یہ برا ہے کہ برائی کو برائی نہ کہیں ـ وقار احمد ندوی

بات یہ پھیل گئی ہے کہ بُرا دور ہے یہ
اور یہ بات کہ گزرا ہوا دور اچھا تھا
بات ایسی ہے تو ہابیل کو مارا کس نے
کیسے قابیل کو اس جرم کی ترغیب ملی
بھائی کا قتل کیا کیسے گوارا اس نے
کشتیِ نوح میں کتنوں کو ملی جائے پناہ
کتنے طوفان بلا خیز میں غرقاب ہوئے
ساتھ ان کے ہوا فرزندِ نبی کیسے تباہ
ابن مریم کے لیے جس نے اٹھائی تھی صلیب
اپنے کندھے پہ، کوئی دشمنِ جانی تو نہ تھا
دوست نے دوست سے ہر دور میں کھائے ہیں فریب
زہر سقراط کو کیوں اور پلایا کس نے
آہ وہ مرد قلندر کہ تھا درِ نایاب
کیا کوئی بات غلط تھی جو کہی تھی اس نے
وہ محمد کہ جنہیں کہتے تھے دشمن بھی امین
ان کی ہجرت کے پسِ پردہ کوئی بات تو تھی
ورنہ ان کو بھی بہت پیاری تھی مکہ کی زمین
خونِ عثمان وعلی اور حسین بن علی
کیوں ہوا، کس نے کیا، یہ تو کوئی راز نہیں
رقم ہے صفحہء تاریخ پہ با حرفِ جلی
پس کسی دور کی ہر بات بری بات نہیں
یہ برا ہے کہ برائی کو برائی نہ کہیں
نور کو نور، سیاہی کو سیاہی نہ کہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*