یہ تصویریں بڑی دلخراش ہیں-سہیل انجم

گزشتہ دنوں جب اورنگ آباد میں ایک ٹرین سے کٹ کر سولہ مہاجر مزدوروں کی المناک موت ہوئی تو جائے واردات پر جہاں کئی چیزیں بکھری ہوئی تھیں وہیں چند روٹیاں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ وہ روٹیاں نہیں تھیں بلکہ مہاجر مزدوروں کی تقدیر تھی جو یوں ان سے روٹھ گئی تھی۔ وہ روٹیاں ایک بہت بڑی داستانِ دلخراش کا عنوانِ جلی تھیں جو یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ روٹی کی تلاش میں ہی انھوں نے اپنے عارضی پڑاؤ سے انخلا کیا تھا اور ورٹی ہی کی وجہ سے ان کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔ یہ روٹی اِن دنوں علامت بن گئی ہے مہاجر مزدوروں کے کربناک شب و روز کی۔ جب ایک کارٹونسٹ کی نظر سے وہ روٹیاں گزریں تو اس نے ایک کارٹون بنایا جس میں ہلاک شدگان کی روحیں ریلوے کے کارپردازوں سے گزارش کر رہی ہیں کہ ان روٹیوں کو ہمارے گھر والوں تک پہنچا دینا، انھیں ان کی ضرورت ہے۔ یہ جملہ بڑا معنی خیز ہے اور اس میں دنیا جہان کا درد سمٹ آیا ہے۔ اسی طرح جو لاکھوں اور کروڑوں مزدور اس وقت ملک بھر کی سڑکوں پر بے یار و مددگار رواں دواں ہیں ان کو بھی تصویروں کے ذریعے اور کارٹونوں کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر بلکہ ایک خاکے پر نظر پڑی جو ان مہاجر مزدوروں کے دل دوز سفر کی داستان سناتا محسوس ہوتا ہے۔ فنکار نے تلے اوپر دو روٹیاں بنائیں اور ان روٹیوں پر کسی شاہراہ سے گزرنے والے ایک خاندان کا عکس ابھارا۔ عکس میں ایک مرد بچے کو گود میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی ہے جو سر پر ایک گٹھر رکھے ہوئے ہے اور اس کی انگلی ایک بچہ تھامے ہوئے ہے۔ چار افراد کا یہ کنبہ اس شاہراہ پر اپنی اس منزل کی جانب رواں دواں ہے جس کا علم تو اسے ہے مگر یہ علم نہیں ہے کہ وہ اس منزل پر کب پہنچے گا اور کیسے پہنچے گا۔ یہ تصویر بھی ایک بھوکے خاندان کی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی کی زندہ علامت بن گئی ہے۔
تصویروں کے یہ دلخراش مناظر یہیں ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ان کا سلسلہ دراز بہت دور تک جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ان مہاجر مزدوروں کی تصویروں میں کئی تصاویر تو بے حد بھیانک لگیں۔ وہ تصویر تو بڑی دلدوز تھی جس میں ایک چھوٹے سے سیمنٹ روڑی مکسر میں لوگ سفر کرتے نظر آئے۔ اندور سے ایک ٹرک چلا۔ ٹرک پر ایک مکسر لدا ہوا ہے۔ کچھ دور چلنے کے بعد پولیس والوں کو شبہ ہوتا ہے۔ وہ ٹرک رکواتے ہیں اور مکسر کا جائزہ لیتے ہیں۔ جانچ کے دوران یہ راز کھلتا ہے کہ اس چھوٹے سے گول مٹول مکسر کے پیٹ میں اٹھارہ نوجوان سمٹے سمٹائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پولیس کی ہدایت پر وہ مکسر کے انتہائی چھوٹے سے سوراخ سے یکے بعد دیگرے نکلتے ہیں۔ پہلے پیر نکلتا ہے۔ پھر دھڑ نکلتا ہے۔ پھر سر نکلتا ہے اور آخر میں بیگ نکلتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر اس کے اندر اتنے سارے لوگ کیسے سما گئے اور کیسے زندہ تھے۔ کیونکہ اس میں نہ ہوا کا کوئی گزر تھا اور نہ ہی کسی دوسری چیز کا۔ اس کے اندر ان کی زندگی موت کے رحم و کرم پر تھی۔ لیکن وہ لوگ بھی کیا کرتے۔ یوں بھی ان کی زندگی موت کے رحم و کرم پر ہے۔ انھیں یہی بہتر لگا کہ وہ مکسر کے پیٹ میں سما جائیں، کیا پتہ اسی کے توسط سے وہ اپنے گھر تک پہنچ جائیں۔
اپنے گھر تک پہنچ جانے کے لالچ میں آج کروڑوں مزدوروں نے شاہراہیں آباد کر رکھی ہیں۔ پچاس روز سے وہ بھوکوں مر رہے ہیں او چل رہے ہیں۔ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جہاں وہ کام کرتے تھے وہاں کام بند ہو گیا۔ مکان مالک یا تو ان سے کرایہ مانگتا ہے یا پھر کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انھیں گھر سے نکال دیتا ہے۔ اب ان مزدوروں کے سامنے سوائے ہجرت کے اور کیا رہ جاتا ہے۔ افتخار عارف کا یہ شعر پہلے کبھی حالات پر فٹ بیٹھا ہو یا نہ بیٹھا ہو لیکن آج ان مزدوروں پر بھرپور طریقے سے فٹ بیٹھ رہا ہے:
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
یوں تو یہ شعر روزی روٹی کی تلاش میں شہر شہر بھٹکنے والوں کے لیے کہا گیا ہے لیکن ان مزدوروں سے زیادہ اس شعر کا مستحق آج کون ہو سکتا ہے جن کے شکم میں لگی ہوئی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب اس پردیس میں پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور کرونا کی دہشت الگ سے ہے تو پھر کیوں نہ اپنے آبائی وطن ہی کو چلے جائیں جہاں کم از کم سب اپنے تو ہوں گے۔ جہاں کوئی فیکٹری مالک یہ تو نہیں کہے گا کہ فیکٹری بند ہو گئی ہے اب تمھارا کوئی کام نہیں ہے۔ جہاں کوئی مکان مالک یہ تو نہیں کہے گا کہ یا تو کرایہ دو یا مکان خالی کر دو۔ وہاں سب اپنے ہوں گے۔ بھوک سے مریں گے تو بھی اپنوں کے درمیان اور کرونا سے مریں گے تو بھی اپنوں کے درمیان ۔ گویا مرنا ان کا مقدر ہے۔ یہاں نہیں وہاں سہی۔ لیکن اس بات میں بھی کتنی آسودگی ہے کہ اپنے لوگوں کے درمیان مریں گے جہاں کندھا دینے والے بھی اپنے ہوں گے اور رونے والے بھی اپنے۔ اسی لالچ میں آٹھ آٹھ اور نو نو ماہ کی حاملہ عورتیں بھی پیدل چل رہی ہیں۔ حالانکہ یہ وقت ان کے آرام کا ہے۔ ان کو تو چاہیے تھا کہ وہ اپنے گھر پر پڑی رہیں، آرام کریں اور بچے کی پیدائش کا انتظار کریں۔ لیکن ایسا کیسے ممکن ہے۔ اگر یوں ہی بیٹھ کر بچے کی پیدائش کا انتظار کریں گے تو زچہ بچہ دونوں کی زندگی بھکمری کا شکار بن جائے گی۔ ایسی ایک خاتون جو بالکل پورے پیٹ سے تھی پیدل چلنے کے دوران ہی ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔ رپورٹوں اور تصویروں کے مطابق سڑک پر بچے کی ولادت ہوئی اور ولادت کے دو گھنٹے بعد پھر اس خاندان نے اپنا پیدل سفر شروع کر دیا۔ اس کا شوہر، دو بچے اور وہ خاتون جس نے ابھی دو گھنٹے قبل ہی ایک بچے کو سڑک پر پیدا کیا ہے پھر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہاں عزم و حوصلہ کہنا اتنا درست نہیں۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نئی مجبوریوں کے ساتھ چلناشروع کر دیتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اس خاتون پر کیا گزری ہوگی اور اس کا شوہر کیا سوچتا ہوگا۔ عام حالات میں ایک بچے کی پیدائش پر گھر میں خوشیوں کے شادیانے بجنے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ انتہائی بے بسی و بے کسی کے عالم میں ولادت ہوتی ہے۔ وہ بچہ بھی جب بڑا ہوگا اور اسے یوں خود کو دنیا میں آنے کا علم ہوگا تو اس پر کیا گزرے گی۔ وہ یہی سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہے گا کہ اس کے والدین کن حالات میں اسے دنیا میں لانے پر مجبور ہوئے تھے۔ تصویروں کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اس ضعیف خاتون کی حالت دیکھ کر تو دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جس کے دونوں پاو ¿ں بڑے بڑے چھالوں سے بھر گئے ہیں۔ چھالے پھوٹ جاتے ہیں اور تلوے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی چلنا اس کی مجبوری ہے۔ ایک شخص کے تلووں پر چلتے چلتے جلد کی ایک پرت ادھڑ گئی اور پھر بھی وہ شخص چل رہا ہے۔ ایک تصویر میں ایک خاتون ایک سوٹ کیس میں رسی باندھے اسے گھسیٹتی ہوئی لے جا رہی ہے اور ایک بچہ اس پر سو رہا ہے۔ ایک کارٹونسٹ نے اس پر ایک کارٹون بنایا اور بچے کو نظامِ حکومت سے تعبیر کیا۔ یہ تصویر در اصل ان مزدوروں کے تئیں حکمرانوں کی بے حسی پر ایک بھرپور طنز ہے۔
پچاس روز سے چل رہے ان کروڑوں مزدوروں کی داستان بڑی ہی دل شکن ہے۔ وہ جہاں ان کی اپنی بے بسی کو بیان کر رہی ہے وہیں ارباب حکومت کے رویے کے سلسلے میں چیخ چیخ کر گواہی بھی دے رہی ہے۔ اگر چہ حکومت نے اب ان کی واپسی کے لیے ٹرینوں کا انتظام کیا ہے لیکن ٹرین کی برتھ تک پہنچنا بھی کارِ دارد ہے۔ کئی دنوں تک پوری ایک تھکا دینے والی جنگ لڑنے کے بعد ایک مزدور اپنی برتھ تک پہنچ پاتا ہے۔ یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوتی، اس کا سلسلہ بڑا دراز ہے۔ اس وقت پورا ملک ایک بہت بڑے انسانی المیے سے دوچار ہے۔ شاید ایسا انسانی المیہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلے نہیں آیا ہوگا۔ یہ المیہ تقسیم ملک کے المیے سے بالکل مختلف ہے۔ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا ایک عذاب میں مبتلا ہے۔ لیکن ایسے المیہ سے جس سے ہندوستان گزر رہا ہے شاید ہی دنیا کا کوئی اور ملک گزر رہا ہو۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)