یہ افغان و کوہسار ہی نہیں، پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے؟ ـ نایاب حسن

افغانستان میں تیزی سے بدلتے حالات نے جنوبی ایشیائی
ممالک کے لیے ایک بار پھر خطرات کی گھنٹیاں بجادی ہیں، یہ ٹاپک پورے بیس پچیس سال سے کروڑوں انسانوں کے لیے تحیر انگیز اور ہر لمحہ چونکانے والا رہا ہےـ آپ دیکھیے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے القاعدہ کا بھوت پکڑنے کے لیے افغانستان کا رخ کیا،جو اسے پاکستان میں ملا، مگر وہ یہاں بیس سال تک جما رہا، پہلے سے ہی غریب و نادار ملک کو نوچتا کھسوٹتا رہا اور پھر اچانک اسے خیال آیا کہ اب یہاں سے کوچ کرنا چاہیے اور چند ماہ کے اندر ہزاروں امریکی فوجیوں کا افغانستان سے نکل جانا طے ہوگیاـ مذاکرات کے کئی دور چلے، جن میں امریکہ سمیت افغان حکومت اور تیسرا فریق طالبان بھی موجود رہا، پڑوسی ممالک بھی ادھر ادھر حاشیے پر موجود رہےـ اب جبکہ اس مذاکرات کے مطابق امریکہ اور نیٹو اتحاد کی افواج افغانستان خالی کر رہی ہیں، تو پھر سے افغان فوج اور طالبان میں کشت و خون کا ماحول زوروں پر ہے، روزانہ کی بنیاد پر طالبان کی فتوحات کی خبریں ایسے آرہی ہیں کہ گویا انھوں نے کسی ملک پر حملہ کیا ہے اور ایک کے بعد دوسرے قلعے فتح کرتے جا رہے ہیں ـ دوسری طرف پاکستان دم بخود ہے، بھارت سرگرداں، ایران بھی نظریں گڑائے ہوئے ہے،چین و روس غالبا کسی نئی تدبیر میں مصروف اور امریکہ کسی تازہ موقعے کی تاک میں ـ سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر امن مذاکرات کی تکمیل کے بعد امریکہ نے جانے کا فیصلہ کیا تھا تو پھر اس کے جاتے ہی یہ مار دھاڑ کیوں ہو رہی ہے؟
جمعرات کو ہندوستان کے ابھرتے ہوئے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی قندھار میں افغان فون اور طالبان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران جاں بحق ہوگئے ـ عام طورپر خبریں آئیں کہ طالبان نے انھیں مارا اور آج یہ خبر بھی آئی کہ طالبان نے ان کی لاش ریڈکراس کو سونپ دی ہے اور اب اسے ہندوستان ان کے اہل خانہ کو سونپنے کا انتظام کیا جا رہا ہےـ میڈیا کی ممکنہ جانب داری یا تعصب سے قطع نظر دانش جیسے عالمی سطح کے ابھرتے صحافی کے قتل سے مجموعی طور پر طالبان کی شبیہ کو ہی نقصان پہنچاہے اور وہ طبقہ جو ان کے لیے کسی قدر نرم گوشہ رکھتا ہے، وہ بھی اس حرکت کی کسی طور حمایت نہیں کر سکتاـ گوکہ محاذِ جنگ پر پتا نہیں چلتا کہ کون دشمن کا بندہ ہے اور کون محض تماشائی یا صحافی اور اخباری نمایندہ، اسی وجہ سے طالبان نے دانش کی موت پر اظہارِ افسوس کیا ہے اور ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ وار زون میں آنے والے صحافی ہمیں مطلع کریں، ہم ان کا دھیان رکھیں گے،مگر سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ اگر مذاکرات میں قیامِ امن کی شرطوں پر بات چیت ہوچکی تھی، تو پھر امریکہ کے نکلتے ہی آخر افغان حکومت اور طالبان آپس میں کیوں مرنے مارنے پر اتارو ہوگئے؟ کیا مذاکرات کا عمل محض ایک ڈرامے بازی تھی اور امریکہ کسی طرح جان چھڑا کر نکلنا چاہتا تھا؟
افغان حکومت کا رویہ بھی عجیب و غریب ہے، صدر صاحب پاکستان پر طالبان نوازی کا الزام لگا رہے ہیں، دوسری طرف بھارت سے فوجی امداد لینے کے امکان کا اظہار ہو رہا ہےـ مگر کیا بھارت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ کسی ملک کی فوجی مدد کر سکے، جب سے افغانستان میں نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے، ہمارے وزیر خارجہ اور مشیر برائے قومی سلامتی خود یہاں وہاں بھاگے پھر رہے ہیں اور حکومت اندرونی طور پر ایسے اندیشے سے دوچار ہے کہ پتا نہیں کل کیا ہوجائے؟ عمران خان کا بھی دلچسپ بیان میڈیا میں گردش کر رہا ہے، جس میں انھوں نے خطے میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ آرایس ایس کی آئیڈیا لوجی کو قرار دیا ہے، ظاہر ہے کہ عمران کا یہ بیان محض اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہے، ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خطے میں قیامِ امن کی راہ میں آر ایس ایس کے علاوہ مزید کونسے کونسے اور کہاں کہاں کے روڑے حائل ہیں ـ
بش کا بیان بھی دو دن قبل آچکا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے جانے کا فیصلہ غلط کیا ہے اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گےـ یوں تو امریکہ کے رہتے ہوئے بھی افغانستان کے حالات ابتر ہی تھے، مگر نئے سرے سے جو خوں ریزی کا دور شروع ہوا ہے، وہ بڑا دردناک ہےـ بندگانِ اقتدار کی ہوس کے شکار نہ جانے کتنے معصوم ہوچکے اور آنے والے دنوں میں نہ معلوم اور کتنے بے گناہ ان کی درندگی کی نذر ہوں گےـ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان میں طالبان تو خیر اپنی حکومت کیا قائم کریں گے، مگر جنوبی ایشیا ایک نئی اور بڑی آفت سے دوچار ہوگا، جس میں کئی ملک اور ان کے عوام کے لیے تباہی و تاراجی لکھی ہوگی ـ واللہ اعلم

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*