یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کووڈ19 کی وجہ سے کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ کووڈ 19 وبا کی وجہ سے اتنے بڑے ملک میں کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اس نے ریاستی حکام سے ان کی شناخت فوری طور پر کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ان کو راحت مل سکے۔عدالت نے ریاستی حکومت سے سڑک پر بھوک سے تڑپن رہے بچوں کی اذیت کو سمجھنے کےلیے کہا اور ضلعی حکام کو ہدایت دی کہ وہ عدالتوں کے مزید احکامات کا انتظار کئے بغیر فوراان کی دیکھ بھال کی جائے۔جسٹس ایل این راؤ اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے ضلعی انتظامیہ کو ہفتہ کی شام تک یتیم بچوں کی شناخت کرنے کی ہدایت دی اور ان کی معلومات قومی چائلڈ کرائم پروٹیکشن کمیشن (این سی پی سی آر) کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت دی۔سپریم کورٹ نے یہ حکم از خود نوٹس کےلیے زیر التواء کیس میں جسٹس گورگ اگروال کی درخواست پر دیا ۔ اس درخواست میں ریاستی حکومت نے یتیم بچوں کی شناخت کرنے اور انہیں فوری امداد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو ان بچوں کی صورتحال اور انہیں فوری امداد فراہم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں انہیں آگاہ کرنا چاہئے۔عدالت نے کہاکہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ مہاراشٹرا میں 2900 سے زیادہ بچے کووڈ 19 کے باعث یا تو اپنے والدین یاکسی ایک سے محروم ہوگئے ہیں، ہمارے پاس ایسے بچوں کی صحیح تعداد نہیں ہے، ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس تباہ کن وبا کی وجہ سے اتنے بڑے ملک میں کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے وکیل سے کہاکہ مجھے امید ہے کہ آپ سڑکوں پر بھوک سے دوچار بچوں کی تڑپ سمجھیں گے۔براہ کرم ریاستی حکام سے ان کی بنیادی ضروریات کا فوری خیال رکھنے کو کہیں۔ عدالت عظمی نے کہا کہ مرکز نے پہلے ہی متعلقہ حکام کو بچوں کے تحفظ کے لیے مشورے جاری کردئے ہیں جو کووڈ 19 کے باعث اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔