یہ جو لوگ محوِ کلام تھے،مجھے کھاگئے-نمرہ شکیل

لوگ بولتے ہیں اور بے محابا بولتے ہیں۔ بغیر وقفے کے اور بغیر مطلب کے۔ یہاں مطلب سے مراد مفہوم ہے ورنہ پاپولر والے مطلب کے بغیر تو کیا ہی ہے اس دنیا میں۔
لوگوں کے بولنے کی یقینا بہت سی وجوہات ہوتی ہوں گی مگر ہمیں اپنی کم نظری کے باعث ایک آدھ ہی نظر آتی ہے۔ یا پھر شاید ساری وجوہات مل ملا کر اسی ایک آدھ میں کولیپس کر جاتی ہوں۔ خیر یہ تصوف کے مسائل ہیں اور دنیاداروں کے تبصروں کی پہنچ سے پرے۔ ہم صرف اتنا سوچتے ہیں کہ لوگوں کے بولنے والے سرکٹ کی بیٹریاں کہاں سے بن کر آتی ہیں، اس گرمی میں اپنا پنکھا چلانے کے لیے ادھار ہی مانگ لیں ۔ مگر ادھار دے کون کہ بولنے سے کس بشر کو مفر ہے۔
بولنے پر ہمیں اعتراض نہیں کیونکہ ہم غیر نقصان دہ طور پر سمجھتے ہیں انسان قدرتی طور پر آزاد ہے اور اسے مزید آزاد ہونا چاہیے۔ فرد کی آزادی میں کمی کا مفہوم ہوتا یہی ہے کہ وہ آزادی کسی اور فرد کے ہاتھ میں ہے، آزادی کو آزادی ملے کر کر لمبے ہاتھ۔ لوگ عموما یہاں ہم سے اختلاف کرتے ہیں اور غیر مہذب پیرائے میں۔ اختلاف سے ہمیں کچھ اختلاف نہیں مگر تہذیب اہم شے ہے اور اس کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیے، وگرنہ جنگل میں جنگلوں کے طریق سے لوٹنے کا مشورہ دینے کو جی چاہتا ہے۔
جنگل ہمیں ہمیشہ سہانے دکھائی دیتے ہیں مگر عالم خواب میں۔ خیر حقیقت میں بھی جنگل کم دلفریب تو نہیں ہوتے، بشرطیکہ کہیں بچ رہے ہوں۔ بس مچھروں سے بچنا پڑتا ہو گا اور ہر متحرک شے کو منہ میں ڈال لینے کی تحریک سے نپٹنا پڑتا ہو گا۔ دنیا کی حالت سے عیاں ہے کہ لوگ ہر کھانے اور نہ کھانے والی شے بلکہ غیر شے تک کو کھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے باقاعدہ اپنا حق قرار دیتے ہیں۔ روسٹ چمپ کو ڈیلیکسی سمجھنے والے اپنی جگہ حق بجانب ہیں کہ اختیار رکھتے ہیں اور دنیا ان کی ہے، بے چارے چمپس اور ان کی بچوں کی نہیں، تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے، مگر ہم ان کی اخلاقی حالت پر اپنی رائے محفوظ رکھیں گے۔
ہم کسی جنگل تک تو رسائی نہیں رکھتے اور نارسائی کے مسائل اپنی جگہ ایک دبستان ہیں مگر کام چلانے کے لیے کبھی کبھی اپنے گھر کے صحن میں گھوم پھر لیتے ہیں۔ رات کے اوقات میں عموما یہاں کچھ مینڈک ہمارے ہم صحن اور ہم سخن واقع ہوا کرتے ہیں، اور ہم سے پوچھے بغیر۔ ظاہر ہے کہ ہمیں ان کے واقع ہونے سے تکلیف تو ہوتی ہے کہ یہ علاقہ آخر ہمارا ہے اور ان کی ہمت کیسے ہوئی کہ ہم سے سٹیمپ لگوائے بغیر یہاں آ ٹپکے۔ اب آ گئے ہیں تو کم از کم اچھلنے کودنے کا ٹیکس ہی ادا کر دیں، مگر اعلی سطح پر یہ معاملہ اٹھانے پر ہمیں دھیان دلایا جاتا ہے کہ آخر ہم بھی گاہے گاہے ہی سہی مگر بغیر کوئی ٹیکس دیے اسی یہیں اچھلتے پھرتے ہیں۔ پھر ہم چھپ چھپا کر انھیں صحن بدر کر تو دیں مگر یہ اگلی شام دوبارہ لوٹ آئیں گے، بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی۔ ہمیں یہ بھی شک ہے کہ مستقل حرکت میں رہنے کے باعث ان کی صحت اوسطا اچھی ہے اور ہماری زندگی کی بے معنویت پر ہمہ وقت غور کرنے کے سبب خستہ، سو ہم لاکھ زقندیں بھریں مگر انھیں پکڑ نہیں پائیں گے۔ اور تو ہر معاملے میں شکست خوردہ رہتے ہی ہیں، اب مینڈکوں سے ہارتے اچھے لگیں گے کیا۔
سو اس کے بعد صورت یہی رہ جاتی ہے کہ ہم قسمت کے لکھے کو قبول کر لیں اور صورت حال سے جہاں ہے جیسی ہے کی بنیاد پر فائدہ کشید کرنے کی کوشش کریں، جہاں تک ممکن ہو۔ اتنا ضرور ہے کہ مینڈکوں کے رہن سہن پر غور کرنے سے ہمیں اپنے بارے میں کچھ مفید اشاریے بھی مل جاتے ہیں۔ یہ تو ہم اکثر سوچتے ہیں کہ شاید ہم بھی اسی طرح کسی کے صحن کے مینڈک واقع ہوئے ہوں بلکہ لازما واقع ہوئے ہوں گے، صرف صورت حال کو متعلقہ زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ہمیں اپنا کل علاقہ اثر ہی کسی کا صحن معلوم ہوتا ہے اور اندازہ ہونے لگتا ہے کہ اگر ہم کبھی کبھار منہ دھو کر کہیں کافی پینے پہنچتے ہیں اور اس پر خوش ہوتے ہیں تو اس سے ہمارے مینڈک نما ہونے میں چنداں فرق واقع نہیں ہوتا۔ ہمارے صحن میں پرندوں کے پانی پینے کے لیے جو کنالی رکھی گئی ہے، ممکن ہے وہ کچھ مینڈکوں کی ریلیکس کرنے کی پسندیدہ جگہ ہو اور اس کے لیے وہ دور دراز سے بن سنور کر آتے ہوں، ہم نے کب ان کے حلیے کو توجہ سے دیکھا ہے۔ یونہی گھومتے پھرتے ہمارے جی میں آئے تو لات مار کر اسے اوندھا دیں اور غریب مینڈکوں کی ساری تفریح چوپٹ۔ اسی طرح ہمارے بننے سنورنے اور ہماری کافی گاہوں کی بھی اتنی ہی حیثیت ہے، سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا۔ مینڈک اپنی خوشی کے عارضی ہونے پر غور نہیں کرتے ورنہ وہ یوں اچھلتے کودتے نہ پھریں، کسی گوشے میں پتوں کے بستر پر سر نیہوڑائے پڑے رہیں اور اپنی سستی پر پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں کا لیبل لگائیں۔ َآہوئے صحرا کی طرح زقندیں بھرنے کے لیے ایک طرح کا ڈیول مے کئیر ایٹیٹیوڈ لازم ہے اور پھر اس کا سایہ فلسفے کے بہت سے میدانوں مثلا دنیا کی بے ثباتی، انسانوں کی تنگ نظر خود غرضی، انسانی رویے پر بائیلوجی کے ہمہ جہتی اثرات اور محبت کی نزاکت وغیرہ وغیرہ پر محیط ہونا چاہیے، دنیا کیا کہتی ہے تو ایک بہت معمولی بات ہے۔ اگر ہم مینڈکوں سے اتنا بھی سیکھ لیں تو سلیقے سے زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے۔
ہم اگر مینڈکوں سے تنگ ہوتے ہیں تو ہمارے اردگرد لوگ کون سا ہم سے خوش ہوتے ہیں۔ دنیا کم ازکم ہمیں پہلے پانچ منٹ تو برداشت کرتی ہے، ہم ان بچاروں کو اتنی سی ونڈو دینے پر بھی تیار نہیں۔ مینڈکوں کی آنکھیں سمیٹرک اور بیدار نظر آتی ہیں، ہم میں تو ایسا بھی کچھ نہیں۔
مینڈک اگر زبان کے استعمال سے واقف ہوں تو شاید ہمیں تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں کا طعنہ دیں، وگرنہ یہ بات ہمارے لیے ازخود سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ ہمیں ان سے جو عداوت ہے وہ بس ہے تو ہے ورنہ ان کے گھومنے پھرنے سے ہمارے صحن کی شاہرائیں کس قدر ہی گھس جائیں گی ۔ لاکھ غیر منطقی سہی مگر قاعدہ یہی ہے کہ ہر جنس کا بس نہیں چلتا کہ اپنے غیر جنس سے جتنے حقوق چھینے جا سکیں، چھین لے اور پھر کچھ مزید چھین لے۔ اس کے بعد کچھ بچے تو وہ بھی چھین لے اور اس کے بچھے کھچے سامان کو اپنے جوتے صاف کرنے کے لیے میٹ بنائے۔ایگزسٹ کرنے کا، سوال کرنے کا، جواب ڈھونڈنے کا، اپنے ڈھونڈے گئے جواب کو پا لینے کی خوشی میں خوش ہونے کا، اپنے جوابوں کی روشنی میں دنیا اور اپنے بارے میں نظریہ قائم کرنے کا حق تو ظاہر ہے تعیشات میں آتا ہے۔ ہم میں اگر اپنے سے کمزور کو کچل کر رکھ دینے کی قدرتی حس ہے تو ظاہر ہے کہیں بہت پیچھے سے آئی ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا تو درکنار، اسے پہچاننا ہی کافی مشکل کام ہے ہمیں تو خیر پاور ڈفرینشئلز پر غور کرنے کا موقع ملا ہے مگر اکثر آبادی اس ٹریننگ سے محروم رہ جاتی ہے اور نتیجتا اس نکتہ نظر سے بھی۔ پاور ڈفرینشئلز پر تقریبا ہمیشہ بارڈر کے ایک طرف والے غور کیا کرتے ہیں۔خیر ہمدردی ہمیں دوسری جانب سے بھی ہے کہ ان کا کام ہوتا ہے، بارڈر کے وجود سے یکسر منکر رہتے ہوئے آخری سانس تک اس کا دفاع کرنا اور پھر کاگنیٹو ڈسونینس سنبھالنا کون سا آسان کام ہے، اس کار مسلسل میں بھی ایک لمحہ تک نہیں پس انداز کیا جا سکتا اپنی خاطر۔
شاید ہمارے اعتراض کی بنیاد ہمارے پر ہے، یعنی ہمارے صحن میں۔ اس کا تو آسان سا جواب ہے کہ ہم اور ہمارے کی معیاد ہی کتنی ہے، انتہائی حالات میں بھی حد سے حد شاید اسی نوے برس۔ اس وسیع و عریض اور قدیم کائنات میں ہم اور ہمارے پر اصرار کرنا نہایت کوتاہ بینی کی علامت ہے۔ انسانوں کی عادت ہے تو الگ بات ہے وگرنہ امر یہی ہے کہ ان مینڈکوں کو بھی چیونٹیوں وغیرہ کے گھومنے پھرنے پر اعتراض ہوتا ہو گا۔ استثنائی مثالیں ہر جگہ ہوتی ہیں، سو کچھ بعید نہیں کہ اس صورتحال پر تنقید کے پردے میں کچھ مینڈک ہماری طرح اپنی ازلی یاس پرستی چھپاتے ہوں اور کبھی کبھار سیلف رائچس نیس سے خوشی کشید کرنے کی کوشش کرتے ہوں ، تو انھیں حق ہے۔
اگر ہمیں یہ اعتراض ہے کہ مینڈک ٹر ٹر کرتے ہیں تو ہم بھی عام زندگی میں، جب منہ کھولنے کی زحمت کر لیں، کون سے ہیرے موتی بکھیرتے ہیں۔ اسی لیول کی باتیں کرتے ہیں اور پھر لوگ ہمارے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ہم مینڈکوں کے ساتھ، یعنی قطعی قسم کی نظر اندازی۔ ِرفتہ رفتہ ہم سمجھدار ہو گئے ہیں اور اپنا منہ بند رکھا کرتے ہیں کہ بیٹری اتنی تیز نہیں ہماری۔ لوگوں کو جواب دے تو دیں مگر وہ اس ڈسکلیمر کے ساتھ ہونا چاہیے کہ بھیا دس منٹ نہیں بن سکتی ہماری آپ کی، سو آپ رہنے دیجیے۔ اب ڈسکلیمر میں وہی تہذیب کا معاملہ، جس سے انحراف ہم کر نہیں سکتے، سو بہتر یہی ہے کہ خاموش رہیں اور اپنے پاس رکھیں اپنے ڈسکلیمر، تہذیب، ٹر ٹر، مشاہدات وغیرہ وغیرہ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*