یہ کیسی آتم نربھرتا ہے؟ شکیل رشید

دوسری پاری کے ایک سال مکمل کرنے کے بعد نریندر مودی کی مرکزی سرکار نے اپنی کامیابیوں کی تشہیر میں کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے ۔ناکامیوں کا سارا الزام کانگریس کی سابقہ مرکزی سرکاروں کے، بالخصوص پنڈت جواہر لال نہرو کی، آذاد بھارت کی پہلی سرکار کے سر منڈھا جا رہا ہے، ملک کے سارے مسائل کانگریس کی جھولی میں ڈالے جارہے ہیں اور بی جے پی کی سرکاروں ، بالخصوص مودی کی گذشتہ اور آج کی سرکاروں کے سر پر ملک کی ترقی کا سہرا باندھا جا رہا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے کہ ملک میں دودھ کی نہریں بہنے لگی ہیں۔حالانکہ زمینی صورتحال دعوؤں کے عین الٹ ہے۔
ایک دعویٰ ‘آتم نربھرتا’ یعنی خودکفیل ہونے کا ہے ۔بڑے فخر سے بھاجپائی لیڈران دعویٰ کررہے ہیں کہ بھارت نے کورونا وائرس کی وباء سے بچنے میں کئی ممالک کی مدد کی ہے، امریکہ تک کو دوائیں بھیجی ہیں، کئی ممالک کو طبی آلات اور طبی عملے کے لیے پی پی ای کٹ بھیجے ہیں ۔یہ تو بہت اچھی بات ہے، لیکن ایک سوال ہے اور بڑا ہی اہم سوال ہے کہ اگر واقعی میڈیکل کے شعبہ میں بھارت اتنا خود کفیل ہو چکا ہے تو کیا بات ہے کہ اس کے اپنے شہری بشمول ڈاکٹر صاحبان اور طبی عملے کے، بہتر میڈیکل سہولیات کے لیے پریشان ہیں ؟ کیوں آج کے دنوں میں اس ملک میں مریض اور ان کے عزیز ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال دوڑتے بھاگتے پھرتے ہیں اور علاج تو دور انہیں اسپتال میں بھرتی تک نہیں کیا جاتا نتیجتاً کچھ مریض بھاگ دوڑ کے دوران ہی دم توڑ دیتے ہیں؟
دو تازہ مثالیں لے لیں:٥جون کو گریٹر نوئیڈا میں تیس سال کی ایک حاملہ خاتون نیلم وجیندر سنگھ نے ایمبولینس کے اندر دم توڑ دیا ۔وجیندر سنگھ اپنی آٹھ مہینے کی حاملہ بیوی کو، حمل کی کسی پیچیدگی کے بعد ایک اسپتال سے لے کر دوسرے اسپتال تیرہ گھنٹے تک بھاگتا رہا لیکن اسے کسی اسپتال نے، کیا سرکاری اور کیا غیر سرکاری، ایڈمٹ نہیں کیا اورجب بھرتی ممکن ہوئی تب تک اتنی دیر ہو چکی تھی کہ نیلم ایمبولینس کے اندر ہی ایڑیاں رگڑ کر مر گئی!
دوسرا واقعہ دہلی کا ہے، ایک بیٹا سمرتھ تھاپا جب صبح اپنی ترپن سالہ والدہ کو جگانے گیا تو وہ تیز بخار سے بے ہوش تھی، تھاپا ماں کو پانچ اسپتالوں میں لے گیا مگر یہ کہہ کر سب نے مریضہ کو بھرتی کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے کورونا ہوسکتا ہے! ایک اسپتال نے تو ٹیسٹ کے بعد بھی بھرتی کرنے میں آنا کانی کی! کیایہ بات افسوسناک نہیں ہے کہ جو ملک کورونا کی وباء میں بیرون ممالک کی مدد کا دعویٰ کررہا ہے اس کے اسپتال صرف اس شبہہ میں بیماروں کو بھرتی نہیں کرتے کہ کہیں یہ کورونا کے مریض نہ ہوں!! آج کے دنوں میں زچگی کے لیے بھی اسپتالوں نے لوگوں پر اپنے دروازے بند کر لیے ہیں ۔دل کے مریض واپس کیئے جارہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جو ملک اپنے مریضوں کو اسپتال میں ایک بیڈ نہ فراہم کر سکے اور جہاں کسی نیلم کو ایمبولینس کے اندر ہی دم توڑ دینا پڑے وہ ملک کیسے عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کا دعوٰی کر سکتا اور اپنی ‘کامیابیوں’ کا ڈنکا بجا سکتا ہے؟ لوگوں کا سوال ہے کہ بھلا عام مریض کیا کریں؟ یہ کیسی ‘آتم نربھرتا’ ہے؟ رہی بات کورونا کی تو یہ وباء ملک میں پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے، آج بھارت دنیا کا کووڈ ۔19 کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پانچواں ملک بن گیا ہے، اس نے اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ وبا یہاں اور پھیلے گی ۔بھلا وہ ملک جو کورونا کے معاملے میں ساری دنیا کی رہنمائی اور مدد کرنے کا دعوےدار ہے کیسے خود اپنے یہاں اس وباء پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شکایات میں تلاش کیا جا سکتا ہے،ناقص پی پی ای کٹ کے سبب طبی عملے اور ڈاکٹر صاحبان پریشان ہیں، ان کی شکایات پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔احتجاج سے بھی کوئی مثبت اثر نہیں پڑا ہے ۔فیک وینٹی لیٹر تک اسپتالوں میں استعمال کرائے گئے ہیں اور ایسے ناقص مٹیریل سے پی پی ای کٹ کی تیاری کا معاملہ سامنے آیا ہے کہ انہیں پہن کر ڈاکٹر بیمار اور بے ہوش ہوگئے ہیں ۔یہ زمینی حالات ہیں اور باتیں آسمان کی کی جا رہی ہیں ۔اور اگر کوئی ان مسائل پر منھ کھولے تو اسے ‘قوم دشمن’ کہہ کر اس کی زبان بند کرا دی جاتی ہے ۔کئی ڈاکٹروں کو منھ کھولنے کی سزا ملی ہے ۔بھلا یہ کیسی ‘آتم نربھرتا’ ہے!
گذشتہ چھ سالوں میں ملک میں نہ نئی فیکٹریاں بنی ہیں نہ مل اور کارخانے، نہ ہی عوامی ترقی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد ہوا ہے ۔اسپتالوں کے قیام کی طرف توجہ ہے نہ تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف۔ملک معاشی اور صنعتی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور دعوے خوشحالی کے ہیں۔نفرت بڑھی ہے، تفریق ٹھوس ہوئی ہے، فرقہ پرستی پورے عروج پر ہے۔تو کیا مودی حکومت ان سب باتوں کو ‘کامیابیاں’ سمجھتی ہے اور اس کی نظر میں یہی ‘آتم نربھرتا’ ہے؟کیا اس سوال کا جواب مرکز دے گا؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)