یوگی آدتیہ ناتھ یوپی کو گجرات بناناچاہتے ہیں؟!  عبدالعزیز 

 

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ صورتاً سنیاسی نظر آتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ یوگی بھی جوڑتے ہیں لیکن اپنی زبان و بیان اور کردار و اطوار سے دیکھاجائے تو ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ ان کی یہی ادا آر ایس ایس اور بی جے پی کو پہلے بھی پسند تھی اور آج بھی پسند ہے، جبکہ پورا اتر پردیش جنگل راج میں تبدیل ہوگیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف شروع ہی سے وہ زہر اگلتے تھے اور ان کی ویب سائٹ پر مسلمانوں کے بارے میں ایسی زہریلی اور نفرت انگیز باتیں لکھی رہتی ہیں، جن کو پڑھنا اور سننا کسی شریف انسان کے بس کی بات نہیں ہوسکتی۔ جب سے وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں اتر پردیش میں بدنظمی اور بدامنی کا دور دورہ ہے۔ جب موصوف ایم پی تھے تو گورکھپور شہر میں اپنے سیاہ کارناموں کی وجہ سے بدنام تھے۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دور میں ان کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی تھی۔ لوک سبھا میں جیل میں گزارے اپنے دنوں کی داستان بتاکر رونے بھی لگے تھے۔ سابق اسپیکر سومناتھ چٹرجی نے اس وقت ان کو دلاسہ اور تسلی دی تھی۔ مودی جی نے اپنی کابینہ میں ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا تھا لیکن اتر پردیش کے الیکشن کے فوراً بعد مودی-شاہ کو اپنی پارٹی کے 310 ممبران اسمبلی میں سے کوئی بھی باصلاحیت نظر نہیں آیا اور یوگی کو دہلی سے بلاکر اتر پردیش کے تخت پر بٹھا دیا، جس کو حکمرانی کا دور دور کا بھی تجربہ نہیں تھا۔ 2017ء سے لے کر آج تک اتر پردیش کے لوگوں کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔

’سی اے اے‘ اور ’این آر سی‘ کے خلاف مظاہروں میں پولس کی گولیوں سے اب تک کی رپورٹ کے مطابق 20سے زائد مسلمان شہید ہوگئے۔ ان میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ کئی دنوں تک یوپی پولس اپنے ظلم و ستم کو چھپانے کیلئے یہ کہتی رہی کہ پولس کی فائرنگ سے یا گولیوں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن دو روز پہلے پولس نے تسلیم کرلیا ہے کہ پولس کی فائرنگ سے ہی لوگ ہلاک ہوئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ پولس ایک بہانہ تو یہ بنا رہی ہے کہ پیپلز فرنٹ آف انڈیا (PFI) کی ہنگامہ آرائی اور تشدد کی وجہ سے اپنے بچاؤ کیلئے فائرنگ کی ہے۔لکھنؤ، کانپور، بنارس، میرٹھ، بہرائچ، آگرہ، فیروز آباد، گورکھپور، بجنور اور دیگر شہروں میں پولس کی گولیوں سے لوگ شہید ہوئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولس پہلے جھوٹ سے کام لیتی رہی اور جب پولس ایکشن اور فائرنگ کا ویڈیو اور سی سی ٹی وی کیمرے سے ٹی وی چینلوں اور میڈیا میں دکھایا جانے لگا تو پولس کو مجبوراً سچ بولنا پڑا۔ گرفتاریاں بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں۔ ایسے لوگ بھی گرفتار ہوئے ہیں جو راہ گیر تھے یا پولس اسٹیشن لوگوں کی رہائی کیلئے گئے تھے۔

دیپک کبیر جو بہت ہی اچھے سماجی کارکن ہیں لکھنؤ میں اپنی سماجی خدمات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور ان کا ذہن گاندھیائی ہے، نہایت سیدھے سادے انسان ہیں، صاف دل و دماغ رکھتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ٹی وی چینلوں پر مباحثے کے دوران ان کے بارے میں یہ کہا کہ وہ قسم کھاسکتے ہیں کہ دیپک کبیر ایک اچھے انسان ہیں۔ تشدد اور ہنگامہ آرائی میں نہ انھوں نے کبھی حصہ لیا اور نہ مظاہرے اور احتجاج میں وہ شامل تھے۔ پولس اگر ایسے بے قصور اور بے گناہ آدمی کو گرفتار کرکے جیلوں کو بھرتی ہے تو انتہائی شرمناک اور افسوسناک بات ہے۔ ان کے گھر والوں کاکہنا ہے کہ پہلے ان کو روکا گیا اور پھر ان کی گرفتاری ہوئی۔ ان کو پولس کہاں لے گئی ہے گھر والوں کو بتایا بھی نہیں گیا۔ ایسی بربریت اور سفاکی یوگی کی پولس ہی کرسکتی ہے۔ پہلے فرضی کاؤنٹر میں یوپی پولس یا یوگی پولس مشہور ہوگئی تھی اوراب مسلمانوں کو ستانے اور مارنے میں بدنامی کا داغ اپنے سر پر لے رہی ہے۔ پولس کی اس بربریت پر یوگی کی طرف سے حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

یوگی ادتیہ ناتھ نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرے اور احتجاج کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی، انتقامی جذبے سے کام لیا۔ یہ بیان دیا کہ جو سرکاری جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں وہ ایسے لوگوں سے وصول کی جائیں گی، جن کا نام ایف آئی آر میں درج ہوگا۔ قانون داں کہتے ہیں کہ کوئی پاگل وزیر اعلیٰ ہی اس طرح کا بیان دے سکتا ہے۔ قانون دانوں کو یقین تھا کہ ایسی غیر قانونی حرکت یوگی نہیں کریں گے،لیکن یوگی کیلئے سب کچھ روا ہے۔ پولس کے ذریعے انھوں نے اعلان کروایا ہے کہ 14 لاکھ کی سرکاری جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں اور 28 افراد کو اس کی بھرپائی کرنی ہوگی۔ یہ ہٹلری پالیسی یا اعلان اتر پردیش میں ہی ہوسکتا ہے۔ مودی اور شاہ کے چیلے ہی اس طرح کی حرکتیں کرسکتے ہیں۔ یہ حقیقت میں گجرات اور گودھرا کے فسادات سے ہی یوگی نے سیکھا ہے، جہاں نریندر مودی نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پولس کو کئی دنوں تک 2002ء میں چھوٹ دے رکھی تھی۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ شہید ہوئے، بستی کی بستی جلا دی گئی، مسلمانوں کی نوآباد کالونیوں کوبھی ظالموں نے نہیں چھوڑا۔ سابق ایم پی سید احسان جعفری کو ان کے گھر سے گھسیٹ کر راستے میں لاکر جلادیا، مودی کو انھوں نے فون کیا تھا، فون کرنے کے بعد بلوائیوں کا ہجوم بڑھ گیا تھا اور پولس کا گروپ ان کو بچانے کیلئے نہیں آیا۔ آج تک ان کی بیوی بچے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں پھر بھی انھیں انصاف نہیں ملا۔ جن کی جان گئی تھی ان کی جان تو کسی طرح بھی واپس نہیں آسکتی،لیکن جو جائیدادیں تباہ و برباد ہوئی تھیں اس کے بدلے بھی مودی کی حکومت نے کچھ بھی نہیں دیا۔ آج ان کا چیلا اتر پردیش میں سرکاری جائیدادوں کی تباہی کا تاوان غریب اور لاچار مسلمانوں سے وصول کرنے کا اعلان کررہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنے، جائیدادوں کو تباہ و برباد کرنے اور مار دھاڑ کرنے میں آر ایس ایس کے کارکن یا لیڈر پولس کی سادہ وردی میں شامل تھے۔ ان کی نشاندہی آخر کون کرے گا؟ مسلمانوں اور انصاف پسند شہریوں کی طرف سے عدالتی انکوائری کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

مظفر نگر: مظفر نگر میں جو کچھ ہوا اس کی مثال ہندستان بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ احتجاج اور مظاہرے کا بدلہ لینے کیلئے آر ایس ایس اور بی جے پی کے شرپسند عناصر نے مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ خاندان کے ہر شخص مرد اور عورت، بچے اور بوڑھے سب کو ڈرایا دھمکایا اور کہاکہ یہ گھر اب تم لوگوں کا نہیں ہے، یہاں سے چلے جاؤ، ہتھیار دکھاکر ان کے گھروں کو لوٹا۔ لاکھوں روپئے کی جائیدادیں تباہ و برباد کیں۔ ان کی تجوریوں میں بھی جو رقم تھی اسے بھی لوٹ کر لے گئے۔ ڈرائنگ روم، باورچی خانے میں گھس کر سارے سامان کو تہس نہس کیا۔ کھڑکیوں اور دروازوں کوبھی توڑا، بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد نے ایک ایک گھر میں جاکر پوچھ تاچھ کی اور ٹوٹے پھوٹے اور بکھرے سامان کو ٹی وی اسکرین پر دکھایا۔ گھر کے لوگ سہمے اور ڈرے ہوئے تھے۔ زبیر صاحب لوگوں سے انٹرویو لینا چاہتے تھے، لیکن ڈر اور خوف سے ایک بوڑھے آمی کے سوا کسی نے انٹرویو نہیں دیا۔ جس ریاست کی یہ حالت ہو، وہاں کیا نہیں ہوسکتا اور جس کا وزیر اعلیٰ یا مکھیا یوگی جیسا شرپسند ہو،وہ کیا نہیں کرسکتا۔ لگتا ہے کہ یوگی کو مسلمانوں سے پیدائشی دشمنی ہے اور اسی دشمنی کی وجہ سے اتر پردیش کا مکھیا جبر و ظلم پر اتارو ہے۔ اتر پردیش ہی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں امن پسند اور انصاف پسند شہری بھی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بہت سے ریٹائرڈ پولس افسران یوگی حکومت سے ناخوش و ناراض ہیں، لیکن وہ بھی اظہار خیال سے ڈرتے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کچھ بولیں گے، تو وہ بھی گرفتار ہوسکتے ہیں اور ان پر بھی آر ایس ایس اور بی جے پی، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں کے حملے ہوسکتے ہیں، یوگی کے ابھی بھی دو سال باقی ہیں، اتر پردیش کے لوگ اور خاص طور پر مسلمان ان دو سالوں کو کیسے گزاریں گے؟ یوپی کے مسلمانوں کو اس تصور سے بھی ڈرلگتا ہوگا۔ بہر حال مسلمانوں کو خوف و ہراس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، نہ بزدلی دکھانا ہے، نہ مشتعل ہونا ہے؛ بلکہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنا چاہئے۔ جو لوگ صاف ذہن کے برادرانِ وطن ہیں، ان سے مل جل کر ماحول کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، پولس کے افسران سے بھی مل کر بات کرنی چاہئے کہ آخر پولس کیوں مسلمانوں سے نفرت رکھتی ہے اور کیوں فرقہ پرستی اور فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے؟ ان کو یاد دلانا چاہئے کہ جو مسلمان گھروں پر حملے ہورہے ہیں، ان کے بچے بچیوں کو تکلیف دی جارہی ہے، کیا یہی انسانیت ہے؟

دادری کے واقعے سے لے کر مظفر نگر کے واقعات تک کو روح فرسا ہی کہا جاسکتا ہے۔ جو لوگ دادری اورمظفر نگر کے واقعے میں شامل تھے،ان کی نہ صرف رہائی ہوئی بلکہ پھول مالاؤں سے ان کا استقبال ہوا۔ یوپی کی تو یہ حالت ہے کہ ایک پولس انسپکٹر کو جو اپنی ڈیوٹی پر تھا اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اسے بھی شرپسندوں نے نہیں چھوڑا۔ پولس انسپکٹر کے قاتلوں کو جب رہا کیا گیا، تو ان کا بھی استقبال ہوا اور سوشل میڈیا میں اس منظر کو وائرل بھی کیا گیا۔ بلند شہر کے مقتول پولس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے بیوی بچوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جس طرح ان کے شوہر اور باپ کے قتل پر قاتلوں نے جشن منایا اور ان کے دوستوں نے پذیرائی کی، اس سے انسانیت شرمسار ہے اور ہماری آنکھیں نم ہیں اور دل درد سے معمور ہے۔ یہ ایسی ریاست ہے، جہاں قاتلوں کا استقبال کیا جاتا ہے اور ان کی پذیرائی ہوتی ہے، جس ریاست میں پولس افسران کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہورہا ہو، وہاں مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی،اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com

Mob:9831439068

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*