یہاں کے لوگوں کے دل تنگ ہیں ،مکان کُھلے! ـ عمیر نجمی

سب انتظار میں تھے، کب کوئی زبان کُھلے
پھر اُس کے ہونٹ کُھلے اور سب کے کان کُھلے

بھلے ہو لاکھ حسیں خواب ،یاد رہتا نہیں
جب آنکھ درجنوں لوگوں کے درمیان کُھلے

بہت سا لیں گے کرایہ ،ذرا سی دیں گے جگہ
یہاں کے لوگوں کے دل تنگ ہیں ،مکان کُھلے!

گیا وہ شخص تو نظریں اٹھائیں لوگوں نے
ہوا تھمی تو جہازوں کے بادبان کُھلے

ہماری آنکھ میں کھدّر کے خواب بِکتے تھے
تم آئے اور یہاں بوسکی کے تھان کُھلے

جگہ ہو اِس میں، کم از کم، مرے یقیں کے لیے
میں چاہتا ہوں کہ اتنا تِرا گمان کھُلے

یہ کون بھول گیا اُن لبوں کا خاکہ یہاں؟
یہ کون چھوڑ گیا گُڑ کے مرتبان کُھلے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*