نیس حملے کی ذمے داری ’نامعلوم‘ گروپ نے قبول کرلی،تونس حکومت کا تحقیقات کا فیصلہ

دبئی:دو روز قبل فرانس کے شہر نیس میں ایک چرچ کے قریب تین افراد کو قتل اور متعدد کو زخمی کرنے کے واقعے کی ذمہ داری ایک گمنام تونسی تنظیم نے قبول کی ہے۔ دوسری طرف تونس حکام نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تیونس کی ایک پرائمری عدالت نے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث مشتبہ نامعلوم گروپ کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔عدالت کے ترجمان محسن الدالی نے بتایا کہ پراسیکیوٹر جنرل نے انسداد دہشت گردی یونٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ جنوبی تونسی مہدی نامی اس گروپ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ حکام اس بات پتا چلائیں کہ آیا اس نام کا کوئی گروہ ملک موجود ہے یا نہیں۔ترجمان نے بتایا کہ عدالت نے یہ پیش رفت جنوبی تونسی مہدی نامی ایک گروپ کی جانب سے فیس بک پر فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عدالت نے
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اس دعوے کی حقیقت اور اس کی سچائی معلوم کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے بھی معاونت کو کہا گیا ہے۔تونسی حکومت پہلے نیس حملے میں تین افراد کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس نے حملہ آور ابراہیم العویساوی کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ ملزم اس وقت فرانس کے ایک اسپتال میں زیرعلاج ہے۔فرانسی جوڈیشل ذرائع کا کہنا ہے کہ نیس حملے میں ایک 47 سالہ مشتبہ شخص کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے اور اسی شبے کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعے سے قبل یہ شخص حملہ آور ابراہیم العویساوی کے ساتھ رابطے میں تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*