وہ جو چاند تھا سرِ آسماں نہیں رہا-مشتاق احمد نوری

دل یہ ماننے کوتیار نہیں کہ شمس الرحمن فاروقی نہیں رہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات جشن واہی میں ہوٸ تھی وہ اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ آٸے میں نے سلام کیا اپنا نام بتایا انہوں نے میری طرف دیکھا مسکراٸے اور جواب دیکر آگے بڑھ گٸے۔ اسی دورے میں جس روز ان کی واپسی تھی میں نے فون کر اپنے یہاں چاٸے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول فرماٸ۔ شام وہ میرے فلیٹ تشریف لاٸے تو پٹنہ کے سبھی اہم قلمکار موجود تھے۔شفیع مشہدی شفیع جاوید عبدالصمد شوکت حیات شموٸل احمد عالم خورشید اور بہت سے لوگ۔ ضیافت کے ساتھ گفتگو ہوتی رہی ۔سوال ہوتے رہے اور فاروقی جواب دیتے رہے۔
غالب کا ایک مشہور شعر
کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوٸی تیغِ نگاہ کو آب تو دے
میں جو معنی احباب کو بتاتا وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ میری تشریح تھی کہ اس میں سیکس کے عمل کا ذکر ہے لیکن کوٸ سمجھ ہی نہ پایا تو میں نے یہ شعر پڑھا اور فاروقی صاحب سے پوچھا کہ اس میں غالب نے سیکس کا ذکر کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بالکل درست کہا تم نے۔ میں نے احباب کی طرف مسکرا کر دیکھا تاکہ وہ مان لیں۔
اس دوران کٸ سرسری ملاقات مختلف فنکشن میں ہوں ۔ علیگڑھ میں البرکات میں خلیل الرحمن اعظمی پر ایک سیمینار تھا میں بھی مدعو تھا وہاں ان سے تفصیلی ملاقات رہی ۔میں نے خوب گفتگو کی کٸ سلفیاں لیں اور انہیں بہار اردو اکادمی آنے کی دعوت دی تاکہ ” ایک شام فاروقی کے نام “ کا انعقاد کرسکوں۔انہوں نے وعدہ کیا ۔میں نے پٹنہ آکر کچھ بڑے ادیبوں سے ذکر کیا جن سے ان کی قربت رہی تھی ۔انہیں گفتگو کے لٸے تیار رہنے کی دعوت بھی دی۔ بعد میں انہوں نے بیماری کا حوالا دیکر انکار کیا بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے ایک قریبی دوست نے انہیں کچھ اناپ شناپ بتاکر آنے سے روک دیا تھا۔
الہ آباد یونیورسیٹی میں چکبست پر ایک سیمینار تھا جب فاروق اپنی کار کی جانب گٸے تو میں لپک کے سامنے آگیا مجھے دیکھتے ہی فرمایا
” مولانا تہمارا حکم یاد ہے میں ضرور آٶنگا “
میں نے کہا فاروقی بھاٸ یہ حکم نہیں گزارش ہے ۔مسکراٸے پھر وعدہ کیا۔اسی شام میں ان کے گھر بھی گیا دیکھتے ہی کہا ارے بھاٸ سیمینار میں ملاقات ہوہی گٸی تھی تو پھر کیوں زحمت کی۔میں نے کہا فاروقی بھاٸ پٹنہ میں کوٸ پوچھتا کہ فاروقی کی چوکٹ چوم کے آٸے ہو ؟ تو میں کیا جواب دیتا۔مسکرانے لگے پھر میں نے کہا الہ آباد آکر آپ کے یہاں نہیں آنا ایسا ہی ہے جیسے آگرہ جاکر تاج محل نہ دیکھنا۔
بہت محبت سے پیش آٸے ادب خصوصاً فکشن پر گفتگو ہوتی رہی جب میں نے ساتھ میں تصویر لینی چاہی تو اپنی کرسی کی بغل میں کرسی رکھواٸ اور میری ہتھیلی اپنی ہتھیلیوں میں لیتے ہوٸے کہا
” یہ ہم دونوں کا گٹھ بندھن ہے جیسے تمہارے بہار میں گٹھ بندھن کی سرکار ہے۔ ان دنوں نتیش لالو کی سرکار تھی۔
میں ان سے شروع سے ہی بے تکلف رہا اور یہ رشتہ آخری ملاقات تک قاٸم رہا۔ اکادمی کے پروگرام کے سلسلے میں بھی بات ہوٸ انہوں نے کہا تنہا اور ٹرین سے جانا مشکل ہوگا پھر یہ طے پایا کہ وہ دہلی جاٸینگے اور پلین سے بیٹی کے ساتھ آٸینگے۔ میری ہزار کوشش کے بعد بھی یہ پروگرام انجام نہ پا سکا۔
فاروقی صرف تنقید کا اہم نام نہیں تھے انہوں نے شب خوں کے ذریعہ دو نسلوں کی ذہنی تربیت کی اور بہت سے قلم کار ان کی تربیت سے کافی چمکے بھی۔ ذہن کی آبیاری کرنا بہت مشکل ہے لیکن انہوں تینوں صنفوں کو اہم قلمکار دٸے۔
فاروقی نے صرف تنقید کو ہی وقار نہیں بخشا بلکہ فکشن کو بھی مالامال کیا۔تنقید میں میر کی شاعری کا تنقیدی جاٸزہ شعر شور انگیز کی چار جلدیں انکا سرمایہ ہیں تو ان کا ناول ” کٸ چاند تھے سر آسماں “ اپنی مثال آپ ہے۔فاروقی تکبرانہ مزاج کے نہیں تھے لیکن اپنی ہتک برداشت نہیں کرتے تھے ۔بہار کے ایک جدید افسانہ نگار جن کی درجنوں کہانیاں شب خون میں شاٸع ہوٸیں۔اس نے کسی انٹرویو میں فاروقی کے تعلق سے کچھ نازیبا کلمات استعمال کٸے تو فاروقی کافی ناراض ہوٸے اور جب شب خون کے شماروں کی تلخیص شاٸع کی تو ان افسانہ نگار کا ایک بھی افسانہ شامل نہیں کیا۔ انہوں نے شاعری بھی کی لیکن صرف ذوق کی تسکین کے لیے کہ ان کا مزاج شاعرانہ نہیں تھا۔
فاروقی کے نہیں ہونے کا مطلب بہت بعد میں سمجھ میں آٸےگا۔ ان کا جانا ایک عہد کا خاتمہ ہے۔وہ دنیاٸے فانی سے ضرور نکلے لیکن لوگوں کے دلوں میں بسے رہین گے ۔