یکسوئی اور انہماک ـ مولانا عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی

7895886868
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب قدس سرہ ماضی قریب کے ان اساطین علم و فضل میں ایک اہم اور ممتاز نام ہے، جن سے اللہ رب العزت نے احادیث نبویہ کی تشریح و توضیح کا بہت اہم اور نمایاں کام لیا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ ذکر اللہ و خانقاہی نظام کے ذریعہ نہ جانے کتنے مردہ قلوب کی نئی زندگی بھی آپ کے حسنات کا زریں حصہ اور ہم اخلاف کے لیے اسوہ و نمونہ ہے۔ دعوت و ارشاد اور تبلیغ دین کے حوالے سے آپ کی مساعی جمیلہ رہتی دنیا تک ان شاء اللہ بار آور ہوتی رہیں گی اور مظاہرعلوم سہارنپور کی علمی دینی خدمات کا ایک اہم باب ہوں گی ،انھوں نے دوران طالب علمی کا ایک واقعہ آپ بیتی میں املا کرایا ہے کہ ایک بار میرا جو تا اٹھ گیا تھا تو جہاں تک مجھے یاد ہے چھ ماہ تک دوسرا جوتا خرید نے کی نوبت نہیں آئی اس لیے کہ جمعہ بھی مدرسہ قدیم میں ہوتا تھا ،دارالطلبہ بھی اس وقت تک نہیں بنا تھا، بیت الخلاء کے پاس بوسیدہ جوتے پڑے رہا کرتے تھے اور مجھے چھ ماہ تک باہر نکلنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ سہارنپور میں ایک بار نمائش ہوئی تو الحاج حافظ مقبول صاحب مرحوم جو میرے والد سے خصوصی تعلق رکھتے تھے ،اپنے بچوں کو نمائش دکھلانے کے لیے والد صاحب سے اجازت چاہی ،والد صاحب نے اس شرط پر اجازت دی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھیں انھوں نے مجھ سے چلنے کے لیے کہا ،میں نے پوچھا وہاں کیا ہوگا؟ انھوں نے فرمایا وہاں دکانیں لگتی ہیں، میں نے کہا دکانیں تو یہاں سے اسٹیشن تک بہت ہیں ،انھوں نے ازراہ شفقت بہت اصرار کیا پھر بھی میرا جی نہ چاہا، اسی طرح کبھی بھی مجھے سیرو تفریح کا شوق نہیں ہوا۔
یہ واقعہ یقیناً اسوہ و نمونہ بنائے جانے کے لائق ہے، اس لیے کہ زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی اور مقصد کے حصول کے لیے یکسوئی اور انہماک از حد ضروری ہے۔ ذہنی انتشار اور ضرورت سے زیادہ میل جول، حد سے بڑھے ہوئے تعلقات ہمیشہ مقصد کے حصول میں حارج اور خلل انداز ہوتے ہیں۔ جب دل مختلف قسم کی فکر میں بٹا ہوگا ،ادھر ادھر کی سوچے گا، تو یکسوئی اور انہماک ناممکن ہوگا اور پھر انسان مقصد کے حصول سے قاصر رہے گا۔
آج عام طور پر یہ شکایت ہے کہ ہم فلاں کام کرتے ہیں لیکن اس میں کامیابی نہیں ملتی، ہمارے اوپر قسمت کچھ زیادہ مہربان نہیں ہے، اللہ کی نظر کرم ہماری طرف نہیں ہے، اسی انداز کے مختلف فقرے آئے دن سماج اور معاشرے کے تقریباً سبھی طبقات کے لوگو ںسے سننے میں آتے ہیں، شاکی تو ہر کوئی ہے ، شکوہ تو ہر ایک کی زبان پر ہے لیکن اس کے صحیح اسباب و عوامل کیا ہیں ان پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔ آج معاشرہ اور سماج کے ہر طبقہ میں نظراٹھاکر دیکھا جائے تو ذہنی انتشار اور مختلف افکار کی بھیڑ نظر آئے گی ،اپنے کام میں انہماک اور یکسوئی کا ہر جگہ فقدان ملے گا، ایک ایک کام کے پیچھے لوگوں نے دس دس کام لگارکھے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک میں بھی کامیابی نہیں ملتی ،یہ تو ایک عمومی بات ہے ،خاص طور پر طلب علم کے زمانے میں یکسوئی اور انہماک بہت ضروری ہے، اس لیے کہ سرپرستوں نے طلب علم کے لیے طالب علم کے اوقات کو فارغ کررکھا ہے، اب اگر اس دور میں دوسرے امور میں دلچسپی رکھی گئی تو پھر پوری زندگی بے کار ہوجاتی ہے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کا جو اپنا واقعہ اوپر مذکور ہوا اس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے۔ حضرت شیخ الحدیث کے اسی علمی انہماک، ذہنی یکسوئی اور خارجی امور سے اجتناب نے انہیں علم و فضل کے ایسے اعلی مقام تک پہنچا دیا کہ اساتذۂ فن نے ان کی علمی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور انشاء اللہ رہتی دنیا تک مظاہرعلوم کے لیے آپ کی شخصیت سرمایۂ افتخار ہوگی۔