25.8 C
نئی دہلی
Image default
اسلامیات

یوگا اور سوریہ نمسکار

ام ہشام
یوگا عبادت نہیں ،ورزش ہے ،ایسا کہنے والے ذرا قریب سے یوگا کے اندرونی اسٹیپ کو جان لیں پھر اپنی تاویل پیش کریں ،یوگا کی حرمت اس لیے ہے کہ اس میں کچھ ایسی حرکات و سکنات ہیں، جو واضح طور پر شرکیہ ہیں ،جیسے ہاتھ جوڑ کر عاجزی سے جھکنااور سجدے کرنا،اپنے قدموں کو پیچھے سے پکڑکر گردن کو نیچے جھکاکرپیٹ کے بل لیٹ کر اپنی عاجزی کا اظہار کرنا،اس کے کئی ایک نام ہیں، جو ہندووں کے مذہبی شعائر کی علامات یا ان کے ’’سوریہ دیوتا‘‘ کے توصیفی نام ہیں ۔
آئیے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں :
جیسے یوگا کا ایک بڑا ہی مشہور آسن ہے سوریہ نمسکار،اس کی شروعات پندرہ منٹ کی ایکسرسائز سے ہوتی ہے ،جس کا دورانیہ بڑھایا بھی جاتا ہے،اس ایکسرسائز میں ہوتا یہ ہے کہ پوری ایکسرسائز کے دوران شروع تا آخر ہاتھ جوڑ کر مشرق کی سمت سے شروعات کی جاتی ہے اور پھر ہاتھوں کو اوپر اٹھاکر سورج کو نمسکار کیا جاتا ہے ،پھر اس کے بعد سینے پر یہی پوزیشن دہرائی جاتی ہے پھر ہاتھ جوڑے ہوئے جسم کے ہر جوڑ پر جھکاؤ دیا جاتا ہے، پہلا جھکاؤ رکوع کی حالت جیسا،پھر سجدہ،پھر لیٹنا ہوتا ہے اور ہر ایک اسٹیپ میں آپ کے لیے لازم ہے کہ آپ کا چہرہ مشرق کی سمت ہو اور دونوں ہاتھ نمستے کی پوزیشن میں ہوں۔ اس کے علاوہ اس ورزش کے سبھی اسٹیپس کے نام اور دورانِ ایکسرسائز جو کچھ بولا جاتا ہے، اس کا زیادہ تر حصہ سوریہ دیوتا (نعوذباللہ) سے منسلک ہوتا ہے۔
میں نے یوگا کے اور بھی آسن بہت قریب سے دیکھے ہیں،میرا اپنا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آج لوگوں نے اپنے سچے خدا اور اس کی سچی کتاب کو چھوڑ کر جو یہاں وہاں کی راہیں اپنانی شروع کی ہیں، تو یہی اصل ضلالت ہے ،نماز اور اللہ کے ذکر کو چھوڑ کر جب بندہ میڈیٹیشن (حالتِ استغراق) میں قلبی سکون تلاش کرنے میں کوشاں ہوگا، تو بھلا سکون کہاں پائیگا،ممکن ہے گمراہ بھی ہوجائے یا اس سے شرک بھی ہوجائے،ہمارا روشن خیال طبقہ کہتا ہے کہ بھئی استغراق پر بھی مولوی فتوی دیتا ہے ،جاؤ مولوی کچھ سیکھ کر آو! میں کہتی ہوں یہ حالتِ استغراق ہے کیا؟کیا انسان کے آنکھیں بند کرکے لمبے لمبے سانس بھرنے،پیٹ کو اندر کھینچ کر سانس روکنے کا نام استغراق ہے؟یا لمبی لمبی سانسوں کے ذریعے اپنے اندر کی گھٹن،ایمان کی کمی،ربِ حقیقی کی معرفت سے دوری ہوتی ہے، جسے انسان خارج کرکے سمجھتا ہے کہ اس کی دل ودماغ کی دنیا ہلکی ہوگئی ہے،وہ پرسکون ہوچکا ہے!
بہر حال سوال یہ ہے کہ استغراق کی کیفیت میں بھی ایک انسان کو کیا سوچنا چاہیے،ظاہر ہے اپنی تخلیق پر غوروفکر،اپنی زندگی کا مقصد،مستقبل کے عزائم، کمزوریوں کا اعتراف،صلاحیتوں کا ادراک جیسی باتیں انسان سوچتا ہے اور سوچنا بھی چاہیے، منصوبوں کا تانا بانا ہمیشہ بنتے رہنا چاہیے ،ورنہ آدمی کی قوتِ تخیل ناکارہ ہوجاتی ہے ۔
اب اگر یہ طے ہوجاتا ہے کہ انسان اپنے متعلق وہ سب کچھ سوچ سکتا ہے ،جو اس کے دل ودماغ کو سکون پہنچاتے ہوں ، تو کیا یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے عزائم اور منصوبوں میں اللہ کی توفیق مانگے ، اپنی ضروریات کو اللہ کے حضور بیان کرے ،نماز یا سجدے کی حالت میں مانگے،چلتے پھرتے مانگے یا بیٹھ کر مانگے،حالت جو بھی ہو ،ذہن کا ارتکاز صرف اس کی ذات پر ہو، کیا یہ استغراق نبی کے غارِ حرا کے استغراق جیسا نہ ہو، جس میں گھنٹوں اللہ کی ذات پر ایمان ویقین کے ساتھ غور وفکر کیا جاتا تھا؟
اب میڈیٹیشن کی طرح نہ ہو کہ بندہ آنکھیں بند کرکے روح کی حقیقت کو فراموش کرکے خود کو ہوا کے دوش پر سوار سمجھے اور خود کو یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ وہ دنیا کے غموں سے ہلکا پھلکا ہوچکا ہے ،استغراق بذات خود بہت اچھی چیز ہے؛ لیکن تب ،جب وہ شریعت کے تابع ہو، ورنہ بہت سی ضلالتیں اور گمراہیاں یہیں سے وجود میں آئی ہیں ، اہلِ کشف ووجدان وصوفیت اسکی بڑی مثالیں ہیں،یہاں تو سرے سے ہی دھیان کس کی طرف لگایا جارہا ہے، اسی کا پتہ نہیں،یہاں ایک بات بتلانا چاہوں گی کہ اکثر جِم یا فٹنس کلاسز میں وزن کم کرنے اور بڑھانے کے نام پر سوریہ نمسکار کا آپشن دیا جاتا ہے اور اس کے جلد نتائج اور دیرپا فائدے سے آگاہ کیا جاتا ہے اور اکثر مسلمان لا علمی کی بنا پر اس آسن کو اپنی ایکسر سائز میں شامل کرلیتے ہیں ۔
ایک اچھی صحت مند زندگی آپ کا حق ہے اورایک توانا جسم آپ کی پہلی ضرورت؛ لیکن یہ ضرور دیکھیں کہ اس کے حصول میں کہیں آپ کا کوئی قدم کفر وشرک کے قریب تو نہیں جارہا ، کفرو شرک سے پاک چیزوں کو اپنائیں، شکوک وشبہات سے دور رہیں؛ کیونکہ یہ ایمان میں نقص کا باعث بنتی ہیں اور ایمان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment