یہ سفر جاری رہے-ڈاکٹرپرویز شہریار

drspahmad@gmail,com

 

چاند ستارے

سورج اور زمین

سب اس کے چلنے کے سبب ہی

چل رہے تھے

جب سے اس نے اپنے

دونوں پاؤں پر چلنا سیکھا تھا

تب سے وہ مسلسل

چل رہا تھا

اسے لگتا تھا

اگر اس نے چلنا بند کر دیا تو

یہ کائنات بھی تھم جائے گی

 

جب وہ چلا تھا

تب بھی وہ تنہا تھا

حق و باطل کی جنگ میں

آج بھی وہ تنہا ہے

 

نصف سے زیادہ دُنیا اسے ملنگ سمجھتی ہے

کوئی اسے دہشت گر کہتا ہے

لیکن وہ ہمہ وقت محو سفر رہتا ہے

اسے معلوم ہے کہ

یہ کائنات

اس کی جان کا صدقہ ہے

جو لوگ اس کے ساتھ تھے

انھوں نے دیکھا:

دیو ہیکل ماہی بھی اسے ہضم کر نہیں پائی

 

 

 

بلند و بالا شعلوں کی لپٹ

اس پر ہو گئی تھی ٹھنڈی

اس نے موج در موج

متلاطم دریا میں جست لگا ئی جب کبھی

تب دریا نے بھی

اپنی آغوش میں پناہ دے دی

اس کی اگوائی میںباہیں پھیلا دی تھیں اپنی

وہ عظیم الشّان کشتی کا جب نا خدا بنا

تو دشت و صحرا بھی

سایہ فگن ہو گئے تھے سبھی

 

دختر کشاں اور غلاموں کے سودا گراں

رذیل و بردہ فروش

اس پر فقرے کستے تھے؍کستے ہیں

لیکن وہ منافقین کے نر غے میں بھی

ہمیشہ ثابت قدم رہا

 

وہ چل رہا تھا

تو صرف اپنے اصولوں کی بر کات سے

وہ اغیار سے بھی پیش آتا تھا

بہت عدل و مساوات سے

غلاموں کی آزادی کا تھا وہ علمبردار

عورت کوجنت سے بلند و بالا

اس نے ٹھہرایا

پانچ قدم وہ دن بھر میں چلتا تھا ‘بس

ان پانچ قدموں پر

اچھے اچھے تپسّوی بھی نہ چل پائے کبھی

 

 

پاؤں متورم ہو جانے پر بھی وہ چلتا رہا ——- مستانہ وار

بازار ِ مصر کی نیلامی ہو

ہو یا روم کے حکمرانوں کی غلامی

وہ تب بھی تنہا تھا

وہ اب بھی تنہا ہے

وہ چل رہا ہے

کہ دُنیا چلتی رہے

اسے لگتا تھا ؍ لگتا ہے

جس دن وہ چلنا بند کر دے گا

یہ کائنات بھی تھم جائے گی

آؤ! ہم سب مل کے یہ دعا مانگیں

کبھی ختم نہ ہو اُس کا یہ سفر

دو پیروں کا یہ سفر

جاری رہے

بقائے انسانیت کا یہ سفر

تمام تنگ نظروں کی

سازشوں پر

بھاری رہے

یہ سفر جاری رہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*