یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے!

ام ہشام
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر غور کرنے سے ایسے ہزاروں زاویے کھل کر سامنے آتے ہیں کہ ایک صاحب بصیرت کا ذہن عش عش کر اٹھتا ہے اور بالخصوص جن الفاظ میں اللہ تبارک وتعالی نے قرآن میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے ،وہ سارے Superlative form میں ہیں ،یعنی مبالغے کے صیغے ہیں اور پھر اس پر اللہ کا یہ ارشاد کہ ’’یہ تمھارے ’’باپ ’’ابراھیم کا دین ہے‘‘ اور امت مسلمہ کو یاد دلایا جارہا ہے کہ جس دین کی طرف تم اپنی نسبت کرتے ہو ،وہ دین تو تمھارے باپ ابراہیم کا ہے۔ جہاں یہ نسبت ہمارے لیے باعث افتخار ہے، وہیں ہمارے کندھوں پر بہت بڑی ذمے داری بھی ڈالتی ہے اور اس ذمے داری کو ہر مسلمان کو محسوس کرنا چاہیے۔
ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی، بچپن، جوانی، ضعیفی کے سارے مراحل ہمارے لیے قابل تقلید اور لائق صد افتخار گائیڈ لائن ہیں۔
تو آئیے ان کی تابناک اور روشن زندگی سے اپنی تاریک اور افلاس زدہ زندگی کے لیے روشنی تلاش کریں ، اس سے بھی پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک عام انسانی دنیا میں وہ کون سے حالات واسباب ہوتے ہیں ،جن میں بندہ اپنی حقیقت کو بھول بیٹھتا ہے اور شیطان کے مزین کیے ہوئے راستوں پر بے تحاشا بھاگتا ہوا نظر آتا ہے، جہاں وہ عصیان کا سب سے زیادہ شکار ہوتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمھارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔ (الحدید۶۱)
دنیاوی زندگی میں چار بشری کمزوریوں کو کتاب اللہ یہاں مینشن کررہی ہے کہیہ محض کھیل کود، زیب وزینت، باہمی فخروغرور، مال و اولاد کی کثرت میں مسابقت کرنا ہے۔ تمام انسانوں کی زندگی انہی چاروں دائروں کے گردگھومتی ہے۔ بچپن اور جوانی کے بے فکر ایام، سب سے اچھا اور منفرد بن جانے کی کوشش میں بے دریغ خرچ کرنا، مال و دولت، حسب ونسب، ذہانت وخوبصورتی پر فخر کرنا۔ ان تمام کو انسان کامیابی کی دلیل سمجھ بیٹھتا ہے، پھر اس کے پاس بس ایک ہی مقصد باقی ہوتا ہے کہ اسے ہر قیمت پر سب سے آگے نکل جاناہے۔
اس دائرے کے ہر نکتے میں ہم حیات ابراہیم علیہ السلام کا موازنہ ایک عام انسانی زندگی سے کرتے ہیں؛ تاکہ ہم اپنی حقیقت اور ابراہیم علیہ السلام کی عظمت سے واقف ہوسکیں۔
کھیل کود:
آج ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ کھیل کود بہت ڈیویلیپ ہورہے ہیں، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر کھیل کود کے انتظام وانصرام کے لیے ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا جارہا ہے، ہماری یہ دنیا کھیل کود سے حیران کن حدوں تک مزین ہوچکی ہے اور دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے گرد جمع ہوچکا ہے۔ کوئی کھیل رہا ہے ،تو کوئی دیکھ رہا ہے، غرضیکہ سب کے پاس اپنی تفریح کا کوئی نہ کوئی سامان ضرور موجود ہے۔
بحیثیت فرد اور معاشرہ کبھی ہم نے یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ لہو و لعب کا انتظام عالمی پیمانے پر کون لوگ کرارہے ہیں، یہ جان لینے کی سخت ضرورت ہے کہ یہ وہی دشمنان اسلام، وہی دشمنان انسانیت ہیں ،جو آج پوری دنیا پر مقتدر ہیں، جن کا سکہ ساری دنیا میں چل رہا ہے، جو ارباب حل وعقد ہیں۔ دراصل یہ ایک منظم سازش ہے لوگوں کی عقلوں کو مارنے کی، ان کی سوچ وفکر کی صلاحیت کو ختم کرنے کی اور ایسا کرنے والے لوگ پوری طرح کامیاب بھی ہوچکے ہیں۔ ان کے عزائم میں یہ بات شامل ہے کہ بھولے بھالے انسانو! تم اپنے مقصد کو بھلائے، کھیل کود میں مگن رہو ،ورنہ اگر تم جاگ گئے ،تو ہماری گدّیاں مشکل میں پڑجائیں گی، تم سوتے رہو؛ تاکہ ہمارا یہ ظلم چلتا رہے، تم نے اگر غوروفکر کرنا شروع کردیا، تو ہمارے یہ کاروبار ٹھپ پڑجائیں گے۔
جہاں انسانی دنیا لہو لعب کو ہی زندگی سمجھ رہی تھی، وہیں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے دور طفلی میں ہی اپنی قوم کے سامنے شمس و قمر اور ستاروں کی خدائی کا ابطال ثابت کردیا۔ اپنی زبردست قوتِ غور وفکر سے یہ حیرت انگیز کام کر دکھایا، اس سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ آفاق وانفس میں غوروفکر کرتا رہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی غوروفکر ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ سچ کو تلاش کیا جائے اور جب یہ سچ اور حق ہمیں مل جائے ،تب اس پر استقامت دکھائی جائے۔ یہ زریں اصول حضرت ابراہیمنے دنیا کو عطا کیا رب واحد کی تلاش میں۔
حضرت ابراہیم کا اپنی قوم کے نام ایک واضح پیغام تھاکہ:
(تم اسی کھیل کود میں پڑے رہو ،میں تمھارے ساتھ یہ غفلت بھری زندگی نہیں گزار سکتا ؛بلکہ اب میں نے غوروفکر سے اپنی منزل کو پالیا ہے اور میں تمھارے معبودان باطلہ سے بری ہوکر) اپنے رخ کو پھیرتا ہوں اس خدائے واحد کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو پیداکیاہے اور میرا شمار مشرکوں میں سے نہیں ہے۔(الانعام: 79)
وہ یکسو اور فوکسڈ مسلمان تھے ،جنھوں نے اپنی عمر کے ہر پڑاؤپر پوری توجہ اپنی زندگی کے ہدف کو تلاش کرنے میں لگادی۔ان کی سوچ وفکر، ان کا ہر قول وعمل رضائے الہی کا پابند تھا۔ وہ ہم جیسے مسلمان نہیں تھے کہ جن کی زندگیاں ڈسٹرکشنز سے بھرپور ہوں۔ ہم دیکھیں ہماری عبادات، ملی اور معاشرتی زندگی، ازدواجی زندگی، خریدوفروخت، اخلاقی وتہذیبی اقدار، زندگی کے ہر شعبے میں ہم ڈسٹرکشن کے شکار ہیں ،جبکہ حضرت ابراہیم ہر مرحلہ پر فوکسڈ رہے، حق کے ساتھ بغیر کسی سمجھوتے کے اللہ کی عطا کردہ زندگی کے سبھی حقوق نبھاتے رہے۔
یہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے دماغ کو سوچنے کی طرف مائل نہیں کررہے،یہ زندگی کے کھیل تماشے سجانے والے تو خود مشرک، کافر یا اللہ سے بیزار ہوتے ہیں، کمال چالاکی سے یہ ہم پر ہماری سوچ اور فکر کا دروازہ بند کرتے جارہے ہیں؛ تاکہ ہم اللہ کی طرف نہ آسکیں۔ یہی شیطان کا سب سے اہم وار ہے کہ انسانی دماغ پر مختلف حیلوں بہانوں سے تالا لگا دیا جائے ،ورنہ اگر ابن آدم نے غوروفکر کرنا شروع کردیا، تو وہ خدائے واحد کی طرف پہنچ جائیگا۔اور اسی خاطر اس نے ساری دنیا کو کھیل کود میں پھنسا رکھا ہے۔
لہوو لعب کی پرکشش محفلوں کو رد کرتے ہوئے ابراہیمعلیہ السلام کا اپنے سچے الہ کو تلاش کرنا اور اسے پانے کے بعد اپنے اطراف سے بری ہوکر اس کی طرف یکسو ہوجانا ہمارے لیے ایک عظیم الشان دعوت فکر وعمل ہے۔
زیب وزینت:
اس محاذ پر بھی اسوۂ ابراہیمی ایک روشن اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ حد سے تجاوز کرتی دنیاوی زیب وزینت، مصنوعی آرائش وزیبائش کی بھاگ دوڑ میں وہ بھی ایک نوجوان تھے ،جن کا باپ بت گر تھا اور بادشاہ وقت کے ذریعے بت پرستی کو سرپرستی حاصل تھی، پوری قوم زیب وزینت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ابراہیم علیہ السلام کا پوری قوم کے سامنے ڈٹ جانا اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اللہ نے آپ کا یہ شاندار کردار اپنی کتاب میں اپنے بندوں کے سامنے رکھ دیا کہ تم چند سالہ زینت پر اپنی پوری زندگی لٹارہے ہو، ذرا اپنی نظر اٹھاکر اپنے باپ ابراہیم کو دیکھو! اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اور تمھارے آبا جن معبودوں کی پرستش کرتے ہو، جن کے گرد پوری قوم کو گھمارہے ہو ،ان کے لیے میرا ایک ہی کنسپٹ (Concept) ہے اور وہ یہ کہ تمھارے یہ معبود میرے لیے تو سب کے سب دشمن ہیں، سوائے ایک رب العالمین کے۔(الشعراء:۷۷)
ایک مسلمان بحیثیت انسان کچھ اس طرف بھی دیکھے کہ اس پر کیسے حالات آن پڑے ہیں کہ پوری دنیا کی دولت چند مٹھیوں میں سمٹ چکی ہے۔ آرائش وزیبائش کی انڈسٹریز ملین ڈالرز پر مشتمل ہیں، دنیا کی ایک تہائی آبادی بھوک سے مررہی ہے ،وہیں اربوں کھربوں کی معیشت فیشن انڈسٹری اور زیب وزینت پر پھونکی جارہی ہے،بنیادی ضروریات Basic Necessity پر کوئی خرچ نہیں ہورہا، البتہ ہر خاص و عام فیشن پروری میں ضرور لگا ہوا ہے، یہ انسانی زندگی کی سب سے نچلی سطح ہے ،جس پر ہم سب زندگی گزار رہے ہیں۔ آسائشِ زندگی کو اعلی ترین سطح پر پہنچانے کے لیے جو پیسہ خرچ کیا جارہا ہے، اس کا عشر عشیر بھی انسان کی بنیادی ضروریات پر نہیں ہورہا، ظاہر ہے کہ یہ مادیت کی ترقی اور عام انسانوں کی پسپائی ہے ۔
تفاخر بینکم:
یہ ایک تیسرا محاذ ہے ،جہاں پر اللہ رب العزت نے آپس میں فخر کرنے والوں پر نکیر کی ہے اور ان کے فعل کو نہایت اوچھا اور لغو کہا ہے۔ قرآن اسے‘‘تفاخربینکم’’کا نام دیتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام نے جس ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں، وہ ماحول آج کے ماحول سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ جہالت کے وہ گھنگھور اندھیرے تھے کہ ابھرتی ہوئی روشنی کو ہر قدم تیرگی کا سامنا تھا،ہر اس صدائے حق کا گلا گھونٹ دیا جاتا، جو لوگوں کے دل ودماغ میں انقلاب برپا کرسکتی تھی، انسان کی اپنی معرفت کا ادراک تو دور کی بات، پیدا کرنے والے کی معرفت ہی سوالیہ نشان بنی ہوئی تھی، انسانی آبادی حیوانوں سے بھی بدتر زندگی گزار رہی تھی، پوری قوم‘‘تفاخر بینکم’’کے گورکھ دھندے میں لگی ہوئی تھی، ٹھیک ویسے ہی ،جیسے آج ہمارا حال ہے اور آج کے مسلمانوں کی فکر کل ہے۔ ہم ہر چھوٹی بڑی بات پر فخر کرتے ہیں، خواہ وہ معاملات ہوں یا عبادات ہر مرحلہ پر ہم فخرو غرور میں مبتلا پائے جاتے ہیں، نیکیاں بہی چلی جارہی ہیں، اعمال سیاہ ہوتے جارہے ہیں، اجتماعیت کہیں دور جا بسی ہے، نام ونمود نے اخلاص ومروت کا جنازہ نکال دیا ہے، ہر خاص و عام اس میں لپٹا ہوا ہے، عوام الناس تو ایک طرف، پڑھا لکھا اور دیندار طبقہ، سماجی، فلاحی اور دینی ادارے، جن کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ عوامی تعاون سے آتا ہے ،وہ بھی‘‘تفاخر بینکم’’کے اس میدان میں بہت بڑا مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں،نام ونمود کی خاطر بے مقصد اور اسراف سے بھری مجالس لگا کر اپنے آپ پر فخر کرنے میں پیچھے نہیں رہتے،ملی، فلاحی اور دعوتی کاموں پر کم ،انتظامیہ اور ذمے داران کی پبلسٹی پر ایک خطیر رقم صرف کردی جاتی ہے۔
معاشرہ پھٹتا جارہا ہے، ملت اسلامیہ کے پرخچے اڑ رہے ہیں، ہم کبھی دیدۂبصیرت سے دیکھیں ،تو ہمارے ملی ودینی تشخص، اخلاق و تہذیب کا جنازہ نکل چکا ہے، بحیثیت قوم ہم پوری دنیا کی نظروں میں چیونٹی کی طرح رینگ رہے ہیں ،جسے ہر بلند قامت اپنے قدموں تلے بس روندنا چاہتا ہے اور ہم ہیں کہ آپسی فخروغرور اور عیش پرستی کی زندگی میں بے سدھ پڑے ہیں کہ گردوپیش کی ریشہ دوانیوں پر ہماری نظر نہیں پڑتی۔
تفاخر بینکم کی زندگی خواہ دیندار طبقہ گزار رہا ہو یا عام طبقہ، اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔
یہ ابراہیم علیہ السلام کا بہت بڑا اسٹینڈ تھا کہ جب ان کی پوری قوم تفاخر بینکم میں پھنسی ہوئی تھی، تب آپ نے وقت کے حکمراں کو چیلنج کیا:
کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا، جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا؟ جب ابراہیم نے کہا کہ: میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، تو وہ کہنے لگا کہ: میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا: اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ، اس پر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔(البقرہ: 258)
ابراہیم علیہ السلام نے بادشاہِ وقتسے کہا کہ تم یہ کیسا سسٹم چلارہے ہو ؟اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ تم یہ شرک کی مجلسیں لگاتے ہو، کمزور اور معصوم لوگوں کو اپنے در پر جھکاتے ہو۔ درحقیقت تم ساری انسانیت کو ظلمات میں پھینک رہے ہو۔ میں ہرگز تمھیں رب نہیں کہہ سکتا کہ میرا رب تو وہ ہے، جو موت اور زندگی دینے والا ہے اور پھر وہ تاریخی اور شاندار مکالمہ ہوتا ہے، جس کا ذکر اوپر ہوا۔
یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ایک دم Simple Logic پر حضرت ابراہیم نے بتوں کی خدائی کا انکار کردیا تھا، پھر شمس وقمر اور کواکب پرستی پر بھی نکیر کی یہ کہہ کر کہ ڈوبنے والے اور تغیر پذیر چیزیں خدا نہیں ہوا کرتیں، یہاں بھی انھوں نے بہت ہی سادہ انداز میں بنیادی پوائنٹ کے ساتھ اپنی بات بادشاہ کے سامنے رکھی کہ اگر تم واقعی خدا ہو، تو سورج کو مغرب سے نکال کرلاؤ۔آپ کے اس سادہ سے جملے پر غور کیا جائے،حضرت ابراہیم کا غضب کا Common sense اور انکساری اور تواضع پسند(Down to earth) رویہ داعیانِ ملت کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔
آج اللہ کی طرف بلانے والوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت کے ڈھیروں صفحات کو تو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیتے ہیں ؛لیکن اسوۂ ابراہیمی اور اسوۂ محمدی کی ہلکی سی عملی تفسیر بھی ان کے ذہن میں نقش نہیں ہوپاتی،جواب دینے کے اس اسلوب پر غور کیا جائے کہ کس طرح بہت آسانی سے پوری مملکت کے ہر خاص وعام کے سامنے آپ نے کم سے کم لفظوں میں بادشاہ کو لاجواب کردیا۔ نہ ہی لچھے دار تقریریں کیں ، نہ ہی فلسفیانہ موشگافیوں سے کام لیا۔ قرآن کریم آپ کے اس دلکش انداز کو کہتا ہے:’’ فبھت الذی کفر‘‘کہ کافر ہکا بکا رہ گیا۔یہ اسلوب ہر داعیِ دین کو اپنانا چاہیے، اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔(آمین)
مال و اولاد میں مسابقت:
اسوۂ ابراہیمی ہمیں آواز دیتا ہے کہ اے ایک اللہ کے ماننے والو! اٹھو اور اس سسٹم کو چیلنج کرو ،جو لوگوں کو تباہ و برباد کررہا ہے، ایک ایک آدمی پر فردا فردا ظلم کررہا ہے، اسوۂ ابراہیمی ہماری غیرت کو للکارتا ہے کہ جس چیز سے تمھیں نبرد آزما ہونا چاہیے، تم اسے برداشت کرتے ہو اور جن چیزوں کو برداشت کرنا چاہیے ،ان پر تم آپس میں کٹتے اور مرتے جارہے ہو۔
قرآن کریم میں اللہ جہاں یہ فرماتا ہے کہ:
مال اور بچے دنیاوی زینت ہیں۔(الکہف:46)
وہیں اللہ فرماتا ہے:
خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمھارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔(الحدید)
ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ہر دور میں اللہ کے ماننے والوں کو اپنے ہر قول و فعل سے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ مال ودولت کا فخر اور اولاد کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے آپسی فخر وغرور کبھی میری زندگی کا مقصد نہیں رہے؛ بلکہ میں نے ہر قدم پر اپنے آپ کو اس سطح سے اونچا اٹھانے کی کوشش کی ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے انھیں جو رفعت عطا کی ،وہ Unthinkable اور انسانی سوچ سے پرے ہے۔
جب اللہ نے کہا ابراہیم! میرا گھر ویران پڑا ہے، اسے آباد کرو، میں تم سے قربانی چاہتا ہوں۔تو ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا :کیسی قربانی؟ کہا کہ: اپنی بیوی اور بچے کو اس مقام پر چھوڑ آؤ،لے گئے اور دونوں متاع عزیز کو اللہ کے سپرد کرکے لوٹنے لگے ،دل بوجھل تھا؛ لیکن اللہ کی خوشنودی مطلوب تھی۔ اس قربانی کے بیان کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ کیسے جذبات رہے ہوں گے ایک باپ کے سینے میں، بیوی اور شیر خوار بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑ کر واپس جارہے ہیں۔ انھوں نے سوچا اس درد کے ضبط کی یہی شکل نکلتی ہے کہ رب کے سامنے اپنے آنسووں کو بہادوں کہ وہی مشکل کشا ہے:
کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے گھر کے قریب بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے (اور اس چھوڑنے کا ایک عظیم الشان مقصد ہے )کہ تیری اس زمین پر پھر سے سجدوں کا اعادہ ہوسکے۔ (ابراہیم:37)مجھے اولاد اپنے مال و زر کی پروٹیکشن کے لیے نہیں؛ بلکہ تیرے گھر کو سجدوں سے سجانے کے لیے چاہیے ؛اس لیے میں اپنی اولاد کو یہاں چھوڑے جارہا ہوں۔اللہ اکبر! کتنی خوبصورت نیت، کیسے اونچے عزائم اور کیسی قوت ارادی تھی!آگے کہتے ہیں :اللہ میرے تجھ سے دو ہی مطالبے ہیں،میں نے اپنا کام کردیا ہے، بس آپ یہ کردیجیے کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی جانب موڑ دیجیے۔ اللہ انھیں کھانے پینے کے میوے عطاکر ؛تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن کر زندگی گزاریں۔
حرفِ آخر
ابراہیم علیہ السلام نے عام انسانی زندگی کے حسن کو، اس کے مقام و کیفیت کو کامیابی کی جس معراج پر پہنچایا ،وہ مقام مسلمانوں کو چیلنج کرتا ہے کہ وہی ابراہیم ہیں ،جنھیں تم اپنا باپ کہتے ہو اور یہ وہی دین ہے ،جس دین کی طرف تم اپنی نسبت کرتے ہو،انھوں نے ہر دور میں اپنی زندگی کو ایک مقصد عطا کیا اور زندگی کو بلندی کی طرف گامزن کیا۔
انسان خود پسند اور خوشامد پسند ہوتا ہے، اس کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ جو بھی کام کرے، اسے فورا اس کی جزا اور اس پر ستائش مل جائے؛ لیکن حضرت ابراہیم ایک ایسے انسان تھے ،جنھوں نے اتنی بڑی بڑی قربانیاں دیں؛ لیکن اپنی زندگی میں نہ ہی اس پر مدح و ستائش کے طلبگار ہوئے ،نہ ہی اس کا بدلہ مانگا، رب سے کچھ چاہا ،تو بس یہی کہ اللہ!میری زندگی کے بعد لوگ مجھے اچھے نام سے پکاریں۔ اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ نیکو کاروں میں مجھے شامل کردے اورپھر ہم اس دعا کے نتائج کو دیکھیں کہ قیامت تک کے لیے حضرت ابراہیم کا نام اللہ نے کتنا اونچا اٹھایا کہ آج ایک ایمان والا جب بھی اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ،اس کی نماز میں ذکر ابراہیم بھی ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔
انھوں نے اللہ رب العزت سے بڑے ہی عجز کے ساتھ دعا فرمائی:
اللہ مجھے جنت کے وارثین میں سے بنادے۔(الشعراء:85)
ہم اپنا سچا تجزیہ کریں کہ جس ادنی ترین سطح پر ہم زندگی گزار رہے ہیں، وہ سوائے حرص و ہویٰ کے کچھ نہیں، اگر اسوۂ ابراہیمی کی ادنی سی مثال بھی ہماری زندگی میں شامل ہو، تو سمجھو کہ ہماری دنیا کامیاب ہے۔ ان کے دیے پیغامات پر عمل کرتے ہیں ،تو باوقار زندگی اور آخرت میں کامیابی کے حق دار بن سکتے ہیں؛ لیکن اگر اب بھی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے پیغام کو نظر انداز کردیا، توجماعتیں تو بہت ہوں گی ؛لیکن صرف تفاخربینکم سے کچھ حاصل نہ ہوگا، سانسیں چلیں گی ،سانسیں بند ہوں گی، جنازے پڑھے جائیں گے، قبرستان آباد ہوں گے؛ لیکن قوم کوئی کروٹ نہیں بدلے گی؛ کیونکہ:
تم دنیا کو ترجیح دینے والے ہو ،جبکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔(سورہ اعلی:16/ 17)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*