یکساں سول کوڈ ناقابل عمل اور دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق کے مغائر:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

نئی دہلی:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ ہندوستان جیسا ملک جو بہت سے مذہب کے ماننے والوں، بہت سی تہذیبوں اور مختلف رسم ورواج سے تعلق رکھنے والے قبائل پر مشتمل ہے، اور یہی کثرت میں وحدت اس کا حُسن ہے، اس کے لئے یکساں سول کوڈ قطعاََ مناسب نہیں ہے، اگر کوئی چھوٹا ملک ہو، جہاں ایک ہی مذہب کے ماننے والے اور ایک ہی ثقافت کے حامل لوگ رہتے ہوں، وہاں تو یکساں سول کوڈ چل سکتا ہے؛ لیکن ہندوستان جیسے ملک کے لئے یہ قطعاََ ناقابل قبول اور یہ دستوری تحفظات کے بھی خلاف ہے، دستور نے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی اجازت دی ہے، اگر حکومت کی طرف سے یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے تو لوگ اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی آزادی سے محروم ہو جائیں گے، مولانا رحمانی نے یہ بات ۹؍ جولائی کو دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے کئے جانے والے اُس تبصرہ کے پس منظر میں کہی ہے، جو ہندو میریج ایکٹ کے تحت چلنے والے ایک مقدمہ کے ضمن میں کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ آج کا ہندوستان مذہب اور کمیونٹی سے بالاتر ہو چکا ہے، مولانا نے کہا کہ مذہب کی جڑیں عقیدہ ویقین میں پیوست ہیں اور تہذیبیں صدیوں میں پروان چڑھتی ہیں، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ لوگ اُن کو چھوڑ دیں، ہمارے ملک میں اسپیشل میریج ایکٹ موجود ہے ؛ لیکن اس کے باوجود ۹۹؍ فیصد سے بھی زیادہ لوگ اپنے مذہبی قانون نکاح، ثقافتی طور طریق اور قبائلی روایات کے مطابق ہی شادی بیاہ کرنا پسند کرتے ہیں، ایسے وقت میں کہ جب ملک مختلف مسائل سے پریشان ہے، ایک ایسے مسئلہ کو اُٹھانا انتشار کا باعث ہو سکتا ہے؛ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ دستور کے بنیادی حقوق کو ملحوظ رکھے، اور کسی بھی طبقہ پر زور زبردستی سے قانون تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔