یہ اک اشارہ ہے آفاتِ ناگہانی کا! – یاور رحمن

 

کام سے فارغ ہوکر میں اپنی کار میں بیٹھا ہی تھا کہ یہ پرندہ میری کار کی بونٹ پر آ بیٹھا، میرے اور اس کے درمیان بس windscreen حائل تھا۔ اگر اس کے اڑ نچھو ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اسے پکڑ کے اپنی کار کے اندر لے آتا۔ ایک وقت تھا جب اس کے پروں کے لمس کے لئے میں اور میرے بچپن کے ساتھی باغ باغ بھٹکتے تھے، بیچارہ زندہ تو کم ہی ہاتھ آتا تھا، ہاں کبھی کبھی ہماری غلیل یا بندوق کا شکار ہوکر زینت دسترخوان بن جاتا تھا۔ اب اس موہنے پرندے سے یا تو اپنے گھر کی بالکنی پر یا دہلی کے دل میں واقع بلڈ بینک ریڈ کراس سوسائٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں آنکھیں چار ہوتی رہتی ہیں۔ بلڈ بینک سے میرا رشتہ 17 سالوں سے بندھا ہے۔ یہ ایک الگ کہانی ہے جو پھر کبھی چشم گزار ہوگی۔ آج اس مینا کی بات۔
بات کرنے کے لئے ہمیشہ ہم زبانی ضروری نہیں ہوتی۔ یہ پرندہ میرا ہم زبان نہیں تھا لیکن میرے شہر کا وہ بھی اک باشندہ تھااور اتنا تو ہو ہی سکتا تھا کہ ہم دونوں اپنا اپنا درد اپنی اپنی زبان میں ایک دوسرے سے بیان کر لیتے !
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکارے، میں چلاؤں ہائے دل
ویسے بھی خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ کبھی اس کی سحر انگیز حساسیت دو دلوں کے بیچ ہر فاصلے کو بے معنی کر دیتی ہے۔ آپس میں گفتگو تو خوب ہوتی ہے مگر حرف و لفظ کی استعانت سے بے نیاز ہوکر۔ کہنے کو دوریاں سمندروں جیسی ہوتی ہیں مگر قربتیں ایسی کہ سانسوں کی گرم ہوا بھی ایک دوسرے کو چھیڑنے سے باز نہیں آتی۔ بظاہر کوئی آواز نہیں ہوتی مگر خاموشی سرگوشی کرتی رہتی ہے:
احساس کی اساس پر قائم ہے رابطہ
اور درمیاں دلوں کے کوئی نامہ بر نہیں
اور اگر یہی بے زبانی دبے کچلے ہوئے مظلوم و مقہور انسانوں کا اجتماعی المیہ بن جائے اور کوئی جابر اپنے فطری جبر کی تسکین کے لئے اسی بے زبانی کو معاشرے کا قانون بنانا چاہے تو اسی بے زبانی کی کمزور پسلیوں سے بغاوت کی جنگلی کونپلیں بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔ کیونکہ جب کوئی راستہ نہیں ملتا تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ سخت حالات کے گرداب میں پھنسا ہوا گونگا پن چیخ چیخ کر بے حس کانوں کے پردے پھاڑ نے لگتا ہے اور ہمارے گرد و پیش کے حالات خود ہی مہیب خاموشیوں کی ترجمانی کر نے لگتے ہیں۔
نہ جانے کتنی ایسی ان کہی داستانیں ہیں جو آج بھی حساس سماعتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ایسی نہ جانے کتنی بے زبانیاں ہیں،جو قوتِ بیان رکھنے والے خوش نصیبوں کی جستجو میں عمریں کھپا رہی ہیں۔ چٹیل میدانوں، خشک بیابانوں، جلتے صحراؤں اور سخت گیر پہاڑوں والی اس زمین پر نہ بول پانے والے بے زبانوں کی لاکھوں بستیاں ہیں۔ ان بستیوں کے باشندے شیر خوار بچوں کی طرح بس کھانے پینے اور پیشاب و پاخانے کے لئے کسی طرح بول لیتے ہیں۔ اس سے آگے اگر کوئی بولنا چاہے تو اس کی زبان کاٹ لی جاتی ہے۔ زبانیں کاٹنے میں دقت ہو تو گردن ہی کاٹ دی جاتی ہے۔
میں اس مینا کو دیکھ کر یہی سوچ رہا تھا کہ ہمارے لئے یہ بے زبان پرندہ ہماری طرح ‘زبان دراز’ نہ سہی، مگر ہم سے زیادہ آزاد ہے۔ اس کی دنیا میں کسی ‘زبان دراز’ کا جبر تو نہیں۔ اس کی زبان پر کوئی سرکاری پہرا تو نہیں۔ اور اس کا سماج ہمارے سماج کی طرح گونگا بہرا تو نہیں!
ظاہر ہے مینا کو سن کے سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا لہذا میں نے اس کے ننھے دل میں دھڑکتے ہوئے حرف و لفظ کو چشم تصور سے ٹٹولنے کی کوشش کی ، تاکہ سمجھ سکوں کہ بظاھر یہ بے زبان معصوم پرندہ کچھ خاص کہنا تو نہیں چاہتا۔ میں نے اپنی کار کی سیٹ کو ونڈ سکرین سے ذرا اور قریب کیا اور اپنی پھیلی ہوئی نگاہ سمیٹ کر اس مینا کے ننھے سے وجود پر ایسے پھیلا دی جیسے کوئی سالک مراقبے کی تیاری کر رہا ہو۔
یہ کوئی خیال خوانی کا عمل نہیں تھا مگر یہ تجربہ ٹیلی پیتھی کے عمل سے جدا بھی نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ مینا کے بہانے میں اپنی اس کہانی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دینے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ کہانی میں اصل بات تو ایک دو لائن کی ہی ہوتی ہے، البتہ حرف و لفظ کا خرچ اسراف کی حد تک ہوتا ہے۔ لیکن اس اسراف کے بعد اگر وہ اصل لائن میرے قاری تک پہنچ گئی تو سمجھئے کہ سارا خرچ منافع سمیت واپس آگیا۔
زندگی بھی تو اپنی اصل میں تین لفظوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان ہی کی ایک کہانی ہے ۔ مگر افسوس کہ روٹی، کپڑا اور مکان کے آگے کی ایک ہوس انگت لوگوں سے روٹی، کپڑا اور مکان ہی چھین لیتی ہے۔ اب تو پاؤں کے نیچے کی زمین بھی چھیننے لگی ہے۔ اور دوسری طرف بے زبانی کا چلن ابھی جاری ہے۔بہر حال، مینا نے مجھ سے صرف اتنا پوچھا: یہ جو تمہارے بے زبان، بے پناہ، بے گھر، بے در اور مظلوم و مقہور مزدور روتے، پیٹتے، گرتے مرتے شہروں سے کوچ کر رہے ہیں۔ وہ جن کی حالت زار پر خود ان کے اپنے پاؤں کے چھالے پھوٹ پھوٹ کے رو رہے ہیں، تم نے کبھی سوچا ہے کہ کہیں یہ کسی آفتِ نا گہانی کا اشارہ تو نہیں ؟
چند لمحوں کے لئے میں اس سوال کی چبھن میں ڈوب گیا۔ ایسا لگا میں کانٹوں بھرے کسی دریا میں غوطہ زن ہو ں۔ کچھ بولنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی وہ مینا پھڑپھڑا کر اڑ چکا تھا۔ اس کے پروں کی پرواز میں ایک شعر کی بازگشت تھی:
یہ اک اشارہ ہے آفاتِ ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا