یہ تو اعظم خاں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے ـ قاسم سید

ممبر پارلیمنٹ اور سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خاں لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں موت وزیست کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان کی طبیعت میں رہ رہ کر آنے والے نشیب وفراز نے ان کے چاہنے والوں کی دھڑکنیں بے ترتیب کردی ہیں۔ وہ اللہ کے حضور ان کی جلد شفایابی کے لیے دعا گو ہیں۔ اترپردیش کے قدآور ، بے باک، نڈر اور بغیر الفاظ چبائے اپنا موقف رکھنے والے اعظم خاں کے تعلق سے ان کے مزاج کی درشتی، رویہ کی سختی اور لب ولہجہ میں طنز کی کھنک کے سبب بعض طبقے کے تحفظات رہے ہیں۔ بیماری کے دوران بھی یہ تحفظات پوری شدت کے ساتھ ابھر کر نظر آئے کہ مسلم لیڈروں کی اکثریت میں خاموشی ہے۔ نہ سرکار کے رویے سے شکایت ہے ، نہ سماج وادی پارٹی کی بے حسی پر کوئی سوال، اپنوں کے ساتھ سیاسی حریفوں کی آنکھوں میں کھٹکنے والے اعظم خاں کو یکہ وتنہا چھوڑ دیا گیا ہے ۔

یوگی سرکار نے ان پر 107 مقدمات دائرکیے،ان میں ایسے گھٹیا رکیک الزامات ہیں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے مورخ کو بھی شرم آئے گی۔ سیاسی انتقام کے اس گرے معیار کے لیے یوگی جی کو یاد کیا جائے گا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ لوک سبھا میں اعظم خاں نے جب پہلی تقریر کی تو اس کی گونج دور دور تک سنائی دی۔ بی جے پی قیادت کے کان کھڑے ہوگئے کہ یہ شخص اسی طرح گرجتا رہا تو جواب دینا مشکل ہوجائے گا، چنانچہ اس کے بعد یوپی سرکار حرکت میں آئی، ’’مہربانیوں‘‘ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ،تابڑ توڑ مقدمات قائم کئے گئے ،جن میں بھینس اور بکری چوری جیسے مضحکہ خیز الزامات بھی ہیں تاکہ اعظم خاں کی انانیت کو زخمی کیا جائے۔ مورال گرایا جائے، عزت نفس پامال کرنے کا ہرممکن حربہ آزمایا گیا، سیاسی حریفوں سے انتقام کا یہ بی جے پی اسٹائل ہے، کیونکہ جوہر یونیورسٹی قائم کرنے کا ’زخم‘ کم گہرا نہیں تھاکہ لوک سبھا میں طاقتور مسلم آواز نے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ یوگی سرکار کا رویہ قابل فہم ہے ،مگر حیرت تو سماج وادی پارٹی کے رویے پر ہے جس پر اعظم خاں نے اپنی پوری زندگی نچھاور کردی ۔ موجودہ قیادت کو انگلی پکڑ کر چلناسیکھا اس نے منھ پھیر لیا ۔ رسم ادائیگی کے طور پر ایک دوبار احتجاج درج کرادیا ۔یہ لڑائی تو پارلیمنٹ سے سڑک تک لڑنے کی تھی۔ عدالت میں مضبوط موجودگی کی تھی لیکن وہاں اوپر سے نیچے تک پر ہول سناٹا ہے۔ آخر کیوں ان کے کسی فعل کی سزا دی جارہی ہے کیا اس لیے کہ اب پارٹی سافٹ ہندوتو کے راستے پر چل چکی ہے ، اسے بھی مسلمانوں اور ان کی لیڈر شپ کی ضرورت نہیں رہی، کیا اس لیے کہ اعظم خاں کو چوکھٹ پر سرجھکانے کی عادت نہیں ہے، کیا اس لیے کہ وہ ان کے باپ کی وراثت ہیں اور اکھلیش جی ہر باقیات سے نجات چاہتے ہیں۔ اس بحران کے وقت میں انہیں پارٹی کا ساتھ چاہیے تھا ، حد تو یہ ہے کہ پارٹی کے مسلم لیڈران نے بھی منھ میں دہی جمالیا ہے ۔ یہ وقت حساب برابر کرنے کا نہیں ہے۔ احسان فراموشی اور خود غرضانہ سیاست کے تمام پردے کھسک رہے ہیں اور اب محسوس ہونے لگاہے کہ اعظم خاں کے تعلق سے یوگی سرکار اور سماج وادی پارٹی کی سوچ ایک ہے ۔دونوں اس دبنگ لیڈر سے چھٹکارا چاہتے ہیں ۔ یقین جانئے اختلافات اپنی جگہ،ان کاجارح مزاج ایک حقیقت ہے لیکن وہ اترپردیش کے مسلمانوں کی مضبوط ڈھال ہیں اگر اس کااحساس خدانخواستہ ان کے کھونے کے بعد ہوا تو بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ انہیں دعاؤں کی ضرورت ہے، کیا پتہ کس کی بارگاہ ایزدی میں قبول ہوجائے۔