یہ بے ثبات زندگی ـ ودود ساجد

 

انسان ایک مجبور محض عنصر کا نام ہے۔ کل رات تک این ڈی ٹی وی کیلئے لکھنؤ سے رپورٹنگ کر رہے تھے لیکن اب وہ کمال خان رخصت ہو گئے ۔ الیکٹرانک میڈیا کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ۔

اب کچھ کچھ وقفہ سے ایسی ایک اطلاع ضرور ملتی ہے۔ کل کی ہی بات ہے’ پچھلے 24 سال سے میرے ایک شناسا سرتاج علی اچھے خاصے کام سے لوٹے اور رخصت ہوگئے ۔

میں انہیں سرتاج بھائی کہتا تھا ۔ وہ پچھلے 17-18 برس سے میرے میکینک بھی تھے۔ گاڑی کی کوئی بھی خرابی ہو سرتاج بھائی کو ہی بتایا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ پنکچر بھی وہی لگاتے تھے۔ اسٹپنی بھی وہی بدلتے تھے۔ گاڑی کہیں راستے میں خراب ہوتی تو وہی اپنے اسکوٹر پر ٹھیک کرنے کیلئے آتے تھے ۔ وقت کی پابندی کے ساتھ وہی موبل آئل اور انجن کو ٹھنڈا رکھنے والا پانی بدلتے تھے۔

12 جنوری کو دن میں گاڑی خریدنے کے سلسلے میں کئی مرتبہ فون پر ان سے مشورہ ہوا تھا۔ اسی روز جب شام کو 3 بج کر 37 منٹ پر ان کی ویڈیو کال دیکھی تو حیرت ہوئی تھی ۔ سرتاج بھائی اور ویڈیو کال؟ وہ کبھی ویڈیو کال نہیں کرتے تھے۔ کبھی نہیں ۔ انہوں نے کبھی سادہ وہاٹس ایپ کال بھی نہیں کی۔ اس لئے مجھے حیرت ہوئی تھی ۔ میں نے ویڈیو کال ریسیو کی لیکن اپنی طبیعت کی ناسازی کی بات انہیں نہیں بتائی۔ انہوں نے چہرہ کی کیفیت دیکھ کر پہچان لیا: کیا ہوا؟ کیوں ایسا چہرہ بنا رکھا ہے؟ دفتر نہیں گئے؟

میں مسکراتا رہاـ سرتاج بھائی آج ویڈیو کال؟
ہاں! سنو پرانی گاڑی مت لینا۔نئی گاڑی لو۔15 سال تو چلے گی۔ پرانی لوگے تو روز میکینک کے یہاں کھڑی رہے گی۔ روز پیسہ لگاؤگے۔ کیا فائدہ۔ چھوٹی لے لو مگر نئی لینا۔ ٹھیک ہےـ

میں ان کی کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا ۔ حیرت اور مسکراہٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ سرتاج بھائی آج ویڈیو کال کیسے کرلی؟ سرتاج بھائی کے تیل اور گرد سے اٹے ہاتھ میں موبائل ۔ گرد سے اٹا ہوا چہرہ ۔مگر کھِلتے ہوئے دانت۔

وہ مجھے ڈانٹ بھی دیتے تھے ۔۔ میری نئی گاڑی میں انہوں نے "گیئر لاک” لاکر لگایا تھا۔ جب کبھی میری ذاتی پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی کوئی خرابی ٹھیک کرنے آتے تو بند گاڑی میں سب سے پہلے جھانک کر دیکھتے کہ گیئر لاک لگا ہے یا نہیں ۔ نہیں لگا ہوتا تو سب کچھ چھوڑ کر زور سے پوچھتے : یہ بتاؤ گیئر لاک کس لئے ہوتا ہے؟
میں کہتا سرتاج بھائی گاڑی تو اپنی پارکنگ میں ہے۔ اب آرام سے کہتے: دیکھو سیفٹی پہلے ہے۔ اپنا پورا انتظام کرو’ پھر الله کے اوپر چھوڑ دو ۔مجھے الله کے رسول صلی الله عليه وسلم اور ایک بدّو کا واقعہ یاد آجاتا۔اونٹ کو پہلے باندھ کر آؤ پھر الله پر توکل کرو۔

پچھلے 24 برس کے تعلق میں پہلی بار 12 جنوری کو کیوں ویڈیو کال کی تھی۔ سوچتا ہوں تو الله کے نظام پر یقین مضبوط در مضبوط ہوتا جاتا ہے ۔یہ در اصل آخری ملاقات تھی۔سرتاج بھائی کو آخری بار ہنستے ہوئے اور کسی حد تک ڈانتے ہوئے دیکھا اور سنا تھا۔۔ 13 جنوری کی صبح فجر سے پہلے ان کے بیٹے کا فون تھا: انکل میرے پاپا رات 11.30 پر انتقال کرگئے ۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔