یہ بے حس اور سفاک حکمراں! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
ہریدوار کا مہاکنبھ میلہ اپنے ساتھ کورونا کی سونامی لےآیا!
شاید بہت کم لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ یہ میلہ اپنی مقررہ تاریخ اور مدت سے ٹھیک ایک سال پہلے منعقد کیا گیا ہے ۔ جی ہاں، اسے ۲۰۲۲ء میں ہونا تھا مگر علم نجوم کے ماہرین کے مشورے پر یہ میلہ ایک سا ل پہلے ہی لگادیا ۔۔۔ گویا یہ کہ اتراکھنڈ کی ریاستی اور وزیراعظم نریندر مودی کی مرکزی سرکار نے یہ جانتے ہوئے کہ ملک کو کورونا وباء کی دوسری لہر کا سامنا ہے ، اور گنگا کے کنارے اتنے بڑے مجمع کے اکٹھے ہونے کا مطلب کورونا کو بے قابو کرنا ہے ، کنبھ میلے اور شاہی اشنان کو ہری جھنڈی دکھادی ۔ اور اس کے نتیجے میں آج ملک کورونا کی ایک ایسی سونامی کی زد میں ہے جو روزانہ ہی سیکڑوں افراد کو نگل رہی ہے ۔ اب تک لاکھوں افراد اس کی زد میں آچکے ہیں ۔ اور ماہرین کی مانی جائے تو آنے والے دنوں میں یہ سونامی بہت ساری جانیں لے گی اور بہت سارے گھروں کو تباہ وبرباد کردے گی ۔ اسے بے حسی اور سفاکی کی انتہانہ کہا جائے تو کیا کہا جائے کہ اتراکھنڈ کی اور مودی کی سرکاروں نے جانتے بوجھتے ہندوستانی شہریوں کو موت کے منھ میں ڈھکیل دیا ہے ؟ آئیں مہاکنبھ میلے کی کہانی پر ایک نظر ڈال لیں ۔ سارا معاملہ دراصل ’بُرجوں‘ کے کھیل کا تھا یا ہے ۔ علم نجوم کے لحاظ سے ۲۰۲۱ء میں شمس کا برج حمل میں اور مستری کا برج دیو میں داخلہ ہونا تھا ، اور چونکہ ۸۳ سال میں ایک ہی بار ایسی ترتیب بنتی ہے لہٰذا اسے ’سعد‘ مان کر ’ مہا کنبھ‘ کو ۲۰۲۲ء سے ایک سال پیشتر کردیاگیا۔۔۔ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے ۔۔۔ لیکن یہاں معاملہ صرف ’سعد‘ یا ’نحس‘ کا نہیں تھا معاملہ تو ہندوتوا کی سیاست کا تھا، سارے’اکھاڑوں ‘ اور ان بڑے بڑے سادھوسنتوں کو رام کرنے کا تھا جن کا بی جے پی کو اقتدار پر متمکن کرانے میں اہم کرداررہا ہے ۔ اور جو مغربی بنگال سمیت ملک کی دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ’ ہندوتوا‘ کی لہر چلانے میں پیش پیش رہ سکتے تھے ۔ لہٰدا نہ کورونا کی دوسری لہر کو ’ مہلک ‘ سمجھ کر مہاکنبھ میلے کو روکا گیا اور نہ ہی اس بات پر غور کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس کی گئی کہ اگر مہاکنبھ میلے کے نتیجے میں کورونا بے لگام ہوا تو کیا ہوگا ، کتنے لوگوں کی جانیں جائیں گی ، ملک کی معیشت کس گہری کھائی میں جاگرے گی؟؟
جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں کورونا کے مریضوں کی تازہ ترین جو تعداد آئی ہے وہ ۳ لاکھ ۳۲ ہزار ہے ۔ یہ جمعہ کے اعدادوشمار ہیں ، اور گذشتہ تین دنوں سے نئے مریضوں کی تعداد ۳ لاکھ سے اوپر ہی آرہی ہے ۔ بھلا اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ یہ جان لیں کہ مہاکنبھ میلے کا انعقاد صرف اس لیے نہیں ہوا کہ چند سادھو اور سنتوں نے ’سعد‘ اور ’نحس‘ ستاروں کے تعلق سے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی معلومات میں اضافہ کیا تھا ، یہ صرف اور صرف مغربی بنگال کا اسمبلی الیکشن جتنے کا ایک ’ہندوتووادی‘ لائحہ عمل تھا۔۔۔ اور اس میلے کے انعقاد کے پش پشت ، ملک کی ہندواکثریت کو، جوبڑی تیزی سے ’ ہندوتوا‘ کے ’گیروے‘ رنگ میں رنگتی جارہی ہے ، یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اگر ہندوسماج اور ہندو تہذیب کی کسی سیاسی پارٹی کو فکر ہے تو وہ صرف اور صرف بی جے پی ہے ، جس نے ۲۰۱۹ء میں تبلیغی جماعت پر تو سختی کی مگر ہندوؤں کو ہر طرح کی ’مہاکنبھ میلے تک کی‘ کورونا کی لہر کے باوجود چھوٹ دے رہی ہے ۔۔۔ مودی جی ، ان کے ہمیشہ کے ساتھی امیت شاہ جی ، بی جے پی کے صدر نڈاجی اور سارے بھاجپائی سارے سنگھی، اس میں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی شامل کرلیتے ہیں ، اپنی پیٹھ تھپتھپا سکتے ہیں کہ ’مہاکنبھ‘ نہیں رکنے دیا گیا جبکہ ’ تبلیغی مرکز‘ کو بند کردیا گیا تھا۔۔۔ اسے مغربی بنگال میں پرچار کا ایک موضوع بھی بناسکتے ہیں اور سارے اندھ بھکتوں کے درمیان سینہ تان کر کہہ سکتے ہیں کہ دیکھیے ابھی بھارت ’ہندوراشٹر‘ میں تبدیل نہیں ہوا ہے مگر ہم نے ’ہندوراشٹر‘ کے نظام کو لاگو کرنا شروع کردیا ہے ، ذرا بھیڑ لگاکر گھروں سے باہر نکلو اور بی جے پی کو جی بھر کر ووٹ دو ، پھر دیکھو کہ یہ ملک کیسے ’ ہندوراشٹر‘ بنتا ہے اور کیسے ، صرف ایک ’ تبلیغی مرکز‘ نہیں سارے ’ تبلیغی مراکز‘ ہمیشہ کے لیے بند کرادیے جاتے ہیں ۔ لیکن اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے باوجود وہ اس ملک کے شہریوں کے جائز سوالوں کے جواب نہیں دے سکتے کہ یہ کورونا سونامی سے بچنے کے لیے آپ نے کیا قدم اٹھائے ہیں ، کتنے نئے اسپتال تعمیر کرائے اور کتنے اسپتالوں کی جدید کاری کی ہے ، طبّی آلات ، دواؤں اور آکسیجن کا کتنا بڑا ذخیرہ آپ نے کیا ہے ؟ ان سوالوں کے جواب ان کے پاس ہیں ہی نہیں کیونکہ جب ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے تھے تب یہ بابری مسجد شہید کرواتے اور عدلیہ سے اس کی جگہ پر رام مندر تعمیر کروانے کے لیے فیصلے کراتے رہے ہیں ، یہ نئی پارلیمنٹ کی تعمیر کی منصوبہ بندی میں جُٹے رہے ہیں ، یہ مغربی بنگال کا الیکشن جیتنے کے لیے ریلیوں پر ریلیاں کرتے رہے ہیں ۔
دسمبر کے مہینے میں ماہرین نے یہ کہہ دیا تھا کہ بھارت میں کورونا کی تباہ کن لہر آسکتی ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے وارننگ دے دی تھی ۔ مودی سرکار کے پاس اچھا خاصا وقت تھا تیاری کرنے کے لیے، لیکن وہ تو ان کاموں میں ’جٹی‘ تھی جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے ، یا پھر کووڈ ٹیکے بیرون ممالک کو بھیج رہی تھی۔ جو ہوا، اور جو ہورہا ہے سب آنکھوں کے سامنے ہے ، کورونا ٹیکوں کی شدید قلت ہے ، آکسیجن کے سلنڈر نہیں مل رہے ہیں اور دوائیں ندارد ہیں یا ان کی کالا بازاری ہورہی ہے ۔۔۔ بی جے پی کے وزراء یہ کہہ سکتے ہیں بلکہ کہہ رہے ہیںکہ کیا سب مودی جی ہی کریں ، ریاستی سرکاریں کیوں ہاتھ پر ہاتھ دھری بیٹھی ہیں ؟ یہ بھی کہہ سکتے ہیں بلکہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں دیکھ لیں حالات کتنے بہتر ہیں ۔۔۔ دراصل یرقانیوں نے ’جھوٹ‘ کو اپنا کاروبار بنالیا ہے ، ہریدوار سے بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے ایک ویڈیو ریلیز کی ہے جس میں گنگا کے گھاٹ خالی نظر آرہے ہیں اور ویڈیونکالنے والاکہہ رہا ہےکہ کہاں کنبھ میلہ لگا ہے ، ایک آدمی بھی نہیں ہے ! سچ یہ ہے کہ وہ ویڈیو ’ مہاکنبھ میلے‘ کی جگہ سے چار پانچ میل دور کا ہے ۔ اسی طرح سارا الزام ریاستی سرکاروں پر عائد کیا جارہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ کووڈ معاملے کی ساری ذمے داری مرکزی سرکار کی ہے ، مرکزی وزارت صحت نے پہلے ہی ایک سرکلر جاری کرکے تمام ریاستوں کو آکسیجن ، ویکسین اور دواؤں وغیرہ کے ذخیرہ کرنے سے روک دیا ہے ۔ جس ریاست کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ مرکز سے طلب کرلے ، یہ حکمنامہ میں ’ حکم‘ ہے ۔ لہٰذا ذمے دار تو مرکزی سرکار ہی ہوئی ۔ رہی بات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ، تو جو سچ سامنے آرہا ہے وہ بڑا ہی خوفناک ہے ، گجرات میں شمشان اور قبرستان بے معنی ہوگئے ہیں ، ہر طرف چتائیں جلتی نظر آرہی ہیں ، متاثرہ ہونے اور مرنے والوں کی تعداد متواتر بڑھ رہی ہے ۔ یوپی اور ایم پی کے بھی یہی حالات ہیں ۔ اب ہریدوار سے لوٹنے والے اپنے ساتھ کورونا لائیں گے ، فلم موسیقار شرون ہریدوار سے ممبئی لوٹے تھے اور کورونا سے مرگئے ، انہوں نے کتنوں کو متاثر کیا ہوگا، پتہ نہیں ۔۔۔ مودی سرکار نے بے حسی اور سفاکی کی حد کردی ہے ۔ وزیراعظم مودی کی خود غرضی کا اندازہ کریں کہ وہ جس دن یہ کہتے ہیں کہ اب ہریدوار کا کنبھ میلہ ’علامتی‘ ہوگا اسی روز رائے دہندگان سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی اپیل بھی کرتے ہیں ۔ اور مغربی بنگال میں ایک ریلی میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر خوشی سے بے قابو بھی ہوجاتے ہیں !!
ملک کے ہائی کورٹوں نے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے یہ اور بات ہے کہ سپریم کورٹ نے درمیان میں کود کر مرکزی سرکار کو قدرے راحت دینے کی کوشش کی ہے ، لیکن سپریم کورٹ یہ کہنے سے نہیں رک سکا ہے کہ ملک میں کورونا کے سبب ’قومی ایمرجنسی جیسے حالات ہیں‘ ۔۔۔ کورونا سے ملک میں قومی ایمرجنسی جیسے حالات کی ذمے دار سراسرمودی سرکار ہے ، جو تالی پٹواتی اور تھالی بجواتی رہی ، ویکسین بیرون ممالک بھیجتی رہی، فرقہ پرستی پھیلاتی رہی ، جسے صرف اقتدار کی کرسی مطلوب ہے ، بھارت اور بھارت واسیوں کی جسے نہ کوئی پروا ہے نہ ہی فکر ۔