یہ جاننا ہم سب کےلیے ضروری ہے ـ ایم ودود ساجد

انگریزی روزنامہ ”دی انڈین ایکسپریس“ کی 16ستمبر 2020 کی اشاعت میں Explained (وضاحت یا وضاحت شدہ یا توضیح) کالم کے تحت صوفی احسن نے عمر خالد پر یو اے پی اے لگائے جانے کے تناظر میں ایک چھوٹا سا مضمون تحریر کیا ہے جس کے تحت یہ سمجھایا گیا ہے کہ یو اے پی اے کیا ہے اور اس کے عواقب وعوامل کیا ہیں۔میں احباب کے افادہ کی خاطر یہاں اس کا آزاد ترجمہ پیش کر رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ ہم پر جو دور گزر رہا ہے اس میں صوفی احسن کی اس ’تشریحی‘ تحریر کا مطالعہ ہر فرد کیلئے بہت ضروری ہے۔

"….. یو اے پی اے (UAPA) بنیادی طور پر دہشت گردی مخالف قانون ہے۔جس کا مقصد انفرادی یا اجتماعی غیر قانونی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر موثر طور پر قابو پانا ہے۔یہ قانون 1967 میں علیحدگی پسند تنظیموں سے نپٹنے کیلئے وضع کیا گیا تھا۔اس قانون کو ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کا پیشرو مانا جاتا ہے۔یہ دونوں قوانین بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے نپٹنے کیلئے بنائے گئے تھے لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں نے دونوں کو بہت سخت اور سیاہ قانون قرار دیا تھا۔ان دونوں قوانین کو واپس لے لیا گیا تھا۔

یو اے پی اے میں وقتاً فوقتاً ہونے والی ترمیموں نے اس قانون کو اور زیادہ سخت بنادیا ہے۔2019 میں ہونے والی آخری ترمیم کی رو سے اب کسی بھی انفرادی شخص کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔اس سے پہلے تنظیموں کو ہی دہشت گرد قرا ر دیا جاسکتا تھا۔یو اے پی اے کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔

اس قانون کا استعمال روایتی قسم کی دہشت گردی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بجائے دوسرے واقعات میں ہوتا رہا ہے۔یہ قانون عرصہ سے رضا کاروں‘اسٹوڈینٹ لیڈروں اورصحافیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔بھیما کورے گاؤں کیس میں بھی رضا کاروں کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔کشمیر میں دو صحافیوں کے علاوہ دہلی میں طلبہ تنظیم پنجرہ توڑ کی رضاکار دیونگنا کلیتا اور نتاشا نروال‘کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں‘یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے خالد سیفی‘جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ صفورا زرگر اور اب عمر خالد کے خلاف اس قانون کا استعمال کیا گیا ہے۔

عمر خالد کے خلاف یہ کارروائی ایک ایف آئی آر نمبر 59-2020 کی بنیاد پر کی گئی ہے جس میں آئی پی سی کی دفعات 302 , A-153 اور 124-A بھی شامل کی گئی ہیں۔یہ دفعات بالترتیب قتل‘ مذہب کی بنیاد پر مختلف طبقات میں دشمنی کو فروغ دینے اور ملک سے غداری سے بحث کرتی ہیں۔

پولیس نے اپنے کیس میں اس الزام کو کلیدی بنیاد بنایا ہے کہ مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کا پیشگی منصوبہ عمر خالد اور دوسروں نے بنایا تھا۔ عمر خالد پر الزام ہے کہ انہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور لوگوں کوسڑکوں پر آنے کیلئے اکسایا تاکہ ٹرمپ کے دورہ کے دوران اس پروپگنڈے کی زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو ستایا جارہا ہے۔پولیس نے عمر خالد کے خلاف وہاٹس ایپ کے مکالموں کے تبادلہ کو سازش کو انجام دینے کیلئے استعمال کرنے‘ مبینہ طور پر گواہوں کے بیانات اور اندرون ملک اور غیر ملکوں سے حاصل شدہ فنڈ کے ثبوت اکٹھا کرنے کا دعوی کیا ہے۔۔۔لہذاان کے خلاف درج مقدمہ میں بعد میں یواے پی اے کی دفعات 13, 17, 16 اور 18کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: کوئی بھی ایکشن‘ خواہ بول کر ہو یا لکھ کر ہو‘ علامت اور اشارے کے طور پر ہو یا نظر آنے والا ہو۔جس کا مقصد ملک کے کسی بھی حصہ میں علیحدگی پسندی کا دعوی کرنا ہو یا اس میں تعاون کرنا ہو اور جو کسی کو بھی علیحدگی پسندی پر ابھارتا ہو‘ جو ہندوستان کی علاقائی سالمیت پر سوال اٹھاتا ہو‘ یا اس میں خلل ڈالتا ہو یا خلل ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہو اور جس سے ہندوستان کے خلاف نا امیدی پیدا ہوتی ہو۔

لطف کی بات یہ ہے کہ لفظ Disaffection یا نا امیدی کی قانون میں مزید تشریح نہیں کی گئی ہے اور یہ صرف ایک بار استعمال ہوا ہے۔

یو اے پی اے کے سیکشن 13 کے تحت ہر اس شخص کو سات سال تک کی قید کی سزا دی جاسکتی ہے جوکسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی وکالت کرے‘ کسی کو اس پر آمادہ کرے‘ کسی کو اس کا مشورہ دے یا اسے انجام دینے کیلئے اکسائے۔

سیکشن 16 کے تحت اس شخص کو موت یا عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے جس کے غیر قانونی عمل سے کسی کی موت واقع ہوگئی ہو۔۔۔ یہ قانون کسی دہشت گردانہ سرگرمی کی تشریح اس طرح کرتا ہے: ایسا ایکشن جو ملک کے اتحاد‘ اس کی سالمیت‘ تحفظ یا اقتدار اعلی کے لئے خطرہ پیدا کرے یا اس کا ارادہ کرے اور ایسا ایکشن جس سے کوئی زخمی ہوجائے یا اس کی موت ہوجائے یا اس کا سبب بنے اور پراپرٹی کو نقصان پہنچائے یا اس کا سبب بنے۔

سیکشن 17 کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے اور سیکشن 18کے تحت کسی دہشت گردانہ سرگرمی کیلئے سازش کرنے یا اسکی تیاری کرانے کی پاداش میں سزا دینے کا التزام ہے۔

عمر خالد کے خلاف یو اے پی اے لگانے کی جو لوگ نکتہ چینی کر رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ اختلاف رائے یا پر امن احتجاج‘ ملک کے خلاف نا امیدی (Disaffection) کا سبب نہیں بنتا لیکن پولیس نے عدالت میں کہا ہے کہ یہ فسادات حکومتی مشینری کو خوف زدہ کرنے کیلئے ایک بڑی سازش کے طور پر کرائے گئے تھے اور یہ کہ حکومت ہند کے خلاف نا امیدی اور بغاوت پیدا کرنا ساز ش رچنے والوں کا ایک خاص مقصد‘ ہدف اور مینڈیٹ تھا۔ پروسیکیوشن نے یہ بھی کہا ہے کہ احتجاج کا مقصد حکومت ہند کو برباد کرنا‘ غیر مستحکم کرنا اور توڑنا تھا تاکہ حکومت دباؤ میں آکر سی اے اے اور این آر سی کو واپس لے لے۔

یو اے پی اے کے تحت ماخوذ ملزموں کو شاذونادر ہی ضمانت ملتی ہے۔(اس ضمن میں صرف صفورا زرگر کو ضمانت ملی ہے اور وہ بھی دہلی ہائی کورٹ نے انسانی بنیادوں پر دی ہے‘کیس کی میرٹ پر نہیں) عدالت اگر مطمئن ہو کہ بادی النظر میں ملزم پر مقدمہ درست ہے تو وہ ضمانت کی درخواست مسترد کرسکتی ہے۔ملزم پیشگی ضمانت کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور تفتیش کی مدت 90 دن سے بڑھاکر 180دن کی جاسکتی ہے۔ یعنی ملزم کو کم سے کم 180دن تو ضمانت ملنے کا کوئی امکان نہیں۔یو اے پی اے کے تحت ملزم کو 15دن کی بجائے 30 دن کیلئے پولیس کسٹڈی میں دیا جاسکتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*