یہ میرا ملک نہیں ہے ـ مشرّف عالم ذوقی

رنجن گگؤیی نے بابری مسجد کا فیصلہ سنایاـ چالیس دن تک عدالت چلتی رہی اور عدالت نے قبول کیا کہ رام جنم بھومی کا معاملہ بہت حد تک فرضی ہےـ مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا، فیصلہ آیا، جہاں سب کچھ فرضی تھا ، وہ جیت گئے، کہا گیا کہ عقیدے کی بنا پر فیصلہ سنایا گیا ہےـ یہ بھی کہا گیا کہ ایسا نہ ہوتا تو ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو جاتے ـ عقیدہ ہندوؤں کے پاس تھا،عقیدہ مسلمانوں کے پاس نہیں تھا . دو انصاف دو قانون کی جو واہیات شکل عدلیہ نے پیش کی ، اس کی نظیر ساری دنیا میں نہیں ملے گی،اس وقت بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ پھر سیدھے سیدھے فیصلہ دے دیتے ، چالیس دن تک سنوائی کی کیا ضرورت تھی ـ
بابری مسجد کے مجرم بری ہو گئے . تمام شواہد آج بھی سرچ کرنے پر مل جائیں گے . جوشی کے کندھے پر سوار اوما بھارتی، دہشت گردکدال پھاوڑوں کے ساتھ اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے لاکھوں کا مجمع اور اس سے قبل دہشت اور وحشت کا رتھ ، جو جمہوریت کی سڑکوں کو روندتے ہوئے بڑھا ، اور اس وقت رتھ کے مہارتھی اڈوانی کو کہاں علم تھا کہ وقت نے انھیں ایک ایسے بلیک ہول میں پھیکنے کی تیاری کر لی ہے کہ ان کی باقی زندگی ان کے لئے بوجھ بن جائے گی . فیصلہ ٢٨ برس بعد آیا . فیصلہ سنانے والا جج اسی دن ریٹائر ہونے والا تھا، اس نے اخبار نہیں دیکھاتھا،ٹی وی پر دہشت گردوں کے حملے نہیں دیکھ تھے،اس نے کہا ، دھول اڑ رہی تھی اور کسی کا چہرہ واضح نہیں تھا،صرف اتنا بتانے میں ٢٨ برس لگ گئےـ
ہاتھرس ، بلرام پور – ھاتھرس میں یوگی کی پولیس رات تین بجے منیشا کے جسم پر پیٹرول ڈال کر آگ لگا دیتی ہےـ منیشا کا ریپ اور قتل کرنے والوں کی حمایت کرتی ہے . بڑی ذات کے ہندو لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر عصمت دری کرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں ـ پیٹرول ڈال کر آگ لگانے والے نر بھکشی کو موت کی سزا کیوں نہ دی جائے ؟ آر ایس ایس نے اس جاہل ڈھونگی کو وزیر ا علی کی کرسی دیتے ہوئے یہ ضرور غور کیا ہوگا کہ اسی جاہل شخص نے اپنی تقریر میں مسلمان عورتوں کو قبر سے نکال کر بلاتکار کرنے کو کہا تھا، جو مسلمانوں کو قبرستان بھیجے وہ وزیر ا علیٰ،جو قبر سے نکال کر ریپ کرنے کو کہے ، اسے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تحفے میں دی جائے، میڈیا نے آواز بلند کی،مگر مجھے اس میڈیا پر بھروسہ نہیں ہے،جب میڈیا کو مزید قاروں کے خزانے کی تلاش ہوتی ہے تو اس کی آواز بدل جاتی ہے . ایک زمانہ تھا ، جب ارنب گو سوامی بھی فسطائی طاقتوں کے خلاف چیختے تھے .قیمت مل گئی تو فسطائی طاقتوں کے لئے چیخنے لگے .کردار بدل گیا . اسی فیصد کانگریسی این ڈی اے کا حصّہ بنے،کردار بدل گیا . ملک غارت ہوا .کوئی آواز نہیں .ملک تباہ ہوا .کوئی آواز نہیں، کروڑوں کے روزگار گئے ، کوئی آواز نہیں ـ کسانوں کو کمزور کرنے کے لئے قانون آیا ، کوئی آواز نہیں،مسلمان سڑکوں ، شاہراہوں ، گلیوں میں مارے جاتے رہے اور میڈیا کے آتشی بیانات انھیں ہلاک کرنے کے لئے مخالفت کی صدا بلند کرتے رہے . اس میڈیا پر بھروسہ نہیں ـ
ایک برس قبل ٹائم میگزین رپورٹ کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا تھا . جائزے میں مودی کو ، ملک کو تقسیم کرنے والا قرار دیا گیا . ایک دنیا ہماری سیاست پر نظر رکھ رہی ہے . کیا حقیقت میں تقسیم کے راستے کھل گئے ہیں ؟
فسطائی طاقتیں انسانی نفسیات کا مطالعہ رکھتی ہیں۔ ہٹلر کے پاس بھی فدایین تھے –جو اسکے اشاروں پر ایک لمحے میں جان دے دیا کرتے تھے — ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے بد تر ہوئے جا رہے ہیں ـ حکومت یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے کیا کیا تدبیریں کی جا سکتی ہیں .ہم مسلسل شکست سے دوچار ہوتے رہے . تمام فیصلے ہمارے خلاف ،انصاف دو حصّوں میں تقسیم،حکومت کے پاس مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے ایک لمبی فہرست ہے ـ پھر ایک کے بعد دوسرا نشانہ لگنا شروع ہو جاتا ہے-حکومت کی فسطائی منطق کے سامنے آپ بے بس اور مجبور ہیں۔ممکن ہےکہا جائے لاوڈ اسپیکر پر اذان نہ دیں،محلے میں ایک مسجد کی جگہ تین مسجدیں کیوں ؟ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی آپکو زیر کیا جائے گا .یاد کیجئے حکومت بننے کے ساتھ ہی راج ناتھ سنگھ نے پہلا بیان ملک کے سیکولر اور لبرل کردار پر دیا تھا .در اصل فسطائی طاقتوں کو ان دو لفظوں سے ڈر محسوس ہوتا ہے — فسطائی طاقتیں پوری شدّت اور منصوبوں کے ساتھ مذہب ،مشترکہ وراثت پر حملہ کر رہی ہیں . کیا یہ تقسیم کی شروعات نہیں ہے ؟ ہماری ملت اور گنگا جمنی تہذیب کو چند برسوں میں کچلنے کی سازش ہوئی ہے ۔ تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر پر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جاتا تھا ۔لیکن نئی فسطائی تھذیب نے آپس کی دوستی کو مضبوط کرنے کا خوبصورت بہانہ بھی ہم سے چھین لیا ہے۔پرب تیوہار کے موقع پر سب سے بڑا خطرہ فرقہ وارانہ فساد کا ہوتا ہے ۔ایک مخصوص نظریہ کے لوگوں نے ملت ،اخوت بھائی چارگی کے درمیان زبردست دیوار حائل کر دی ہے .پچھلے کچھ برسوں میں ہم لگاتار ایسے موقعوں پر حادثوں سے دوچار ہوتے رہے ہیں دو برس 26 جنوری کے موقع پر کاس گنج میں ،ہم دیکھ چکے ہیں کہ قومی پرچم لہرانے کے جذبے کو بھی کس طرح ایک مخصوص نظریہ کے لوگوں نے کچلنے کی کوشش کی۔ہماری حب الوطنی بھی ان لوگوں کو منظور نہیں ۔ کاس گنج کے معصوم مسلمانوں نے اپنے دل کی آواز سنی اور پرچم لہرانے کی کوشش کی تو بھگوا بریگیڈیر نے نہ صرف انکے معصوم جذبوں کو ٹھیس پہچایی بلکہ جب صورت حال نازک ہوئی تو حب الوطن مسلمانوں پر پولیس نے گرفتاری کے بعد غداری کی دفعہ بھی لگادی اور سیکو لرزم کے صدیوں پرانے لباس کو تار تار کر دیا۔. ہندوستان آھستہ آھستہ تقسیم کی طرف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے . زیادہ تر مخالف بیانات کا پس منظر یہ ہے ،کہ دنگے بھڑکے نفرت کا پر تشدد ماحول پیدا ہوا۔ملک کے حالات خراب ہوئے۔ ملک کے مختلف حصّوں میں آگ لگی۔انسانیت داغدارہوئی — سامانوں کو نقصان پہچا۔. ایسے اشتعال انگیز بیانات سامنے اہے جنہونے گووند پانسرے ،بھولکر ،کلبرگی ، پہلو خان ،اخلاق کو مارنے میں نمایاں کردار ادا کیا .یہ وحشت اور دہشت کو زندہ کرنے والے ملک مخالف بیانات تھے جنہوں نے گاو رکشکوں کے متعدد مشتعل ہجوم کو پیدا کیا .انکے تشدد کے واقعات سڑکوں پر آج بھی عام ہیں ـ پاکستان اور قبرستان بھیجو جیسے نعرے دینے والے ،قانون اور آئین کی شق سے کس دائرے میں آتے ہیں ؟۔کیونکہ ایسے ہر اشتعال انگیز بیان کے بعد فسادات ،انسانوں کی ہلاکت ،جان و مال کے نقصان جیسی خبریں سامنے آی ہیں ۔اس مکمل جایزے پر آئیے تو بیشتر نیوز چینل اور میڈیا ہندوستانی جمہوریت کا مذاق اڑاتا ہوا نظر آتا ہے .۔۔ان میں سے زیادہ تر چینلوں نے مخالف آگ بھڑکا کر انسانی جانوں کا زیاں کیا ہے۔اور آج بھی کر رہے ہیں . ترسیل اور ابلاغ پر حکومت کا دباو قایم . ہے . اخبارات اور ٹی وی چنیلز سے اعتماد اٹھ چکا ہے ۔ الیکشن کمیشن اور عدالتیں بھی شک کے دائرے میں ہیں . متھھی بھر سیکولر لوگوں کی بے چینی بتاتی ہے کہ ملک کہاں جا رہا ہے ۔یہ میرا انڈیا نہیں ہے . ایک مخصوص نظریہ کی پارٹی نے شہہ اور مات کاایسا کھیل شروع کیا ہے ، جس کے صفحات عالمی سیاست کے لئے بھی نئے ہیں۔
حکومت کے تمام سیاسی مہرے پٹ چکے ہیں . ہر طرح کی ناکامیاں سامنے ہیں . پھر بھی سیاست کے ان گلیاروں میں جشن ہے . کیونکہ زعفرانی بندر ان کے ساتھ ہیں . تازہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کیا ملک ایک بڑے انقلاب کے لئے تیار ہے ؟ ایسا لگتا نہیں ہے . انتخابات میں شکست و فتح کے کھیل کا کویی مطلب نہیں رہ گیا . این ڈی اے شکست خانے کے بعد مہرے خرید کر حکومت بنا لیتی ہے . یہ کوئی اور ملک ہے ـ یہ میرا ملک نہیں ہے ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*