دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے یکساں سول کوڈ کی حمایت ناقابل قبول: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

نئی دہلی:پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے مرکز کو یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے متعلق ضروری اقدامات کرنے کی دی گئی ہدایت کو سیاق سے باہر، ناپسندیدہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔یکساں سول کوڈ نے عرصہ دراز سے کافی زیادہ سیاسی بحث چھیڑ رکھی ہے، کیونکہ یہ اقلیتی حقوق بالخصوص اپنے علیٰحدہ قوانین کے ان کے حق سے متعلق معاملہ ہے۔ گرچہ سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر کئی مرتبہ غور کیا اور مختلف باتوں کا اظہار کیا، لیکن یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کبھی نہیں لیا گیا۔ اس سال کے شروع میں، عدالت عظمیٰ نے بھارت میں مذہب سے ہٹ کر وراثت اور جانشینی کے قوانین پر مرکز سے جواب طلب کیا تھا اور اس معاملے میں بھی فیصلہ زیر التوا ہے۔بی جے پی کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتیں پرسنل لاز کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں جس سے یکساں سول کوڈ کی راہ ہموار ہوتی ہو، حتیٰ کہ سابقہ بی جے پی حکومتوں نے بھی اس پر کچھ نہیں کیا۔ لیکن بی جے پی اور ہندتوا سیاست میں اس کی شریک جماعتوں کے لئے یہ معاملہ ہمیشہ سے فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرکے اکثریتی طبقے کا ووٹ حاصل کرنے کا ایک آسان ہتھیار رہا ہے۔جب کبھی بی جے پی کو کسی قریبی انتخابی شکست کا احساس ہوتا ہے، وہ فوراً یکساں سول کوڈ کی ’ضرورت‘ اور مسلم پرسنل لا کے ’خطرے‘ جیسے مدفون منافرتی آلۂ کاروں کو کھود نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیتی ہے۔ اب یوپی انتخابات کو دیکھتے ہوئے جو بی جے پی کے لئے بے حد اہم ہے، انہیں پھر سے اس کی ضرورت آن پڑی ہے تاکہ وہ مودی اور یوگی حکومتوں کی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکیں۔یکساں سول کوڈ سے مراد کچھ ایسے مشترک قوانین کا مجموعہ ہے جو شادی، طلاق، گود لینے، وراثت اور جانشینی جیسے ذاتی معاملات کو ملک کے تمام شہریوں کے لئے بلاتفریق مذہب چلاتا ہے۔ موجودہ وقت میں، ان پہلؤوں کو الگ الگ مذاہب کے پیروکاروں کے لئے الگ الگ قوانین چلاتے ہیں اور یکساں سول کوڈ کا مقصد ان ذاتی قوانین کو ختم کرنا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ جدید ہندوستانی معاشرہ آہستہ آہستہ ’یکساں‘ بنتا جا رہا ہے، اور مذہب، قوم اور ذات کی ’روایتی رکاوٹیں‘ ختم ہو رہی ہیں، لہٰذا ان بدلتے نمونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہے۔ اس استدلال کو مضحکہ خیز ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ حکومت ’متفاوت‘ سے کہیں بڑھ کر ایک ایسا جدید ہندوستان بنا رہی ہے جو مذہب، قوم اور ذات کی بنیادوں پر بری طرح سے اور گہرائی تک تقسیم شدہ ہے۔او ایم اے سلام نے کہا کہ عدالت کے مشاہدات عارضی اور سیاق سے باہر ہیں، کیونکہ مینا برادری سے تعلق رکھنے والے فریقوں سے متعلق جسٹس پرتبھا ایم سنگھ کے سامنے پیش ہوئے معاملے پر ہندو میریج ایکٹ ۱۹۵۵ لاگو ہوتا ہے۔