یہ لوحِ مزار تو میری ہے پھر اس پہ تمھارا نام ہے کیوں؟ ـ اشعر نجمی

"برادرم، عزیزم، سلام علیکم۔
تمھاری ای میل ملے کوئی تین مہینے ہورہے ہیں۔ میں اتنی دیر تک خاموش اس لیے رہا کہ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا لکھوں۔ بظاہر تمھاری تسلی میری کسی بات سے نہیں ہو سکتی۔ تمھاری حالت اس بوڑھے بھیڑئیے جیسی ہے جسے اس بچہ گوسفند پر کوئی بھی الزام لگا کر اس کا خون بہر حال کرنا تھاـ اب میری طرف سے سلسلہ بند سمجھو، بلکہ اب تمام سلسلے بند سمجھو۔
شمس الرحمٰن فاروقی، 21 دسمبر، 2013”
یہ فاروقی صاحب کا میرے نام آخری ایمیل تھا جو میرے آخری ای میل کے جواب میں آیا تھا۔ مجھے فاروقی صاحب کے اس ردعمل سے کوئی صدمہ نہ پہنچا تھا، دراصل میں ان سے ایسے ہی کسی جواب کی توقع کررہا تھا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اگر وہ میرے ایمیل کو نظر انداز کرجاتے تو شاید مجھے مایوسی ہوتی لیکن انھوں نے جواب دے کر گویا میری اس ذہنی اذیت پر فل اسٹاپ لگا دیا تھا جس سے میں ان دنوں دو دو ہاتھ کررہا تھا۔ ای میل پڑھ کر اطمینان کی ایک سانس لی ، چلو اچھا ہوا یہ قصہ ختم ہوا۔ لیکن یہ قصہ شروع کہاں سے ہوا تھا؟
میری عمر اس وقت شاید سترہ اٹھارہ سال تھی، دسویں کلاس کا طالب علم تھا۔ لیکن ان دنوں میں نصابی کتابیں کم، پاپولر لٹریچر زیادہ پڑھتا تھا۔ ابا اور اماں میری پڑھائی کے معاملے میں کافی سخت تھے۔ ابا نے دو دو ٹیوشن مجھ پر تھوپ رکھے تھے، جن میں ایک ٹیچر مجھے سائنس اور ریاضی پڑھانے گھر آتے تھے اور بقیہ مضامین ایک دوسرے ٹیچر سے پڑھنے کے لیے میں ان کے گھر جایا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ گھر پر میری پڑھائی کی ذمہ داری میری والدہ کے سر تھی جو تعلیم یافتہ تھیں۔ لیکن ان تمام پہرے داریوں کے باوجود میں نے پاپولر لٹریچر پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا۔ پریکٹیکل کی بڑی بڑی کاپیوں کے اندر چھپا کر ڈائجسٹ پڑھنا چوری کے گڑ سے زیادہ ذائقہ دار لگتا تھا اور اسی ذائقے نے مجھے نویں کلاس میں فیل کردیا تھا اور اپنے ہم مکتبوں سے ایک سال پیچھے چلا گیا۔ ان دنوں ابن صفی کا بڑا نام تھا لیکن میری دلچسپی کبھی بھی جاسوسی کہانیوں میں نہیں رہی، البتہ دیبا خانم، رضیہ بٹ، کرشن چندر، گلشن نندہ ، رانو کے علاوہ اور ہاں مظہر الحق علوی کے ترجموں پر تقریباً روزانہ میں قبضہ جمائے رہتا تھا۔ میرے ذوق کی کفالت محلے کی ایک چھوٹی سی اردو لائبریری کردیا کرتی تھی جس کی ممبر شپ میں نے اپنے جیب خرچ کے عوض لے رکھی تھی۔
ان دنوں میں باقاعدہ اپنے پسندیدہ رسائل خریدا کرتا تھا، پیسے زیادہ نہیں ہوا کرتے تھے، سو سینے پر پتھر رکھ کر صرف ایک دو ہی خرید پاتا تھا۔ اس وقت بہت سارے رسائل نکلا کرتے تھے؛ بیسویں صدی، شمع، بانو، شبستان، ھما، ھدیٰ ، جرائم، فلمی ستارے وغیرہ وغیرہ۔ جب بھی جیب تھوڑی سی وزنی ہوجاتی، میں کتاب کی دکان پر لپک کر پہنچتا اور نئے شماروں پر ٹوٹ پڑتا۔ سب کی ورق گردانی کرتا لیکن ظاہر ہے خریدتا ایک ہی، بالکل اسی طرح جیسے خواتین پوری دکان کو اُلٹنے پلٹنے کے بعد ایک اوڑھنی یا ایک بلاؤز خرید کر دکاندار پر احسان کرجاتی ہیں۔لیکن اس اکلوتے رسالے کی طرف میں نے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا جو دیدہ زیب سرورق رسالوں کے درمیان مسکین بنا پڑا رہتا تھا، نام بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا؛ "شب خون۔” بھلا یہ بھی کسی ادبی رسالے کا نام ہوا۔ ایک بار کی بات ہے کہ اس دن جیب گرم تھی، میں نے دکان کی طرف رخ کیا۔ بڑی مایوسی ہوئی، میرے کسی بھی پسندیدہ رسالے کا نیا شمارہ نہیں آیا تھا البتہ اسی مسکین پرچے ‘شب خون’ کا نیا شمارہ اسٹال پر مجھے آنکھیں مار رہا تھا۔ میں نے منھ بنایا لیکن مجھے سنیما گھر اور کتابوں کی دکان سے خالی ہاتھ لوٹنا کبھی پسند نہ آیا، سو اسے اٹھا کر ورق گردانی کرنے لگا۔ سوچا کہ میری پسندیدہ رسالوں کے مقابلے میں قیمت کافی کم ہے، چلو بیکار نکلا بھی تو زیادہ پیسے ضائع نہیں ہوں گے، خرید لیا۔
حسب توقع اس پرچے کا رعب تو دماغ میں بیٹھ گیا لیکن سمجھ میں کچھ خاک نہ آیا۔ پیسے وصول کرنے کی غرض سے دماغ پر کافی زور ڈال کر پھر پڑھنے کی کوشش کی لیکن کچھ پلے نہ پڑا؛ نہ غزلیں، نہ افسانے ، نہ مضامین، البتہ ایک بات سمجھ گیا تھا کہ یہ پرچہ اعلیٰ تعلیم یافتوں کے لیے ہے نہ کہ ہم جیسے تفریح بازوں کے لیے۔ میں اپنی تفریح پر قانع تھا ، سو ‘شب خون’ کو کنارے پھینکا اور گلشن نندہ سے تجدید یاری کرلی۔
انھی دنوں دو ایسے واقعے ہوئے جنھوں نے بتدریج میری ترجیحات اور پسند و ناپسند کو بدل دیا۔ پہلا یہ کہ میں ٹاٹا اسٹیل میں ملازم ہوگیا اور دوسرا یہ کہ میرے والدین اسی شہر کے دوسرے علاقے میں شفٹ ہوگئے۔ ملازمت نے مجھے کتابیں خریدنے کے قابل بنا دیا۔ اب میں ہر ماہ تنخواہ لینے کے بعد گھر سے پہلے کتاب کی دکان پر پہنچ جایا کرتا تھا اور اپنی اوقات کے اعتبار سے کتابیں خرید لیا کرتا تھا اور بقیہ پیسے اماں کو تھماتے ہوئے ہر ماہ نئے بہانوں کی ایجاد کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کرتا رہا، حتیٰ کہ ایک بار میں نے پوری تنخواہ ہی گول کردی اور ان کی کتابیں خرید کر ایک رازدار دوست کے گھر رکھو ادیا اور اماں کو بتایا کہ میری جیب کسی نے کاٹ لی۔ اماں بیچاری میری رونی صورت دیکھ کر مجھے اُلٹا تسلی دینے لگیں اور ابا نے فرضی جیب کترے کی شان میں ٹھیٹ بہاری انداز میں مغلظات کے دریا بہا دیے۔ اس چوری کے صدمے سے مجھے باہر نکالنے کے لیے ابا نے خاص میرے لیے قلاقند منگوایا جو مجھے بہت پسند تھا، اس دن اس میں سے میری بہنوں کا کوئی حصہ نہیں لگایا گیا جیسا کہ عموماً ہوتا تھا، ان بے چاریوں کی قہر برساتی آنکھوں کے سامنے میں مزے لے لے کر قلاقند کھاتا رہا اور تصور میں ان کتابوں کو پڑھنے کے منصوبے بناتا رہا۔
نئے محلے میں دو نئے رنگروٹ مجھے ملے۔ بدرعالم خلش کو فلسفہ و تصوف میں دلچسپی تھی ، شاعری اور شاعری میں تجربے بہت کیا کرتا تھا ۔ اس کی اُٹھان مدرسے کی تھی، اس لیے اسے فارسی اور عربی کے کلاسیکی لٹریچر پر عبور حاصل تھا لیکن بعد میں اس کے انگریزی کے بے پناہ مطالعے نے اسے گمراہ کردیا۔ شاید مطالعہ ہضم نہ کرنے کے سبب وہ تھوڑا confusing سا ہوگیا تھا۔ دوسرے بندے کا نام اس وقت ارمان شباب تھا جس کا نام کافی عرصہ بعد فاروقی صاحب نے بدل کر ابرارمجیب رکھ دیا تھا اور آج بھی یہی بدلا ہوا نام اس کا تعارف ہے۔ ابرارمجیب اچھا افسانہ نگار تھا۔ شاعری اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ بدرعالم خلش کے برعکس ابرار مجیب جلد باز اور عملی آدمی تھا۔ بدرعالم خلش میں ٹھہراؤ تھا، اس کے اندر سچ مچ کسب علم کا شغف تھا لیکن ابرار اپنے مطالعے کا ریزلٹ فوراً چاہتا تھا۔ وہ ضخیم سے ضخیم کتابیں کا دیباچہ یا فلیپ نوٹ پڑھ کر پوری کتاب پر تبصرہ کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا جنھیں بدرعالم خلش پڑھنے میں مہینوں لگا دیا کرتا تھا۔ نتیجتاً خلش کے مقابلے میں ابرار ادب کے مبتدیوں کے درمیان جلددھاک جمانے میں کامیاب رہا۔ خیر ہم تینوں ٹاٹا اسٹیل کے مختلف شعبوں میں ہی ملازم تھے، اس لیے ہماری شامیں تقریباً ایک ساتھ ہی گزرا کرتی تھیں۔ ان دونوں کے ساتھ رہنے کا ایک فائدہ جو مجھے ہوا، وہ کتابوں کی پسند و ناپسند اور ان کی ترجیحات تھیں۔ ارمان اور خلش دونوں میری موجودگی سے بے خبر گھنٹوں ایک دوسرے سے عصری ادب پر گفتگو کیا کرتے تھے، ان کی گفتگو میں کئی کتابوں اور مصنفین کا بھی ذکر آتا تھا جو میرے ذہن کے نوٹ پیڈ میں محفوظ ہوتے چلے گئے۔ وہ بار بار ‘شب خون’ کے نئے شماروں پر گفتگو کرتے ، بار بار ان کی زبان پر ایک نام کسی ‘فاروقی’ کا آتا، کبھی وہ اس نام کا مذاق اڑاتے تو کبھی اسے اردو ادب کا سورما گردانتے۔ ایک اور نام ان کی زبان سے پھسلتا تھا؛ "وارث علوی”، یہ نام بھی میرے حافظے میں نقش ہوگیا۔
اگلے ماہ کی تنخواہ میں ، میں نے کوئی ناول اور کوئی رسالہ نہیں خریدا، کتاب کی دکان پر گیا اور وارث علوی کی کتاب ‘اے پیارے لوگو!’ خرید لایا۔ آخر مجھے بھی بدر عالم خلش اور ابرارمجیب کی برابری جو کرنی تھی۔ میں کب تک ان کا منھ تکا کرتا اور کب تک وہ مجھے نظر انداز کرتے۔ کمال کی بات یہ تھی کہ میں پہلی بار کوئی تنقیدی کتاب پڑھ رہا تھا۔ میں ڈرا ہوا تھا لیکن اس کتاب کو پڑھا تو روانی میں اسی طرح پڑھتا چلا گیا جس طرح اب تک مزے لے لے کر پاپولر لٹریچر پڑھتا رہا تھا۔ اچھا اسے تنقید کہتے ہیں ؟ میں تو خواہ مخواہ ڈر رہا تھا، ہاں کچھ باتیں تو سمجھ میں نہیں آتیں لیکن بہرحال ہے تو مزے کی چیز۔ اب سالوں کو بتاتا ہوں۔ اس شام میں نے وارث علوی کی وہ کتاب بغل میں دبائی اور اسے جھلکاتے اور چھلکاتے ہوئے ان کے درمیان آن بیٹھا۔ خلش اور ابرار نے مجھے شک اور کچھ حیرت بھری نظروں سے دیکھا، میں اپنا وار نشانے پر بیٹھا دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرایا۔ پھر خلاف توقع اچانک خلش ہنسنے لگا، ” تمھیں تنقید پڑھنا ہے تو وارث کو ضرور پڑھو لیکن آغاز اس سے مت کرو، فاروقی سےکرو۔”
"کیوں؟”
"کیوں کہ وارث کے پاس لفظوں کی صناعی ہے، اس میں تنقید کم ہے۔ مطالعہ ہے لیکن ان کی کتابوں میں تنقید کی زبان نہیں ہے جو نئے پڑھنے والوں کو گمراہ کرسکتی ہے ۔”
"کیسی گمرہی؟”میں نے زچ کر کہا۔
” تمھارا دماغ متن اور نفس موضوع سے ہٹ کر لفظوں کے چٹخارے اور فقرے بازی میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور وارث اس کام کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔”
ابرار نے بھی خلش کی ہاں میں ہاں ملایا اوراس نے وارث علوی کی تنقید نگاری پر کچھ تبصرہ کیا لیکن مجھے اب بھی شک ہے کہ اس وقت اس نے بھی وارث علوی کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی، البتہ ‘شب خون’ میں چھپے ایک دو مضمون کو پڑھ کر اس نے اپنی دانشوری جھاڑی تھی۔
خیر، ایک بار پھر تنخواہ کا دن آیا اور میں ایک بار پھر ‘آزاد کتاب گھر’ پر کھڑا تھا ۔ میں نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ ستار بھائی سے پوچھا، "فاروقی کی کوئی کتاب ہے آپ کے پاس؟”
ستار بھائی نے چونک کر میری طرف دیکھا چونکہ وہ میرے ‘ٹیسٹ’ سے بخوبی واقف تھے، آخر کو ایک زمانے سے میں انھی کے ہاں سے ہر ماہ بیسویں صدی، شمع اور جرائم جیسے رسائل خرید رہا تھا۔ انھوں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لیے مجھ سے پوچھا۔ "شمس الرحمٰن فاروقی؟”
میں نے تھوک حلق کے نیچے دھکیلا اور اثبات میں سر ہلایا۔
ستار بھائی نے شیلف سے ایک کتاب نکال کر سامنے رکھی دی، عنوان تھا، "شعر، غیر شعر اور نثر۔”
میرے گھر اور میری زندگی میں فاروقی صاحب کا یہ پہلا قدم تھا۔

(جاری)