یومِ مادری زبان مبارک ہو ـ اشعر نجمی

 

آج عالمی یوم مادری زبان ہے۔ عید ہوتی تو مبارک باد زیادہ ملتی، جنازہ اٹھتا تو مغفرت کی دعائیں ملتیں ، حتیٰ کہ کسی کے بیٹے کا ختنہ شریف ہوتا تو پھر پورا سوشل میڈیا ’نائی‘ بن جاتا کہ ’مسلمانی میں طاقت خون کے بہنے سے آتی ہے‘۔ زبان مرتی ہے تو مرے ، مذہب تو دیوناگری کے سہارے بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ خیر یہ مسئلہ اہل مذہب کا نہیں بلکہ اہل زبان کا ہے۔ آج اسی مناسبت سے انٹرنیٹ پر مٹرگشتی کررہا تھا کہ مادری زبان کے تعلق سے کچھ اہم اطلاعات ملیں، سوچا آپ سے شیئر کردوں ۔

’امریکی دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ آج سے صرف 50 سال قبل دنیا میں 8613 زبانیں تھیں جو اب گھٹ کر 6376 تک رہ گئی ہیں، کچھ زبانیں تو حال ہی میں معدوم ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ ہندستان کے صوبہ گوا کی کوکنی زبان اب سے چند سال قبل معدوم ہو چکی ہے۔ شاذ و نادر کوئی ضعیف العمر آدمی کوکنی بول لیتا ہو۔ اب گوا کی مادری زبان انگریزی بن چکی ہے، دنیا کی بڑی زبانوں میں دوسری زبانیں مدغم ہوتی جا رہی ہیں اور وہ 7 زبانیں اسپینش، انگلش، روسی، سوہالی، ہندی/ اردو، انڈونیشی اور میڈیٹیرین ہیں۔ سارا جنوبی امریکا اور شمالی امریکا میکسیکو اسپینش بولتا ہے۔ برطانیہ، یو ایس اے، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کیریبین ممالک، کچھ افریقی ممالک، ایک حد تک جنوبی افریقہ اور جنوبی ہند میں انگریزی بولی جاتی ہے۔ سارے افریقہ میں اپنی اپنی مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ تقریباً سبھی افریقی سوہالی زبان بول لیتے ہیں۔

مختلف اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جب کہ 37 کروڑ ہندی، 35 کروڑ ہسپانوی، 34 کروڑ انگریزی اور 20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی 11 اور اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔‘

پھر یہ بھی دیکھا کہ ہر سال کے ۲۱ فروری کی طرح آج بھی اردو پر ماتم جاری ہے، ہر شخص اپنے سوا سب کو کوس رہا ہے، لیکن وہ خود کے گریبان میں نہیں جھانک رہا کہ وہ اردو سے کتنی عملی محبت کرتا ہے ، وہ خود سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اپنے بچوں کو وہ اردو پڑھا رہا ہے یا نہیں؟ وہ خود سے دریافت نہیں کررہا ہے کہ سوشل میڈیا میں لکھتے ہوئے اردو رسم الخط کی بجائے رومن کیوں استعمال کررہا ہے؟ وہ اپنا محاسبہ کرتا نظر نہیں آتا کہ ہر ماہ اس کے بجٹ میں اردو کتابوں کے لیے کتنی رقم مختص کرتا ہے؟

بلاشبہ اردو کے تئیں اب بھی وہ لوگ ایماندار ہیں جنھیں اپنی ماں سے عشق ہے، اپنی مادری زبان سے محبت ہے۔ وہ اپنی استعداد بھر اس کے فروغ کے لیے کوششیں بھی کررہے ہیں، انھیں کچھ لوگوں کے دم سے اس زبان کا بھرم قائم ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ تقسیم ہند کے بعد ہمارے بزرگوں سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں اور ہم سے جو غلطیاں ہو رہی ہیں اس کی سزا ہماری آنے والی نسلوں کو ملنے والی ہے چونکہ ہر نئی نسل اپنی پرانی نسل کی غلطیوں کو اپنے کندھے پر ڈھوتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*