یہ لوح مزار تو میری ہے ـ اشعرنجمی

(دوسری قسط)

میں ایک بات بتانا بھول گیا تھا کہ ‘شعر، غیر شعر اور نثر’ خریدنے سے پہلے میں لکھنا شروع کرچکا تھا۔ کلکتہ سے ایک ہفتہ وار اخبار نکلتا تھا، ‘فلم ویکلی’، جس کے مدیر احساس گونڈوی مرحوم ہوا کرتے تھے۔ اس اخبار میں میرے ‘منی افسانے’ شائع ہوا کرتے تھے جنھیں اب ‘افسانچہ’ کہا جاتا ہے اور بالکل اسی طرز پر لکھتا تھا، جیسے آج کل افسانچے کے نام پر لوگ لطیفے لکھتے ہیں۔ اس وقت میری عمر یہی کوئی انیس بیس سال کے آس پاس رہی ہوگی۔ ہر اشاعت کے بعد میں ‘فلم ویکلی’ کے متعلقہ شمارے کی چار پانچ کاپیاں خرید لیتا تھا۔ میرے والد بھی خو ش تھے اور اخبار کی ایک کاپی لے کر وہ اپنے دوستوں کو دکھاتے پھرتے۔ ابا کا محلے میں اچھا خاصا دبدبہ تھا ، وہ کئی فلاحی کمیٹیوں سے وابستہ تھے۔ سو ہر شام ہمارے گھر کے باہر بیٹھک ہوا کرتی تھی جہاں ریٹائرڈ ملازموں سے لے کر پنواڑی تک جمع ہوتے ، ریڈیو پر 9 بجے آنے والی بی بی سی نیوز اور اس کے بعد نشر ہونے والی ‘سیر بین’ سنتے اور مابعد اس پر ماہرین سیاست کی طرح تبصرے شروع ہوجاتے۔ میری ہر ‘منی کہانی’ پر سب سے زیادہ داد کے ڈونگرے وہیں برسائے گئے ۔
اچھا پھر، میرا حوصلہ بڑھا تو ملک سے شائع ہونے والے دیگر رسائل کی طرف میں نے نظریں گھمائیں۔ ‘روشن ادب’ میں ایک مضمون چھپا تو میں نے خود کو اہم سمجھنا شروع کردیا اور اس وقت تو غضب ہی ہوگیا جب ‘شاعر’ کے ایک شمارے میں میرا خط چھپا، اب میرا سر ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا۔
لیکن یہ طلسم اس وقت ٹوٹا جب بدرعالم خلش اور ارمان شباب (ابرارمجیب) نے ‘شب خون’ کے حوالے سے ایک قصہ مجھ سے شیئر کیا۔ قصہ یوں تھا کہ پرکاش فکری (جو شب خون میں برابر چھپتے تھے) نے صدیق مجیبی ( جو اپنی خوب صورت شاعری اور بڑ بولے پن کے سبب کافی معروف تھے) کو چیلنج کیا کہ میں تمھیں اس دن بڑا شاعر تسلیم کروں گا جب تمھاری غزل ‘شب خون’ میں شائع ہوجائے گی۔ ‘شب خون’ میں ہر کس و ناکس اور ہر آڑی ٹیڑھی چیزیں کبھی نہیں چھپیں، فاروقی اور شب خون سے کچھ اردو ادیبوں کی ناراضگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انھیں وہاں جگہ نہیں مل پاتی تھی۔ خیر صدیق مجیبی اس چیلنج پر خاموش ہوگئے۔ لیکن تقریباً دو ماہ بعد ایک رات جب پورا رانچی شہر سو رہا تھا، پرکاش فکری کے گھر کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا۔ پرکاش فکری نے آنکھیں ملتے ہوئے دروازہ کھولا، سامنے نشے میں دُھت صدیق مجیبی ‘شب خون’ کا وہ تازہ شمارہ لیے کھڑے تھے جس میں ان کی کئی غزلیں ایک ساتھ چھپی تھیں ، وہ ایک ہی تکرار لگائے ہوئے تھے، "مان سالے، میں بڑا شاعر ہوں۔”
اس قصے نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ میں بھی جب تک ‘شب خون’ میں نہیں چھپ جاتا ، تب تک یہ ‘سالے’ بھی مجھے بڑا ادیب تسلیم نہیں کریں گے۔ اب میری چھٹپٹاہٹ شروع ہوگئی۔ میں نے شب خون کا مزاج سمجھنے کے جمشید پور کی سب سے بڑی اردو لائبریری ‘مسلم لائبریری’ کا رخ کیا۔ مسلم لائبریری میں مسلمانوں جیسی کوئی بات نہ تھی ، شاید اردو کے متبادل کے طور پر انھوں نے ‘مسلم ‘ کا لاحقہ لگا لیا تھا اور اس غلط فہمی کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالا تھا کہ اردو صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں اور اس زبان پر اجارہ صرف ان ہی کا ہے۔ خیر، اس لائبریری کی ممبر شپ لے کر میں نے ‘شب خون’ کے شمارے ایشو کرانے شروع کردیے۔ کئی پرانے شماروں کو بالترتیب یکجا کرکے ان کی جلد بندی کرلی گئی تھی ، سو میں نے کافی کم عرصے میں سارے پرانے شمارے چاٹ لیے۔ مجھے اس وقت پتہ نہیں تھا کہ صرف ‘شب خون’ میں چھپنے اور خود کو ‘بڑا ادیب’ منوانے کی ہوس میں فاروقی مجھے ‘ٹریپ’ کرنا شروع کرچکے تھے، غیر شعوری طور پر میری ذہنی آبیاری ہو رہی تھی، میرے سانچے بدل رہے تھے، میرا مذاق بدل رہا تھا۔ میں نے اس وقت نوٹس نہیں کیا تھا لیکن آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھ پر انکشاف ہوتا ہے کہ دکانوں پر دیدہ زیب سرورق والے رسائل اب میرے لیے کشش کھوچکے تھے اور وہ مسکین صورت ‘شب خون’ اچانک میری توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس وقت تک ادب میرے لیے وظیفہ حیات بن چکا تھا ، ہرگز نہیں، بلکہ محض ‘بڑا آدمی’ بننے کے لیے میں ادب پڑھ رہا تھا تاکہ اپنے حلقہ احباب میں رعب جما سکوں۔ ایسے احساسات صرف میرے نہیں ہیں، بلکہ ہم میں سے اکثر اسی سیڑھی سے اوپر چڑھنے کا حوصلہ دکھاتے ہیں۔ خود فاروقی صاحب کی خود نوشت ‘گزارش احوال واقعی’ پڑھ لیجیے، انھیں ادب کی طرف راغب کرنے میں اس محرک کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن مجھے ‘بڑا’ بننے کی جلدی تھی، سو میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم لکھی۔ لکھی نہیں سرقہ کیا۔ حیدر آباد کے رؤف خیر (جو اب ہمارے دوستوں میں سے ہیں) کی ایک مختصر آزاد نظم کو توڑ کر نثری نظم بنا ڈالا اور ‘شب خون’ میں ارسال کر دیا۔ میری دلیری کی داد دیجیے کہ رؤف خیر کی متذکرہ نظم ‘شب خون’ کے ہی کسی شمارے میں چھپ چکی تھی اور میں نے مسروقہ مال بھی اسی پرچے میں بھیج دیا اورسب سے دلچسپ بات یہ کہ ‘شب خون ‘ میں میری وہ نظم چھپ بھی گئی۔ ان دنوں میں ‘امجد نجمی’ کے قلمی نام سے لکھا کرتا تھا۔

اب جناب، اس نظم کا چھپنا تھا کہ شہر کے کونے کھدروں کے ادیبوں (اور ناادیبوں) میں میری دھاک بیٹھ گئی۔ مجھے شعری نشستوں میں مدعو کیا جانے لگا لیکن میں ہمیشہ رعونت کے ساتھ معذرت کرلیتا، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ان نشستوں میں جاتا بھی کون سا منھ لے کر، چونکہ میں شاعر تو تھا نہیں، متشاعر بھی نہ تھا، ایک نظم کو بڑی محنت سے چرایا تھا محض شب خون میں چھپنے کے لیے، اب اس اکلوتی نظم کو لے کر کہاں کہاں جاتا، چنانچہ بھرم کھلنے کے ڈر سے میں نے نشستوں کو نظر انداز کرنا شروع کیا۔ میں کوئی پیشہ ور چور تو تھا نہیں کہ ہر شعری نشست کے لیے ایک نظم پر نقب لگاتا اور یوں بھی ایمان سے کہیے تو میرا بعد کا تجربہ کہتا ہے کہ تخلیق سے زیادہ محنت سرقے میں کرنی پڑتی ہے بشرطیکہ سارق کا ‘ذوق رہزنی’ اعلیٰ درجے کا ہو۔ خیر یہ بھرم بھی کب تک باقی رہتا، کانچ کا گھوڑا کتنی دور اور کاٹھ کی ہانڈی کتنی دیر، ‘شب خون’ کا آئندہ شمارہ منظر عام پر آتے ہی میرے کارنامے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی جس کا تعفن پورے شہر میں پھیل گیا۔ شب خون کے آئندہ شمارے میں رؤف خیر کا ایک خط چھپا جس میں ‘امجد نجمی’ کی جتنی بھد ممکن تھی، ظالم مکتوب نگار نے کرڈالی، پھر یہ کہ مکتوب نگار کے خط کے نیچے فاروقی صاحب کا ادارتی نوٹ بھی تازیانے سے کم نہ تھا ۔ انھوں نے اپنے نوٹ میں مجھ سے صفائی طلب کی تھی اور آخر میں یہ جملہ لکھا تھا کہ کیا یہ مان لیا جائے کہ دس سال قبل رؤف خیر جہاں تھے، آج وہاں امجد نجمی صاحب کھڑے ہیں؟ ایک عرصہ بعد جب میں نے الہ آباد میں یہ واقعہ انھیں یاد دلایا تو وہ اتنا ہنسے کہ انھیں ‘اچھو’ لگ گیا، پانی پی کر ہنستے ہوئے کہنے لگے، "اچھا تو وہ تم تھے!میاں کئی بڑے ادیبوں کا آغاز یہیں سے ہوا ہے۔” پھر انھوں نے سرقے پر ایسے ایسے واقعات سنائے کہ مجھے فخر ہونے لگا جیسے میں نے ماضی میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ اب لگتا ہے کہ اس دن فاروقی صاحب نے سرقے پر جو معلومات کے دریا مجھ پر لُنڈھائے تھے، وہ کافی آگے چل کر ‘اثبات’ کے سرقہ نمبر کا محرک بنا۔
اس جگ ہنسائی کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور ان دوستوں سے تقریباً قطع تعلق کرلیا جن کا ادب سے تھوڑا بہت بھی واسطہ تھا۔ ہاں ایک چیز نہیں چھوڑی ، ‘پڑھنا’۔اسی عرصے میں دو ایسے واقعات ہوئے جس نے ایک بار پھر میری زندگی کا رخ موڑ دیا۔ پہلا واقعہ میرا عشق تھا۔ میر ے اس عشق کی سزاوار کوئی لڑکی نہیں تھی بلکہ میرا ایک دوست تھا۔ ایک منٹ رکیے، میں جانتا ہوں کہ عام طور پر لفظ ‘عشق’ کی وابستگی ہمارے ہاں صرف صنف مخالف سے مخصوص ہے اور اس وابستگی میں بھی جنسی پہلو ہی نمایاں ہوتا ہے لیکن میں gay نہیں ہوں، اگر ہوتا تو بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا اس دوست سے ایک ایسا قلبی رشتہ تھا، جس کا بیان مشکل ہے۔ وہ کوئی ادیب اور شاعر نہیں تھا، ایک کم پڑھا لکھا میرا ہم عمر تھا۔ اسے محلے میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ وہ ایک لا اُبالی اور کھلنڈرا سا لڑکا تھا، اس کا خاندانی پس منظر بھی ایسا نہ تھا کہ شرفا اپنے بچوں کو اس کے ساتھ دیکھنا پسند کرتے۔ لیکن مجھے اس سے عشق تھا، اس کی بے تکلف باتوں سے، اس کی دنیا کو ٹھوکر پر رکھنے والی اداؤں سے، اس کی خطرناک راست بیانی سے، اس کے سگریٹ کے دھوؤں کے مرغولوں سے جس سے وہ سب کچھ جیسے اُڑا دینا چاہتا ہو۔ ایک باغی، ایک انارکسٹ کی طر ح وہ میرے حواس پر سوار تھا۔ میرے والدین کے لیے یہ چنتا کی بات تھی، انھوں نے مجھ پر سختی کرنی شروع کردی ، بطور خاص میرے والد جو فوجی ڈسپلن کے قائل تھے، انھوں نے مجھ پر پہاڑ توڑ دیے۔ لیکن یہ وہ عشق بلا خیز تھا جو ہر بند کو اپنے سامنے حقیر سمجھتا ہے ، نتیجتاً مجھے سبق سکھانے کے لیے ابا نے آخری داؤ مجھ پر آزمایا اور انھوں نے مجھے ایک دو روز کے لیے گھر سے باہر نکال دیا ۔ تنخواہ دور تھی، جیب میں پیسے نہ تھے، رہنے سونے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور میں اسے بتانا نہیں چاہتا تھا جس کے سبب یہ سب ہو رہا تھا لیکن اسے کسی طرح پتہ چل گیا۔ وہ مجھے اپنے کسی دوست کے گھر لے گیا، وہاں وہ میرے ساتھ دو روز رہا لیکن اس نے نہ تو مجھے اس بارے میں کریدا اور نہ نصیحت وغیرہ کی۔ ابا کو پتہ چلا تو انھیں لگا کہ داؤ الٹ گیا، انھوں نے مجھے واپس گھر بلالیا۔ میں کسی فاتح کی طرح خود کو محسوس کررہا تھا لیکن یہ میری غلط فہمی تھی۔ ابا نے اب اپنے اولاد نرینہ کو جسے حاصل کرنے کے لیے انھوں نے خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی درگاہ میں جا کر منت مانگی تھی، اسے بات بات پر مارنا پیٹنا شروع کردیا۔مجھ پر پہرے بٹھا دیے گئے، مجھ پر نظر رکھی جانے لگی، میرا گھر سے نکلنا تقریباً بند کردیا گیا۔ میرا کالج چھڑا دیا گیا، مجھے آفس پہنچانے اور چھٹی کے بعد وہاں سے لانے کی ذمہ داری ابا نے اپنے سر لے لی۔ اس درمیان میرے ساتھ ہمیشہ کتابیں رہیں کہ جب جی زیادہ الجھتا تھا تو شب خون کا کوئی شمارہ اور فاروقی کی کوئی کتاب اٹھا لیتا تھا اور تھوڑی دیر کے لیے گرد و پیش سے بالکل لاپروا ہوجاتا تھا، حتیٰ کہ میں اپنے انارکسٹ کو بھی بھول جاتا تھا۔ابا نے بھی موقع غنیمت جانا اور مجھ سے پوچھ پوچھ کر کتابوں کے ڈھیر میرے پاس لگا دیے۔
لیکن کب تک؟
تنخواہ کا دن آیا تو شاید یہ پہلا موقع تھا جب میں نے کتاب کی دکان کا رخ نہیں کیا، بلکہ کتاب کی جگہ کیڑے مارنے والی دوا خریدی اور پی لی۔