وہ کھوگیا تو مجھے پھر کہیں ملا ہی نہیں ـ ضیا فاروقی

غبار اڑتا رہا کارواں، رکا ہی نہیں
وہ کھو گیا تو مجھے پھر کہیں ملا ہی نہیں

نہ کوئی در نہ دریچہ نہ روزن دیوار
کہاں سے آئے ہوا کوئی راستا ہی نہیں

گواہ ہیں مرے گھر کے یہ بام و در سارے
کہ تیرے بعد یہاں دوسرا رہا ہی نہیں

وہ دوڑ تھی کہ ہوئے مضمحل قوی سارے
بس ایک تیرا تصور کبھی تھکا ہی نہیں

ہزار رنگ بھرے لاکھ خال و خد کھینچے
سراپا تیرا مکمل کبھی ہوا ہی نہیں

میں کیا کروں یہ تری سبز وادیاں لے کر
یہاں وہ پھول جسے دل کہیں کھلا ہی نہیں

ہر ایک سمت مری وحشتیں ہراساں ہیں
کہ دور دور کوئی ان کا ہم نوا ہی نہیں

تمام رات یہ آنکھیں تلاش کرتی رہیں
مگر ستارہ مرا آسماں پہ تھا ہی نہیں

ضیا میں خود کو یہ سمجھا رہا ہوں مدت سے
کہ یہ جہان مرے واسطے بنا ہی نہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*