یہ وقت آپسی تکرار کا نہیں ہے-شکیل رشید

یہ جائز سوالوں کے جواب دینے کا وقت ہے تو تو میں میں اور آپسی تکرار کا وقت نہیں ہے ۔
ہندوستان اور چین کے درمیان جو ‘جھڑپ’ ہوئی اس میں بیس بھارتی جوان شہید ہوئے، گیارہ جوان چینی قبضے میں چلے گئے تھے جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا، وادی گلوان پر چین کا مکمل دعویٰ ہے، اور خبر ہے کہ وہ گلوان سے بہنے والی ندی کے دھارے کو موڑنے کے لیے کوشاں ہے، چینی فوج بلندی پر بیٹھی ہوئی ہے لہذا اسے ایک طرح سے تزویری برتری حاصل ہے، ایسے میں تو تو میں میں کی بجائے مرکزی حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ایک دوسرے کے جائز سوالوں کے جواب دینے کی اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ چین سے کیسے اس طرح نمٹا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی چین وادی گلوان پر سے اپنا دعویٰ بھی چھوڑ دے اور اس علاقے میں اس ‘جھڑپ’ سے پہلے والی پوزیشن میں واپس آ جائے ۔ یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ چین کے استعماری عزائم کسی سے بھی ڈھکے اور چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔بات صرف وادی گلوان ہی کی نہیں ہے بلکہ چین کی نظریں پورے لداخ پر گڑی ہوئی ہیں ۔ہندوستان اور چین کے بیچ ایک لمبی سرحد ہے جہاں سال بھر حالات تقریباً کشیدہ ہی رہتے ہیں ۔ کانگریسی لیڈر پی چدمبرم کا دعویٰ ہے کہ 2015 سے لے کر اب تک مودی راج میں چین سرحد پار سے 2264 بار گھس پیٹھ کر چکا ہے ۔یہ اعداد و شمار چدمبرم نے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پیش کیے کہ 2010 سے 2013 کے بیچ یعنی جب کانگریس کی حکومت تھی اور منموہن سنگھ وزیراعظم تھے چین نے 600 بار گھس پیٹھ کی تھی۔نڈا نے تو یہ دعویٰ تک کردیا کہ اس وقت کی کانگریسی حکومت نے 43000 کلو میٹر کا ہندوستانی علاقہ چین کو سرنڈر کر دیا تھا۔چدمبرم نے اپنے بیان میں نڈا کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے بی جے پی پر سخت وار کیا کہ کانگریس کے دور میں نہ تو کسی ہندوستانی علاقے پر چین قبضہ کر سکا اور نہ ہی کسی پر تشدد ‘جھڑپ’ میں بھارتی جوان مارے گئے ۔دونوں ہی جانب سے الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہے ۔ کانگریس بالخصوص سونیا گاندھی اور راہل گاندھی روزانہ ہی مودی سرکار پر چین کے معاملے میں سوال کھڑے کر رہے ہیں ۔سوالات کا اٹھانا ایک جمہوری عمل ہے اور ایسے میں سوالات ضروری بھی ہو جاتے ہیں جب سوال کرنے والے یا والوں کو قوم دشمنوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔بی جے پی نے جائز سوالوں کو بھی قوم دشمنی سے جوڑ دیا ہے، گویا یہ کہ اس ملک میں بی جے پی کی نظر میں قوم پرستی صرف اسی کی جاگیر ہے، ظاہر ہے کہ یہ ایسا رویہ ہے جو اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو مزید سوالوں پر اکسا رہا ہے ۔جب سوال حالیہ جھڑپ پر اٹھایا جاتا ہے تو بی جے پی 1962 اور ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بات کرنے لگتی ہے نتیجے میں کانگریس کا رویہ مزید سخت ہو جاتا ہے ۔ماضی کو فراموش کر کے حال پر نظر رکھنی ہو گی، ماضی پر بس اتنی نظر ضروری ہے کہ تب کی غلطیاں دوہرائی نہ جا سکیں۔1962 میں ہندوستان، چین کے مقابلے بہت کمزور تھا لیکن بھارتی جوانوں نے مقابلہ تو کیا تھا، یہ کہہ کر ان کی بہادری پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جانا چاہئے کہ ہندوستان نے چین کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اگر ماضی کے گڑے مردے اکھاڑے جاتے رہے تو حال نظروں سے غائب ہو جائے گا اور چین کو من مانی کرنے کے لیے مانگی مراد مل جائے گی ۔بہتر یہ ہوگا کہ مرکزی سرکار اس معاملے میں شفافیت برتے، اپوزیشن کے جائز سوالوں کے جواب دے ۔اور اپوزیشن مرکزی حکومت کو صرف سیاسی برتری کے لیے کٹگھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ حالات کی بہتری کے لیے حکومت سے پورا تعاون کرے۔
ملک کے لیے یہ ایک کٹھن گھڑی ہے، چین نے نیپال کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور وہ آنکھیں دکھانے لگا ہے ۔بنگلہ دیش پوری طرح سے چین کی گود میں جا کر بیٹھ گیا ہے، اور پاکستان سے کشیدگی چلی ہی آ رہی ہے ۔سری لنکا بھی روٹھا روٹھا ہے، ایسے میں ہندوستان کو ایسا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے جو پڑوسی ممالک کو چین کے دامن سے نکال بھی لائے اور اس کی سالمیت اور اقتدار پر بھی کوئی فرق نہ پڑے۔آج جبکہ کورونا کی وباء نے ملک کے معاشی حالات دگرگوں کر دیئے ہیں ملک کسی بھی طرح کی اور کسی کے بھی ساتھ لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا سیدھا مطلب تباہی ہوگا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کومتحد ہوکر اس سمت میں کام کرنا ہو گا ۔فوج اور سفارت کاری کی سطح پر مذاکرات کی جو کوششیں جاری ہیں ان کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔لیکن حقیقی حل تو سیاست دانوں کے ہی ہاتھ میں ہے اور اس کے لیے سب کا ایک رائے ہونا ضروری ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)