یہ صرف اعظم خان کی تصویر نہیں ہے ـ سمیع اللہ خان

 

جیل جانے سے پہلے تو اعظم خان ایسے نہیں تھے، ان کا بولنا طاقت ور ہوتا تھا جیل جانے سے پہلے کی ان کی تقاریر، پارلیمنٹ سے لے کر رامپور میڈیا خطاب تک دیکھ لیجیے، کیا گھن گرج تھی ان کی آواز میں، سَنگھ کو ایسی مسلمان آواز سے فطری الرجی تھی کیونکہ جب وہ بولتے تھے تو لگتا تھا کوئی باوقار انسان بول رہاہے، وہ چلنے پھرنے میں بھی صحت مند اور توانا تھے، پھر جیل جانے کےبعد سے ان کی صحت بگڑتے بگڑتے اس حال تک جاپہنچی !
مجھے بالکل یقین نہیں کہ یہ سب قدرتی امر ہے، اترپردیش سے باہر نکال کر ان کے جسم کی مکمل باریکی سے جانچ ہونی چاہیے، انہیں کیا کھلایا جاتا رہا، کھانے پینے سے لے کر دوائیوں تک کا، بالکل شفاف ہاتھوں میں یہ معائنہ ہونا چاہیےـ

موجودہ یوگی سرکار کے نشانے پر وہ براہ راست ہیں، وزیراعلیٰ یوگی کے انتقامی مزاج اور دشمنانہ سیاست سے کون ناواقف ہے؟ آر ایس ایس اور بھاجپا کو مسلمانوں کے درمیان کسی بھی طاقت ور آواز سے کس درجہ دشمنی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے وہ کس حد تک گر سکتےہیں کیا یہ اب بھی ڈھکا چھپا ہے؟ فرزندِ بہار شیرِ سیوان سید شہاب الدین کےساتھ کیا ہوا ؟ وزیراعلیٰ یوگی نے اپنے مکمل سامراج میں اپنے سیاسی دشمنوں پر انتہائی سفاکیت کےساتھ بلڈوزر چلوانے سے لے کر انکاؤنٹر کروانے تک کیسی بےشرمی کا مظاہرہ کیا ہے، کیا یہ مخفی ہے؟ توپھر صحیح سالم اور صحت مند حالت میں جیل پہنچنے والے اعظم خان جیسے قدآور مسلم لیڈر کے جیل پہنچنے کےبعد سے تشویش ناک طبی صورت حال پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیوں کر لیا جائے؟ ایک ایسا آدمی جس نے موجودہ وزیراعلیٰ یوگی کو کسی وقت ناکوں چنے چبوائے تھے اس کے سلسلے میں یوگی کی ہی ریاستی مشنری پر اعتماد کرنے میں بھلا کوئی معقولیت بھی ہے؟ آر ایس ایس وادی برہمن حکمرانوں کی طرف سے بھی اعظم خان کے خلاف ہری جھنڈی یقینًا ہے کیونکہ اعظم خان نے سرسید جیسا کوئی کام کرنے کی کوشش کی تھی انہوں نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی شروعات کی تھی، ایسےمیں اعظم خان کو ان لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں، اور ملت کے لیڈروں کو متوجہ کرانے کی کوشش بھی کی ہے اور ابھی بھی دہراتا ہوں کہ میں ایک منٹ کے لیے بھی یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ اعظم خان محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی طبیعت قدرتی امر ہے، اگر آج کی ہندوستانی سیاست میں ايسے بھروسے کیے جانے لگے تب ہندوتوا کے حکمرانوں کو ” ننھی گائے ” بھی مان لینے میں کیا حرج ہےـ
اگر آپ آج اعظم خان کو اس حالت میں کسی بھی فاسد وجہ سے چھوڑنے پر راضی ہیں تو آپ اپنے ہاتھوں سے اپنی تاریکی لکھ رہے ہیں، سیکولر اور لبرل دوست نما بہروپیوں کا انتظار بیکار ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی طاقت ور مسلمان کے خاتمے پر اندر ہی اندر سب سے زیادہ خوش ہوتےہیں ۔
اعظم خان ہمارا ہے، ہماری ملت کا حصہ ہے اور ملت کے حوالے سے ہی جانا پہچانا جاتاہے، اس لیے وہ ہماری ذمہ داری میں سب سے پہلے ہے، المناک صورتحال ہےکہ سیاسی مذہبی و ملی لیڈرشپ نے اعظم خان کےساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔
قبل ازوقت ہوش کے ناخن لیجیے، اعظم خان کو اترپردیش سے دور لے جاکر ان کا علاج محفوظ ہاتھوں میں کروایا جانا چاہیےـ