’یہ لڑائی صرف تین کالے قانونوں کی واپسی کی لڑائی نہیں،یہ آزادی کی لڑائی ہے‘،سنگھو بارڈرپر مولانا سجاد نعمانی کا خطاب

نئی دہلی:یہ لڑائی صرف تین کالے قانونوں کی واپسی کی لڑائی نہیں،یہ آزادی کی لڑائی ہے، اور آپ سب اس لڑائی کے سورما ہیں‘‘ ان خیالات کا اظہار مولانا سجاد نعمانی نے اس وقت کیا جب وہ ڈھائی ماہ سے جاری کسان آندولن میں شرکت کرنے کے لیے سنگھو بارڈر پہنچے۔ مولانا نعمانی نے اس موقع پر یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’’بھارت کے مظلوموں کو جو نئی آزادی ملے گی اس کی شروعات دربار صاحب سے ہوگی، اور جب گرووانی اور قرآن ملیں گے تو ملک میں نیا انقلاب آئے گا۔‘‘اس موقع پر انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ’’ملک کے سارے مظلوم اور سبھی مسلمان اس آندولن میں کسانوں کے ساتھ ہیں، اور ملک کے جس حصے میں یہ لیڈرشپ کال کرے گی،مسلمان آگے بڑھ کر اس کا استقبال کریں گے‘‘-ذرائع سے معلوم ہوا کہ مولانا نعمانی نے جب ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے کوئی مناسب جگہ دیکھنا چاہی تو وہاں موجود سکھ لیڈر،اُن کو باصرار اپنے گرودوارے میں لے گئے، اور بڑی محبت کے ساتھ نماز کے لیے جگہ پیش کی ، اور خود بھی ان کے ساتھ موجود رہے، جس کی تصاویر ٹوئیٹر اور فیس بک پر عام ہوئی ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ اس آندولن میں شرکت کے لئے مولانا نعمانی جب سنگھوپوربارڈر پہنچے تو نہنگ جتھے داروں کی اعلیٰ سطحی قیادت نے ان کا پرزور استقبال کیا، وہیں سن یکت کسان مورچہ کے ذمہ داران نے مولانا نعمانی کی، شال اڑھال اڑھا کر تکریم کی۔علاوہ ازیں موقع پر موجود بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھے گئے، وہیں آندولن میں شریک بہت سے لوگوں نے اپنے اس تاثر کا اظہار کیاکہ مولانا کی شرکت کے نتیجے میں مسلم سماج سے ہمارے اتحاد میں بھی اضافہ ہوا ہے، اورہماری ہمت بھی کئی گنا بڑھی ہے۔اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا نعمانی نے کہا کہ حکومت عوام کی توجہ ملک کے اصل مسائل سے ہٹا کر فرضی اور مصنوعی مسائل کی طرف کرنا چاہتی ہے لیکن یہ بہت خوش آئین بات ہے کہ ملک کی عوام اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے، اور اب آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے کوتیار نہیں، اور اب اس آندولن کے ذریعہ ہم اس موڑ پر آگئے ہیں کہ ہمارے پاس بھارت کا سسٹم بدلنے کاسنہرا موقع ہے۔