلاس میں ہدایات جاری کئے۔ ابھی تک مرکزی حکومت کے معاہدے کے تحت یوپی میں چین کے بجلی کے آلات استعمال ہورہے تھے، لیکن ریاستی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔ہریانہ حکومت نے چینی کمپنیوں کے معاہدوں کو منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ہریانہ میں چینی کمپنیوں کو دیئے گئے 2 تھرمل پاور اسٹیشنوں کے معاہدے منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ یمنا نگر اور حسار تھرمل پلانٹوں کے لئے بیڈنگ ہوئی تھی۔ اس میں 2 کمپنیوں کو 2 تھرمل پاور اسٹیشنوں کے معاہدے ہوئے۔ دونوں کمپنیاں چینی تھیں۔ لیکن اس کے بعد ہریانہ حکومت نے اب ان معاہدوں کو منسوخ کردیا ہے۔ہریانہ کے علاوہ ہندوستانی ریلوے نے بھی چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا۔ 2016 میں چینی کمپنی سے ہندوستانی کمپنی کے ساتھ 471 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا تھا، جس میں اسے 417 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک پر سگنل سسٹم لگانا تھا۔