یہ گورکھ دھندہ کیسا ، یہ بھول بھلیاں کیا ہے ؟  مشرّف عالم ذوقی

 

شہریت ترمیم بل اور این آر سی کو سمجھانے تین کروڑ خاندان کے پاس جائے گی بی جے پی اور دو سو پچاس پریس کانفرنس کرے گی اور لال قلعہ سے مودی جی کہ رہے ہیں کہ ہمارا ایسا کویی ارادہ ہی نہیں ہے، ڈیٹینشن سنٹر کو لے کر بھی مودی نے جھوٹ بولا کہ ملک میں ایسا کوئی سنٹر نہیں جبکہ پرشانت بھوشن ڈیٹینشن سنٹر کی تصویر بھی جاری کر چکے ہیں،ہندوستان کے دو ڈیٹینشن سنٹر میں ابھی بھی گیارہ ہزار سے زیادہ محصور افراد ہیں،کیا ملک کو بھول بھلیوں میں الجھایا جا رہا ہے یا تصویر کے ساتھ ساتھ ملک کو ایک بڑی سازش کی طرف ڈھکیلا جا رہا ہے،امت شاہ کا ہر بیان مسلمانوں کے خلاف ہوتا ہے، اور ان کے گھس پیٹھئے در اصل مسلمان ہی ہوتے ہیں جن کو نکالنے کی بات وہ بار بار کہ رہے ہوتے ہیں، امت شاہ اور مودی کے بیان میں آخر اتنا فرق کیوں ہے ؟ اس کا ایک پہلو بی جے پی کے اندر اب ان دو مضبوط لیڈران کے اختلاف کو بھی سامنے رکھتا ہے،کیا مودی امت شاہ کی بڑھتی طاقت سے خوفزدہ ہیں ؟ کیا کیب اور این آر سی کی سیاست سے مودی آگاہ ہیں کہ ملک پر اس کا غلط اثر پڑے گا اور ابھی جھارکھنڈ کی شکست کے بعد آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بڑے آدی واسی سماج اور جھارکھنڈ کے عوام نے سی اے اے کو مسترد اور سرے سے خارج کر دیا ہے، امت شاہ اور مودی کے اختلاف جھارکھنڈ کے سیاسی تجزیے کے بعد سامنے آ سکتے ہیں،مودی ہندو راشٹر چاہتے ہیں مگر انتہا پسند ہونے کے باوجود مودی عجلت پسند نہیں ہیں،امت شاہ زیادہ عجلت میں دکھائی دیتے ہیں،جھارکھنڈ میں شکست کے بعد بی جے پی سمٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، ٢٠٢٤ پر نظر رکھنے والے مودی کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی بھی ہے،امت شاہ کے لئے بھی اور اسی لئے امت شاہ این آر سی اور سی اے اے کے ذریعے ہندو اکثریت کو ایک کرنے کے لئے بڑا گیم کھیل رہے تھے،جسے نوجوانوں اور ملک کے اتحاد نے خارج کر دیاـ امت شاہ کو یقین تھا کہ وہ کامیاب ہوں گے مگر کھیل اچانک پلٹ گیا، مودی کی تقریر بدلے ہوئے ہندوستانی مزاج کو لے کر تھی؛ لیکن امت شاہ ابھی بھی کہ رہے ہیں کہ دو ہفتے کے اندر وہ این آر پی لے کر آئیں گے،اب اس بھول بھلیاوالی سیاست کا صحیح جواب تو یہ دونوں ہی دے سکتے ہیں کہ ان میں سے جھوٹ کون بول رہا ہے؟

امید کا نظام قائم کرنا ضروری مگر جو باتیں شک و شبہات کے دائرے میں آتی ہیں ، ان پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے،پولیس کی کاروائی سے لے کر میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے.٢٢ دسمبر کورام لیلا میدان میں مودی کی سبھا سے ایک دن قبل آٹو والا گھوم گھوم کر اعلان کرتا چل رہا تھا کہ مودی نے تین طلاق ، دفعہ ٣٧٠ ، سیٹزن شپ آمیںدمنٹ ایکٹ ، این آر سی جیسا قدم اٹھا کر نیا ہندوستان بنایا ہے، آٹو رکشے والا ٹیپ بجا رہا تھا، یہ ٹیپ مختلف علاقوں میں بھی سنایی دیے ہوں گے،جو ٹیپ بج رہا تھا ، اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے،کھلے طور پر اکثریت سے کہا جا رہا ہے کہ دیکھو ، ہم نے مسلمانوں کو ان کی اوقات بتا دی،یہ کام صرف ہم ہی کر سکتے تھے،صرف سبھا میں بلانا مقصد ہوتا تو تین طلاق ، دفعہ ٣٧٠ ، سیٹزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ ، این آر سی کا نام نہیں لیا جاتا، یہ ہٹلر شاہی نفسیات کا صفحہ ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی مزید بے شرم ہونے کی تیاری کر رہی ہے،اب ظاہر ہو چکا ہے کہ مسٹر جیو کی اہلیہ نیتا امبانی نے ٹویٹر پر جولکھا وہ فرضی نہیں تھا،جیو سے وابستہ ایک مسلمان شخص نے نیتا کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو لے کر استعفا دے دیا،نیتا نے صاف طور پر مسلمان غداروں کو ملک سے نکالنے کی بات کہی اور یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ہندو راشٹر بنانے کا خواب صرف مودی امت شاہ ہی کر سکتے ہیں اسلئے ہندوؤں کو ان کا ساتھ دینا چاہیے،نیتا نے یہ ٹویٹ ایسے موقع پر کیا ہے جب امت شاہ گھس پیٹھیوں کو نکال باہر کرنے والے بل کو قانون کی شکل دے چکے ہیں،اب شاید مودی اس سے بھی انکار کریں کہ قانون کب بنا ؟ کس نے بنایا ؟ کبھی کبھی شک ہوتا ہے کہ اس ملک کے وزیر اعظم مودی نہیں امت شاہ ہیں ـ

٢٠١٩ انتخابات کے بعد مودی اور امت شاہ کی پریس کانفرنس کو یاد کیجئے،٢٠١٤ سے ٢٠١٩ تک مودی کی قیادت رہی، امیت شاہ بی جے پی کے قومی صدر تھے،مگر مودی کے پیچھے تھے، انتخابات ہونے تک مودی کو جیت کا یقین نہیں تھا،پریس کانفرنس میں مودی کے چہرے کے تاثرات کو یاد کریں تو یہ چہرہ ایک شکست خوردہ سیاست دان کا چہرہ تھا ، جو سوچ رہا تھا کہ شکست ملنے کے بعد انجام کیا ہوگا ؟ امت شاہ کے چہرے پر سکون تھا ، شاہ کو یقین تھا کہ بازی ان کے ہاتھ رہے گی، پریس کانفرنس میں مودی خاموش رہے،شاہ کو جو بولنا تھا ، بولتے رہے . بازی یہاں سے پلٹ گئی،انتخابات میں مودی کی واپسی ہوئی لیکن اصل واپسی شاہ کی ہوئی،وزیر داخلہ بنائے گئے،چھ ماہ کے اندر مودی پیچھے ہو گئے، شاہ آگے چلے گئے، کشمیر ٣٧٠ ، این آر سی ، کیب سب پر شاہ کی مہر ہے،آزادی سے اب تک اگر غور کریں تو وزیر داخلہ کی حیثیت عام طور پر صدر جمہوریہ کی طرح رہی ہے،وزیر داخلہ کبھی کبھی کوئی بیان جاری کرتا ہے،در اصل وزیر داخلہ ، وزیر اعظم کے کام کو ہی آگے بڑھاتا ہے،راج ناتھ بھی کٹھ پتلی تھے ، امت شاہ کٹھ پتلی نہیں بلکہ وہ ذمہ داری ادا کر رہے ہہیں جو مودی کو ادا کرنی تھی ـ

ان دونوں کی بھول بھلیامیں ہم اس حقیقت کو خارج نہیں کر سکتے کہ اس وقت ہم مشکل اور بے رحم وقت کا سامنا کر رہے ہیں، دلی میں بھی کیجریول کی جیت کے آثار نظر آ رہے ہیں،جھارکھنڈ کے بعد بی جے پی دوسری ریاستوں میں کمزور پڑے گی، مضبوطی کے لئے امت شاہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں،کیب کے بعد کچھ اور قانون بھی لا سکتے ہیں . نیتا امبانی ، مکیش امبانی اب مودی امت شاہ کے ہدف کو آسان بنانے میں لگے ہیں، اس لئے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں؛لیکن مودی وامت شاہ کو اب ہندوستانیوں کے اتحاد سے فرق ضرور پڑے گاـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*