یہ مرے خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی ـ شاہ رخ عبیر 

 

یہ مرے خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی

آپ کے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہو سکتی

 

مجھ پہ تنہائی میں حیرت کا غضب کھلتا ہے

اب مرے درد کی تشہیر نہیں ہو سکتی

 

دیکھ کر شہر کو ویران یہ سورج نے کہا

وقت کے پاؤں میں زنجیر نہیں ہو سکتی

 

تجھ کو چھونے سے مچلتا ہے یہ خوشبو سا بدن

مجھ سے اب عشق میں تقصیر نہیں ہو سکتی

 

گھر کی دیوار پہ اتراتی گلہری دیکھو

یہ کسی طور بھی تصویر نہیں ہو سکتی

 

اس زمانے کو نئی راہ دکھانی ہے مجھے

اب کہیں کوئی بھی تاخیر نہیں ہو سکتی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*