یہ کیسی تصویر بنادی تم نے ہندوستان کی- منصور قاسمی

ہندوستان کی موجودہ سیاسی ، سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حالت کو دیکھ کرمستقبل کے ہندوستان کی جو تصویر پردہء چشم میں ابھر کر سامنے آرہی ہے وہ صرف مایوس کن اور رنجیدہ کرنے والی ہی نہیں ؛بلکہ انتہائی خوفناک اور گندی ہے ، اس ہندوستان میں نہ کثیر ثقافت ہے اور نہ کثیر تہذیبی اقدار ، جمہوریت نذر آتش ہو رہی ہے ، دستور ہند کے اوراق پھاڑے جا رہے ہیں ، وہاں منوسمرتی کے قانون نافذ ہو چکے ہیں ، گئو بھکتوں کے علاوہ کسی مذہب کے پیروکاروں کے لئے آزادی نہیں ہے اور مسلمانوں کے لئے تو بالکل بھی نہیں ۔
یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ دوئم درجے کا شہری جیسا سلوک کیا جا رہا تھا ؛تاہم ۲۰۱۴ میں مرکز میں مودی سرکارآنے کے بعدجس فکر کو پرموٹ کیا گیا وہ ملکی اور عالمی سطح پر عیاں ہے ،دھرم کے گرو گھنٹالوں نے ، سیاسی بازی گروں نے اور ٹی وی کے اسکرین پر بیٹھے اینکروں نے مل کر جس طرح مسلمانوں کے خلاف فضاء میں زہر گھولاہے اور ان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔جب ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر براجمان شخص ہی مسلمانوں کو یہ کہہ کر ٹارگیٹ کرتا ہے کہ ’’ دنگائی کپڑے سے پہچانے جاتے ہیں ،، گائے کسی کے لئے مکروہ چیز ہو سکتی ہے ہمارے لئے لائق عبادت ہے ،،وغیرہ وغیرہ تو دوسروں سے بھلائی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ؟۔ ڈاسنا مندر کا ڈسنے والا زہریلا سانپ یتی نرسنگھا نند سرسوتی کبھی کہتا ہے: میرے جینے کا مقصد بھارت سے ہی نہیں، دنیا سے اسلام کو مٹانا ہے ، یہ مذہب نہیں آتنک کی علامت ہے ، ،کبھی کہتاہے : دارالعلوم دیوبند ، علی گڑھ مسلم یونیور سیٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ پر بم گرا کر تباہ کردیا جانا چاہئے تو کبھی کہتا ہے :بھارت کو ہندو راشٹر بنا کر دم لیں گے ، ،۔یہ آتنکی مختلف ویڈیوز بنا کر شر انگیزی پھیلاتا رہتا ہے ؛مگر اس کے خلاف نہ تو مرکزی سرکار ، نہ ریاستی سرکاریں کارروائی کرتی ہیں اور نہ ہی نام نہاد سیکولر پارٹیاں اس کے خلاف بولتی ہیں ۔ گزشتہ دنوں ہری دوار میں منعقد ’’دھرم سنسد ،،(یہ ادھرمیوں کی بیٹھک تھی ) میں۲۰ لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا جانا ، اس میں فوج کو بھی شامل ہونے کی دعوت دینا ،حاضرین اور سامعین کا تالیاں بجانا اور تمام پارٹیوں کا اس شرانگیزی پر چپی سادھ لینا بتاتا ہے کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا ؟وہ تو بھلا ہے کہ اب بھی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ میرل وشنو بھاگوت ، ریٹائرڈ ایڈمیرل لکشمی نارائن داس ،ریٹائرڈ ایڈمیر ل آر کے دھون ، ریٹائرڈ ایڈمیرل ارون پرکاش اور ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی جیسی عظیم شخصیات ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان آتنکیوں کے خلاف احتجاج کیا ؛بلکہ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو خط بھی لکھا ، خط میں کہا گیا ہے کہ ’’ دھرم کے نام پر اس پروگرام میں جس طرح مسلموں کو مارنے اور ہلاک کرنے کی بات کہی گئی ہے اس سے داخلی اور خارجی سلامتی خطرے میں آ سکتی ہے ،،۔سوال یہ ہے ماحول کو اتنا زہریلا کس نے بنایا ؟جوا ب ہے : اعلی عہدے پر فائز لوگوں سے لے کرکپل مشرا اور انوراگ ٹھاکر جیسے شرپسند لوگوں نے، پورا ملک جانتا ہے دہلی فساد کا اصل مجرم کپل مشرااور انوراگ ٹھاکر ہیں؛ مگر چارج شیٹ میں نام تک نہیں ، ہاں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے خالد سیفی ، عمر خالد ، صفورا زرگر اور طاہر حسین سلاخوں کے پیچھے ضرور دھکیل دیئے گئے ۔ دھرم سنسد کے ادھرمیوں اور سیاسی فسادیوں نے نئی نسل کے اندر نفرت کی ایسی آ گ بھردی ہے کہ کہیں بھی یہ جل اٹھتی ہے ، رہی سہی کسر ٹی وی اینکروںنے پوری کردی ۔ کبھی لو جہاد ، کبھی گھر واپسی ، کبھی یو پی ایس سی جہاد ، کبھی تبلیغی جہاد اور کبھی کورونا جہاد کے نام سے نفرت کا ایسا جال پھینکا ہے جس سے نکلنا اب مشکل ہے ۔سریش چوہانکے جیسے ٹی وی آتنکیوں نے ایک ایسی نسل تیار کردی ہے جس کا مقصد ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانا ، ان کو سب و شتم کرنا ، ان کی حیثیت کم تر کرنا ، سماجی اور معاشی طور پر بائیکاٹ کرناہے۔ اندازہ کیجئے! کمپیوٹر سائنس سے بی ٹیک کرنے والا ایک اسٹوڈنٹ نیرج بشنوئی ’’بلی بائی ایپ ،، اس لئے تیار کرتا ہے تاکہ ان مسلم خواتین کو ٹارگیٹ کر سکے جو صحافی ہیں، قلمکار ہیں ، سوشل ایکٹیویسٹ ہیں ، جن کا ذہنی پرواز اونچا ہے ، جو اپنے حقوق کی لڑائی لڑتی ہیں ۔ نیرج کا ساتھ دینے والا وشال کمار بھی انجینئرنگ کا طالب علم ہے ، مینک اگروال بھی ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس گندے کھیل میں ایک ۱۸ سالہ لڑکی شویتا سنگھ بھی شامل ہے،جس کے والدین اب اس دنیا میں نہیں ہیں یعنی ایک عورت ہی ایک عورت کی عزت نیلام کرنے بیٹھ گئی اور کل جب اسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوگا تو اپنی یتیمی کو رو ئے گی ، خود کو دیوی ثابت کرنے کی کوشش کرے گی ۔ماسٹر مائنڈ نیرج بشنوئی کو جب گرفتار کیا گیا اور اس سے باز پرس کی گئی تو اس نے بڑی ڈھٹائی سے کہا : مجھے اسلام اور مسلمانوں سے نفرت ہے اس لئے میں نے یہ کیا اور مجھے اس پر کوئی افسوس بھی نہیں ہے ، اس کھیل میں صرف یہ چار نوجوان نہیں ہیں ؛بلکہ اس میں ایک گینگ ہے جس کا مقصد پڑھی لکھی مسلم عورتوں کے حوصلوں کو شکست دینا ہے، ان کو ڈرانا ہے ، اور یہ گھٹیاکھیل اس ملک میں کھیلا جا رہا ہے جہاں عورتوں کو دیوی کہاجاتا ہے ، جہاں سیتا ،درگا ، کالی ماتا اور لاکھوں عورتوں کی پوجا کی جاتی ہے ، جہاں عورتوں کے نام پر لاکھوں مندر ہیں؛ مگر جن عورتوں کے خلاف مہم چلائی گئی وہ مسلم ہیں ،اس لئے من کی بات کرنے والے اورتین طلاق کے مسئلہ پر خود کو مسیحا بتانے والے صاحب نے خاموشی کی چادر تان لی ، سیکولر کا چوغہ پہن کر مسلموں کے ہمدردبننے والے سیاست کے گرگٹوں نے بھی کچھ نہیںکہا ، اس ملک کی حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مجرم کی حمایت اور مخالفت نام اور مذہب دیکھ کر کیا جانے لگا ہے ۔ کٹھوعہ میں ایک معصوم بچی کے ساتھ درندگی ہوتی ہے اور مجرمین کے حق میں ترنگا یاترا نکالی جاتی ہے؟ کیونکہ اس بچی کا نام آصفہ ہوتاہے ، راحت اندوری نے کہا تھا:
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
یہ نفرتی گینگ مسلمانوں سے نفرت کرتے کرتے، مجاہدین آزادی ،شہیدان وطن اور معماران وطن سے بھی نفرت کرنے لگا ،ماڈرن لکشمی بائی کنگنا کہتی ہے : ۱۹۴۷ میں جو آزادی ملی تھی وہ آزادی نہیں بھیک تھی ، حقیقی آزادی ۲۰۱۴ میں ملی جب بی جے پی اقتدار میں آئی ہے ،،بی جے پی یووا مورچہ اترپردیش کی ایک’’ گیانی ،،لڑکی کہتی ہے :۹۹ سال کے لئے آزادی لیز پر ملی ہے ،’کوئی کہتا ہے ’’ گاندھی کے چرخے سے آزادی نہیں ملی ہے ،،۔ ہندوستان میں لوگ پہلے ’’معافی ویر،، ساورکر کا نام لینے سے کتراتے تھے؛ مگراب فخر سے لیتے ہیں ، اسکول کی کتابوں میں اس کو بہادر ، مجاہد آزادی اورعظیم شخصیت بنا کر داخل نصاب کیا جا رہا ہے ۔ ہندو مہا سبھا نے تو مطالبہ بھی کیا ہے کہ ہندوستانی روپئوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر ساورکر کی تصویر لگائی جائے ، ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھو رام گوڈسے کا نام لینے سے ہرکوئی پہلے گھبراتا تھا؛ مگر گوالیار اور میرٹھ میں اس کی مورتی نصب کرنے اور مندر بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔رائے پور کی دھرم سنسد میں جسم و ذہن سے کا لا کالی چرن سینکڑوں سادھو سنتوں اور پولیس کے درمیان مہاتما گاندھی کو کھلم کھلا گالی دیتا ہے اور گوڈسے کوخراج تحسین کرتاہے تو سامنے بیٹھے بھگوائی تالیاں بجاتا ہے ،اور جب بعد میں کالی چرن کی گرفتاری ہوتی ہے تویہی بھگوائی ٹولہ کالی چرن اور گوڈسے کی حمایت میں نعرہ لگاتاہے، لائق غورامر یہ ہے کہ کالی چرن کی اس بدتمیزی اور بد گوئی کے خلاف راج گھاٹ پر مہاتما گاندھی کے سمادھی پر ہر سال پھول چڑھانے والے جمہوری ملک کے وزیر اعظم اوروزیر داخلہ ایک لفظ نہیں بولتے ہیں۔اس سے پہلے بھی ہندو مہا سبھا کی رکن پوجا پانڈے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو گولی مارتی اور گوڈسے کے مجسمے کو ہار پہناتی رہی ہے تاہم اس کا اب تک کچھ نہیں بگڑا ہے ۔یہ ہے ہندوستان کی نئی تصویر۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ دھرم سنسد میں موجود مہنت رام سندر داس نے اسی اسٹیج پر آ کر کالی چرن کی بھرپور مذمت کی اور بطور احتجاج پروگرام چھوڑ کر چلے گئے ۔ بلاشبہ مہنت رام سندر داس جیسے لوگوں نے اب تک ہندوستانی جمہوریت اور بین المذاہب اخوت کی لاج رکھی ہے، جس دن ان کے جیسے لوگ ہندوستان میں نہیں ہوں گے اس دن اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہوگا ۔
سوال یہ ہے کہ ہری دوار اور دہلی میں منعقد دھرم سنسد سے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ دی گئی ، مسلم عورتوں کی ’’بلی بائی ،، یا ’’سلی ڈیل،، ایپ کے ذریعے ہتک عزت و عصمت کی گئی ، اس پر مرکز اور ریاستی سرکاریں کیوں خاموش رہیں ؟رائے پور دھرم سبھا سے گاندھی جی کو گالیاں دی گئیں اور گوڈسے کی جے کارے کی گئی اس پر دیش دروہی کے دفعات کیوں نہیں لگائے گئے ؟یتی نرسنگھانند ، کالی چرن ،جتیندر تیاگی عرف وسیم رضوی(آج گرفتار ہوا ہے، سزا کا ابھی پتہ نہیں) ، ان پورنا اور پوجا پانڈے جیسے شر انگیزوں پر نکیل کیوں نہیں کسی جا رہی ہے ؟ کیا اس دن کا انتظار ہے جب ملک میں بد امنی پیدا ہوگی ، خانہ جنگی شروع ہو گی ؟اللہ نہ کرے ایسا ہو؛ لیکن اگر یہی حالات رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا اور اس کے بعدہندوستان کی نئی تصویر موجودہ تصویر سے بالکل مختلف ہو گی !
mansoorqasmi8@gmail.com