یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے-احمد نور عینی

خادم تدریس:المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

حضرت الاستاذ شیخ الحدیث مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ تعالی ان عظیم اور ہردل عزیز بندگان خدا میں سے تھے جن کے جانے کے غم میں نہ جانے کتنی آنکھیں اشک بار اور کتنے دل سوگوار ہیں:
ویراں ہے میکدہ ، خم وساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
حضرت الاستاذ کی زندگی بھی قابل رشک تھی اور موت بھی قابل رشک ہے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں داعی اجل کی دعوت پر لبیک کہا، ہمیں خدا کی ذات سے پوری امید ہے کہ کہنے والے نے کہا ہوگا : يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: 27، 28)،حضرت الاستاذ اب اس جہاں میں نہیں رہے، مگر ان کی یادوں کی قندیل ہمارے دلوں میں سدا ضوفشانی کرتی رہے گی:
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
حضرت الاستاذ شیخ الحدیث ضرور تھے؛ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف حدیث اور علوم حدیث کے ہی ماہر تھے، حضرت مختلف الجہات صلاحیتوں اور مختلف علوم وفنون کی مہارتوں کے حامل تھے، حضرت کی تصنیفات پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوگا کہ حضرت کی شخصیت کتنی عبقری تھی، تفسیر میں ہدایت القرآن، اصول تفسیر میں الفوز الکبیر کی تعریب اور اس کی عربی شرح العون الکبیر، اصول حدیث میں نخبہ کی اردو شرح تحفۃ الدرر، مقدمۂ مسلم کی اردو شرح فیض المنعم، شروح حدیث میں بخاری کی اردو شرح تحفۃ القاری، ترمذی کی اردو شرح تحفۃ الالمعی،شرح معانی الآثار کی عربی تلخیص زبدۃ الطحاوی، اصول افتا میں شرح عقود رسم المفتی کی شرح آپ فتوی کیسے دیں، اسرار شریعت میں حجۃ اللہ البالغۃ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعۃ، منطق میں آسان منطق، تہذیب المنطق کی شرح مفتاح التہذیب، فلسفہ میں مبادئ الفلسفہ اور اس کی اردو شرح معین الفلسفہ، اسماء رجال میں المغنی کی عربی شرح تہذیب المغنی، نحو میں آسان نحو اور صرف میں آسان صرف وغیرہ ، یہ تو درسیات سے متعلق تصنیفات ہیں، اس کے علاوہ درسیات سے خارج اور کئی کتابیں ہیں۔ حضرت کو انگریزی زبان سے بھی کافی حد تک واقفیت تھی، دوران درس الفاظ کے معنی کبھی انگریزی زبان میں بھی بتاتے تھے، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک انگریز سیاح دار العلوم وزٹ کرنے کے لیے آیا، دار الحدیث میں آکر اپنے مخصوص کیمرے سے ویڈیو بنانے لگا، حضرت نے اسے اردو میں ٹوکا تو وہ سمجھ نہیں پایا، حضرت نے اسے قریب بلا کرانگریزی میں سمجھایا، مجھے اس وقت انگریزی نہیں آتی تھی اس لیے حضرت کی بات میں سمجھ نہیں سکا؛ مگر اس سیاح کے سمجھ میں آگئی اور وہ معذرت خواہانہ مسکراہٹ کے ساتھ دار الحدیث سے باہر چلا گیا۔
حضرت کی پوری زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے، حضرت حافظ قرآن بھی تھے ؛ مگر آپ نے حفظ کسی مدرسے یا مکتب میں بیٹھ کر نہیں کیا؛ بل کہ افتا کرتے ہوئے خود سے حفظ کیا، یقین محکم، عزم مصمم اور عمل پیہم ہو تو انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے، افتا کرنے والے طلبہ جانتے ہیں کہ افتا کرتے ہوئے حفظ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، مگر حضرت نے اپنے وقت کی حفاظت کرکے حافظ بننے کی اپنی خواہش پوری کی۔درس وتدریس، تصنیف وتالیف، تحقیق وتعلیق، مطالعہ وکتب بینی حضرت کا اخیر تک معمول رہا، حضرت اپنے شاگردوں کو بھی مسلسل لکھنے پڑھنے میں مصروف رہنے کی تلقین فرماتے تھے، آخری درس میں اپنا دل نکال کر رکھ دیتے تھے، حضرت فرماتے کہ فاضل اور فارغ کے الفاظ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہیں، ابھی تو تمہیں پڑھنے کی شد بد پیدا ہوئی ہے، مدرسہ نے تمہیں علم حاصل کرنے کا راستہ دکھایا ہے، یہاں سے جانے کے بعد تم دس بیس سال تک مسلسل مطالعہ وکتب بینی اور درس وتدریس میں لگے رہوگے تب جاکر تمہیں محسوس ہوگا کہ اب علم آرہا ہے۔
حضرت کا ایک نمایاں وصف شہرت ودولت سے دوری اور استغنا وبے نیازی ہے، آج جب کہ شہرت ودولت ہی مقصد زندگی بن گیا ہے، الا ماشاء اللہ، اور اسٹیج کی ’ہوس‘ نے ایک بڑی خلقت کے خلوص پر ڈاکہ ڈال رکھا ہے ایسے زمانے میں اپنے آپ کو حب شہرت وحب دولت سے دور رکھنا خود اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کرامت ہے، حضرت کو یہ کرامت حاصل تھی، حضرت کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ بلا تنخواہ خدمت انجام دیتے تھے اور یہ بات بھی ہم نے سنی ہے کہ حضرت نے ماضی کی لی ہوئی تن خواہیں بھی حساب کرکے دار العلوم کو واپس کردیں، یہ ایک بہت بڑی قربانی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ خلوص وللہیت کی دلیل بھی۔ حضرت کا عام معمول تھا کہ ایام درس کے دوران کہیں کا سفر نہیں فرماتے تھے، استثنائی صورتیں ہوسکتی ہیں؛ لیکن عام معمول یہی تھا، ہم نے ایک سے زائد مرتبہ حضرت کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس مستقل دعوت نامے آتے رہتے ہیں؛ لیکن میں تم لوگوں کی وجہ سے سفر نہیں کرتا؛ کیوں کہ تم لوگ ہم اساتذہ کی وجہ سے یہاں آتے ہو، حالاں کہ اسفار کرنے میں ہمارا دوہرا فائدہ ہے، ایک یہ کہ شہرت ہوتی ہے، آو بھگت ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ لفافے ملتے ہیں اور ہدیے تحائف ملتے ہیں؛ مگر اس کے باوجود میں اس لیے اسفار نہیں کرتا کہ کہیں تمہارا نقصان نہ ہوجائے۔ حضرت الاستاذ کے یہ جملے بہ ظاہر بہت معمولی لگ رہے ہوں مگر یہ جملے اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ حضرت ان اسلاف کی یادگار تھے جو قوم کی نسلوں کو بنانے کے لیے اپنے دنیاوی فائدے کو تیاگ دیتے ہیں۔
حضرت نزاعی مسائل سے اپنے آپ کو دور رکھتے تھے، تقسیم دار العلوم کے قضیۂ نامرضیہ میں حضرت کی کیا پوزیشن تھی میں اس بابت کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتا؛ کیوں کہ اس وقت عالمِ وجودِ عدم نما میں میرا وجود نہیں تھا؛ البتہ جمعیت کے اختلاف کے وقت میں دیوبند میں ہی تھا، حضرت الاستاذ ان معدودے چند اساتذہ میں سے ایک تھے جو عملا بالکل غیر جانبدار تھے، اختلاف کے انہی ایام میں جب کہ دونوں جمعیتوں کی طرف سے اجلاس عام منعقد کیے جارہے تھے، ایک دن دلی میں کسی ایک جمعیت کی طرف سے اجلاس عام تھا، اس اجلاس کا اثر دار العلوم پر بھی پڑا اور درس گاہوں میں مغرب بعد والے گھنٹے نہیں ہوئے، مگر حضرت الاستاذ حسب ضابطہ تشریف لائے اور حسب معمول عشا تک درس دیا، اسی دن کچھ شر پسند لڑکوں نے جمعیت کے جھگڑے کو لے کر موقع پا کر قریب نصف شب کو فساد وانتشار برپا کیا اور صورت حال قابو سے باہر ہوگئی، حضرت کو اس کی اطلاع ملی تو آدھی رات گذر جانے کے باوجود حضرت گھر سے مدرسہ پیدل تشریف لائے اور دار الحدیث میں طلبہ کو جمع کرکے بہت پیار سے سمجھایا، تب کہیں جاکر حالات قابو میں آئے ورنہ تو شر پسندوں نے ایسی اودھم مچارکھی تھی کہ پولیس کو طلب کئے بغیر حالات کا قابو میں آنا مشکل تھا۔
آج ہماری قوم اکابر پرستی اور اکابر بیزاری کی دو انتہاؤں پر ہے، حضرت ان دونوں انتہاؤں کے بیچ اعتدال کی راہ پر گامزن تھے، وہ اکابر کا پورا احترام کرتے تھے اور عقائد کے باب میں خاص کراپنے اکابر کی تشریحات پر اعتماد کرتے تھے، مگراکابر کے ہر قول وفعل کو آنکھ بند کرکے تسلیم کرنے کے قائل نہ تھے، انھیں جو بات یا جو عمل غلط لگتا اس پر تنقید کرتے، جماعت اسلامی کے بارے میں ان کی سخت گیری تو مشہور ہے ہی؛ مگر انھوں نے تبلیغی جماعت پر اور خود دار العلوم پر بھی تنقیدیں کیں، مزار قاسمی میں لگے ہوئے کتبے پر وہ ہرسال درس میں تنقید کرتے تھے، دیوبندیت کے بارے میں فرماتے تھے کہ مجھ سے حضرت مولانا منظور نعمانی ؒ نے فرمایا تھا کہ بریلویت اور دیوبندیت کے درمیان صرف ایک بالشت کا فرق رہ گیا ہے، پھر فرماتے کہ اب یہ ایک بالشت کا فرق بھی ختم ہوگیا ہے۔ تبلیغی جماعت میں فی سبیل اللہ کے مفہوم کو جو عام کردیا گیا ہے اس پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے کہ یہ شریعت میں معنوی تحریف ہے۔مدارس کے مروجہ نصاب پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اس نصاب میں سب سے مظلوم کتاب خدا کا کلام یعنی قرآن ہے، اس نصاب میں نحو وصرف کی تو ایک ایک درجن کتابیں ہیں مگر قرآن سمجھنے کے لیے صرف ایک کتاب ہے اور وہ جلالین جو قرآن کا عربی ترجمہ ہے، حضرت کہتے تھے کہ میں یہ باتیں کہتے کہتے تھک گیا ہوں؛ لیکن کوئی نہیں سنتا، تفسیر کا جو نظام درس ہے اس پر بھی حضرت کو اطمینان نہیں تھا، حضرت فرماتے تھے کہ تفسیر کا درس اس طرح ہونا چاہیے کہ استاذ کے سامنے صرف قرآن کا متن ہو، وہ تفسیر کی مراجع کی کتابیں مطالعہ کرکے آئے اور قرآن سامنے رکھ کر اپنے مطالعہ کی روشنی میں درس دے، حضرت فرماتے تھے کہ یہ جو طریقہ رائج ہے کہ نصاب میں تفسیر ابن کثیر رکھ دی، قرطبی رکھ دی ، روح المعانی رکھ دی ، یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ میں بخاری پڑھانے کے بجائے فتح الباری پڑھاؤں کہ پورا وقت فتح الباری کی عبارت حل کرنے میں چلا جائے گا۔ دورۂ حدیث کے نصاب کے بارے میں حضرت کی رائے تھی کہ فہم حدیث کا دورانیہ ایک سال کے بجائے دوسال ہونا چاہیے، دوسرے یہ کہ بحث کے لیے حدیث کی ہر کتاب سے ابواب مختص ہونے چاہئیں، تاکہ تکرار نہ ہو اور وقت کا ضیاع نہ ہو، یعنی کتاب الطہارت کو مثلا ابوداود سے لے لیا جائے، کتاب الصلاۃ کو مثلا ترمذی سے لے لیا جائے وغیرہ، ایسا نہ ہوکہ بخاری پڑھانے والا بھی کتاب الطہارت پر بحث کررہا ہو، ترمذی پڑھانے والا بھی کتاب الطہارت پر بحث کررہا ہو اور ابوداود پڑھانے والا بھی کتاب الطہارت پر بحث کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مدرسوں کا حال ہے۔
حضرت ایک بے باک محقق تھے، ان کی تحقیق انھیں جس نتیجہ تک پہنچاتی اسے اختیار کرتے اور پھر اس پر جم جاتے، انھیں نہ کسی کی ملامت کی پروا ہوتی اور نہ کسی کو خوش کرنے کی خواہش، ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کا تحقیقی مزاج اپنے اندر ایک طرح کی سختی لیے ہوئے تھا ؛ مگر حاشا وکلا ہم ان کی نیک نیتی پر شبہ نہیں کرسکتے۔ ان کے مزاج میں تصلب تھا، ان کی رائے میں پختگی تھی، وہ دونوں ہاتھ میں لڈو لینے کے شوقین نہیں تھے، وہ جسے ناجائز سمجھتے اس کے ناجائز ہونے کا برملا اظہار کرتے ، خواہ ان کے اس اظہار کی زد میں خود ان کا ادارہ آرہا ہو، تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کو وہ ناجائز سمجھتے تھے اور خود بھی اس پر سختی سے عمل کرتے تھے، دار العلوم کے احاطہ میں جب دہشت گردی مخالف کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا تو اس میں پریس والوں کو بھی بلایا گیا، پریس والوں نے پوری کانفرنس کی ویڈیو گرافی کی، دوسرے دن جب حضرت درس گاہ میں آئے تو کافی غصہ میں تھے، حضرت نے فرمایا کہ یا تو دار العلوم کا دار الافتا تصویر کی حرمت کا فتوی دینا بند کرے یا دار العلوم تصویر کشی یا ویڈیو گرافی کا عمل بند کرے، ہمیں حضرت الاستاذ کی رائے سے اختلاف ہوسکتا ہے؛ لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت اپنا موقف رکھنے میں نہ کسی کی ملامت کی پروا کرتے تھے اور نہ کسی کو خوش رکھنے کی فکر، نیز حضرت کے قول وعمل میں کوئی تضاد نہیں تھا، وہ جسے ناجائز سمجھتے تھے عملا اس سے دور رہتے تھے، ایسا نہیں کہ فتوی تو ناجائز کا دے رہے ہوں اور مصلحتا اس عمل کو کر بھی رہے ہوں۔ حضرت کی تحقیقات کا مطالعہ کرنے والے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ حضرت رسم ورواج، بدعات وخرافات اور ظاہری شان وشوکت کے کافی خلاف رہتے تھے، اس سلسلے میں اس قدر احتیاط برتتے تھے کہ بسا اوقات مسئلہ کی نوعیت کچھ اور ہوجاتی تھی اور جو شخص حضرت کے اس مزاج سے ناواقف رہتا تھا تو وہ سمجھ نہیں پاتا تھا اور بدگمان ہونے کا امکان بھی پیدا ہوجاتا تھا۔
حضرت سے ہم نے (2007۔2008 کی بیچ نے )تین کتابیں پڑھی ہیں: ترمذی شریف اول، طحاوی شریف، بخاری شریف اول، بخاری کو میں نے اخیر میں اس لیے ذکر کیا کہ اصلا یہ کتاب حضرت مولانا نصیر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق تھی؛ مگر آپؒ کی طبیعت مسلسل ناساز ہونے کی وجہ سے تقریبا نصف تعلیمی سال کے آس پاس یہ کتاب حضر ت پالنپوری ؒ کو دی گئی، اس طرح ہماری بیچ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے حضرت الاستاذ سے ایک ہی سال میں حدیث کی تین اہم کتابیں پڑھیں، بخاری شریف کے لیے میقات اولی کا آخری گھنٹہ مقرر تھا،حضرت گھنٹہ ختم ہونے کے بعد بھی ایک گھنٹہ پڑھاتے تھے، یعنی تقریبا دو گھنٹے مسلسل درس دیتے تھے، ترمذی شریف کے لیے میقات ثانی کا آخری گھنٹہ مقرر تھا، حضرت عصر کی نماز تک پڑھاتے تھے، طحاوی شریف کا درس حضرت مغرب کے بعد عشا تک دیتے تھے، حضرت کے مکان کی دوری دار الحدیث سےتخمینا لگ بھگ نصف کیلو میٹر ہوگی، حضرت پیدل ہی تشریف لاتے تھے، ادھر چند سالوں سے رکشہ پر جانے لگے تھے، گویا روزانہ تین مرتبہ اتنی لمبی مسافت پیدل طے کرکے آتے تھے، حضرت پان کھاتے ہوئے آتے ، احاطہ مولسری کے نل کے پاس آکر کلی کرتے ، پھر درس گاہ میں تشریف لاتے، حضرت کو کبھی پان منہ میں رکھ کر درس دیتے ہوئے نہیں دیکھا، درس گاہ آنے کے بعد اگر طلبہ کی تعداد کم نظر آتی یا طلبہ بے ہنگم ادھر ادھر بیٹھے نظر آتے تو حضرت درس گاہ کے دروازے سے واپس گھر کی طرف لوٹ جاتے، حضرت کا ’روٹھنا‘ بہت مشہور تھا، سال میں ایک دو مرتبہ ضرور روٹھتے تھے، اخیر کے سالوں میں کیا صورت حال رہی نہیں معلوم، حضرت کا یہ روٹھنا طلبہ کے لیے بہت پریشان کن ہوتا تھا، طلبہ کو ایک تو اس بات کا افسوس ہوتا کہ ہم نے حضرت کو ناراض کردیا دوسرے اس بات کا ٹینشن رہتا کہ حضرت اب آئیں گے یا نہیں ، آئیں گے تو پہلے کی طرح دل لگا کر پڑھائیں گے یا نہیں ، نئے طلبہ خاص کر کچھ زیادہ پریشان ہوجاتے تھے، پرانے طلبہ ان کو دلاسا دیتے کہ حضرت کا یہ محبت بھرا روٹھنا ہرسال ہوتا ہے، حضرت پھر آئیں گے اور پہلے کی طرح پڑھائیں گے، ہمارے سال بھی حضرت ایک مرتبہ روٹھے تھے، طلبہ کی تعداد معمول سے کچھ کم تھی تو حضرت دروازے سے ہی واپس ہوگئے، ہمارے ترجمان مولانا عبد الرزاق قاسمی نے یہ اعلان کیا کہ حضرت کو منانے کے لیے سارے طلبہ حضرت کے مکان کی طرف چلیں؛ چناں چہ کئی سو طلبہ حضرت کے گھر پہنچے، اتنی بڑی تعداد تھی کہ ایسا لگ رہا تھا کہ عید کی نماز پڑھنے عیدگاہ جارہے ہوں، ترجمان کے ساتھ چند ساتھی اندر گئے، حضرت اس شرط پر راضی ہوئے کہ آئندہ سے تم لوگ ایسی حرکت نہیں کروگے، محبوب استاذ اور بے پایاں محبت کرنے والے شاگردوں کے درمیان روٹھنے کے اس رشتہ میں محبت کا جو لطف ہے اسے ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
حضرت ایک ماہر اور کامیاب مدرس تھے، حضرت کا درس کافی مقبول تھا، مشکل سے مشکل بات کو بہت آسانی سے مرتب انداز میں ذہن نشین کردیا کرتے تھے، حضرت کا منہج تدریس یہ تھا کہ پہلے ترجمۃ الباب یا باب کا عنوان سمجھاتے اور اس کے مشمولات کی طرف مختصرا اشارہ فرماتے، پھر طالب علم باب کا عنوان پڑھتا، پھر سند پر کچھ کلام کرنا ہوتا تو حضرت کلام کرتے ورنہ طالب علم ترجمۃ الباب کے بعد سند بھی پڑھتا، سند کے جس راوی پر کلام کرنا ہوتا عام طور پر اس راوی کے نام سے پہلے عبارت خواں کو روکتے، حضرت کا مزاج سند پر باریک اور پیچیدہ بحثیں کرنے کا نہیں تھا، حضرت سند سے زیادہ متن کی تشریح پر زور دیتے تھے، سند کی عبارت خوانی ہوجانے کے بعد طالب علم رک جاتا، اب حضرت متن کی تشفی بخش شرح فرماتے، اگر اس کا تعلق کسی فقہی مسئلہ سے ہوتا تو صورت مسئلہ بتاکر حکم مسئلہ کی وضاحت فرماتے، ائمہ کا اختلاف بھی ذکر کرتے، اختلاف نص فہمی کی وجہ سے ہوا ہے یا دلائل کے تعارض کی وجہ سے اس کی نشاندہی کرتے، اگر دلائل کا ختلاف ہوتا تو متن کس کا مستدل ہے واضح کرتے، اگر احناف کا نہیں ہے تو دو باتوں کی وضاحت فرماتے : ایک یہ کہ احناف کا مستدل کیا ہے؟ دوسری یہ کہ احناف نے اسے مستدل کیوں نہیں بنایا؟اور اگر نص فہمی کا اختلاف ہوتا تو دو باتوں کی وضاحت فرماتے: ایک یہ کہ اس سے ہر امام نے اور خاص احناف نے کیا سمجھا؟ دوسری بات یہ کہ احناف نے ایسا کیوں سمجھا؟ اختلاف ائمہ کا ذکر کرتے ہوئے ادب الاختلاف کی پوری رعایت کرتے، ہر امام کا نام پورے احترام کے ساتھ لیتے، طنزیہ انداز کے بجائے معروضی انداز اختیار کرتے، عام طور سے فقہ کی اختلافی بحثیں اس انداز سے کی جاتی ہیں کہ دوسرے مسلک والے کے جذبات کو ٹھیس پہنچ ہی جاتی ہے، مگرحضرت الاستاذ پوری بحث اس انداز سے کرتے کہ کسی دوسرے مسلک والے کو تکلیف نہ پہنچے، حضرت فرماتے بھی تھے کہ میری جماعت میں شافعی مسلک کے شاگرد بھی رہتے ہیں، میں ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتا۔ جن مسائل میں غیر مقلدین احناف کو حدیث مخالف باور کراتے ہیں ، ان مسائل پر سیر حاصل بحث کرتے، فکری مسائل پر خاص کر وہ مسائل جن پر مغرب کو اعتراض ہے تشفی بخش کلام کرتے، متن کی تشریح ہوجانے کے بعد عبارت خواں اس متن کی عبارت پڑھتا، متن میں کوئی لفظ وضاحت طلب ہوتا تو عبارت خواں عبارت پڑھتے ہوئے جب اس لفظ کے پاس آتا تب اس لفظ کی توضیح کرتے، متن کے شروع میں ہی اس لفظ کو نہ چھیڑتے، درس کی اخیر حدیث تک بل کہ کتاب کی اخیر حدیث تک یہی منہج برقرار رہتا، حضرت کا منہج اُس منہج سے مختلف تھا جو مدارس میں عام طور سے رائج ہے، رائج منہج میں پہلے طالب علم عبارت پڑھتا ہے اور پھر استاذ تشریح کرتے ہیں، جب کہ حضرت الاستاذ پہلے تشریح کرتے پھر طالب علم عبارت پڑھتا، حضرت نے یہی منہج اپنی تمام شروحات میں بھی اختیار کیا ہے، اس منہج کی خصوصیت یہ ہے کہ طالب علم پہلے پوری بات سمجھ لیتا ہے پھر عبارت پڑھتا ہے، بات سمجھنے کے بعد عبارت پڑھنا عبارت فہمی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔عام طور سے درس نظامی کی دورہ حدیث کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہاں عبارت خوانی زیادہ ہوتی ہے، حدیث پر کلام بہت کم ہوتا ہے اور سال کے آخری ایام میں تو کلام تقریبا ہوتا ہی نہیں، یہ تاثر کتناصحیح ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے؛ مگر جہاں تک حضرت الاستاذ کے درس کی بات ہے تو یہ تاثر سراسر غلط ہے، حضرت الاستاذکوئی بھی حدیث تشنۂ تشریح نہیں چھوڑتے، سال کا آغاز ہو یا اختتام، حضرت کے درس کا انداز یکساں ہوتا، نیز حضرت عبارت خوانی کی رفتار میں میانہ روی کو پسند فرماتے، تیز رفتاری کی قطعا اجازت نہیں دیتے۔
دیوبند کے زمانۂ طالب علمی میں ایک مرتبہ میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ حضرت کے دولت کدہ پر عصر کی بعد کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، حضرت کے کوئی مہمان بھی وہاں تشریف فرما تھے، حضرت نے دوران گفتگو کسی بات پر بہادر شاہ ظفر کی طرف منسوب یہ شعر پڑھا:
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
پھر حضرت نے ظریفانہ انداز میں ہنستے ہوئے فرمایا کہ اور دراز مانگ لیتے ، چار ہی دن کیوں مانگے؟ حضرت نے یہ تبصرہ کچھ اس انداز سے فرمایا کہ محفل زعفران زار بن گئی؛ مگر اس وقت کسی کے دل میں یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ جب حضرت اپنی عمر طبیعی مکمل کرکے داغ مفارقت دیں گے تو ہر شخص سنجیدگی سے تمنا کر رہا ہوگا کہ اے کاش حضرت کی عمر کچھ اور دراز ہوتی تاکہ امت اور خاص کر تشنہ گان علوم نبوت ان سے مزید استفادہ کرپاتے۔ مگر ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے، فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (النحل: 61)۔
خدا ئے تعالی حضرت کی قبر کو نور سے بھر دے، حضرت کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے، پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے:
مثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا
نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*