وقت آگیا ہے کہ ہم سب سچی بہادری اور جرأت کا مظاہرہ کریں (پارلیمنٹ میں کی گئی ایم پی مہوا موئترا کی ولولہ انگیز تقریر کا خلاصہ)

از: حسن عمار

آج میں اس ایوان میں اپنے ان ہم وطنوں کی طرف سے حکومت سے وہی سوالات کرنا چاہتی ہوں جو سوالات کرنے یا مخالفت کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ ناحق جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاکہ گورنمنٹ کو یہ اندازہ ہو جاے کہ آوازیں دبائی نہیں جا سکتیں۔

امریکی صحافی کا ایک قول یہاں نقل کرنا میں مناسب سمجھتی ہوں: ” یہ جہموریت طاقت سے وجود میں نہیں آئی ہے، اور نہ ڈرپوک اس کو بچا سکتے ہیں”،
آج میں "ڈر” اور "طاقت” کے فرق کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں اور ان لوگوں کے بارے میں جو نفرت، عداوت ، جھوٹ اور تعصب کی سیاست کرتے ہیں اور اس کو "بہادری” قرار دیتے ہیں۔ اس حکومت نے نفرت ، عداوت اور تعصب کو اپنا نیریٹیو بنایا ہوا ہے ، جو کہ حقیقت میں ایک فاشسٹ حکومت کا طریقہ کار ہے۔
موجودہ حکمرانوں نے پروپیگنڈا اور "غلط خبروں” کو ایک "کاٹیج انڈسٹری” میں تبدیل کردیا ہے، جس کی سب سے بڑی کامیابی یہ یے کہ اس نے "بزدلی” کو "بہادری” کے طور پر پیش کیا ہے۔

آج ہندوستان کا المیہ یہ نہیں ہے کہ اس کی حکومت نے اس کو ناکام بنادیا ہے ہے بلکہ اس کے دیگر جمہوری ستون – میڈیا اور عدلیہ – نے بھی اس کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عدلیہ جو کہ ایک "مقدس گائے” تھی ، افسوس یہ ہے کہ اس کا تقدس بھی اب باقی نہیں رہا۔ اس کا تقدس اسی دن ختم ہوگیا تھا جب ملک کے ایک سیٹنگ چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ، اپنے مقدمے کی صدارت بھی جناب نے خود ہی فرمائی ، اپنی برأت کا اعلان بھی محترم نے خود ہی کیا اور پھر ریٹائرمنٹ کے تین ماہ کے اندر اندر زیڈ پلس سیکورٹی کے ساتھ ایوان بالا کی نامزدگی بھی قبول فرمائی۔
جب عدلیہ آئین کے بنیادی اصول و قواعد کی حفاظت نہیں کرسکتا تو وہ اب مقدس بھی نہیں رہ سکتا ۔عدالت ملک میں ہورہے جمہوری تماشے کو خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے،ادیب اور صحافی جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ایک نوجوان ایک "چٹکلہ ” کہہ دیتا ہے تو عدالت کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا نوٹس لیتی ہے۔ جمہوری طاقتوں کا سب سے زیادہ استحصال جوڈیشری نے ہی کیا ہے۔

90 دن سے بیٹھے کسانوں کی کوئی خیر خبر نہیں لی گئی ، تینوں کسان بل اس حال میں لائے گئے کہ اپوزیشن سمیت تمام ہی لوگ اس کے مخالف تھے ، بغیر اتفاق راے اور مشاورت کے ان کو پاس کیا گیا اور پھر پوری قوم پر ان کو زبردستی تھوپ دیا گیا، یہ بات ظاہر ثبوت ہے کہ گورنمنٹ افہام و تفہیم کے بجاے زبردستی اور طاقت کی بنیاد پر حکومت کرنا چاہتی ہے۔
گورنمنٹ نے کسانوں کا حال پوچھنے میں تو کوئی بہادری نہیں دکھائی بلکہ ایک 18 سالہ لڑکی، اور امریکن پاپ اسٹار کے خلاف پوری منسٹری نے اپنی جھوٹی جرآت کا مظاہرہ کیا اور اس کو جواب دینے میں بہت بہادری دکھائی۔کیا موجودہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کو اس لئے یاد رکھا جاے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا انتظام اس نے سنبھالا تھا یا اس کو اس لئے یاد رکھا جاے کہ اس نے ہندوستان میں "ون پارٹی رول” کو نافذ کیا تھا ؟اپنے آپ سے یہ سوال کیجیے۔

موجودہ حکومت نے ہندوستانی جمہوریت کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کردیا یے، جہاں ایک مشکوک شکایت کی بنیاد پر اس ایوان کے ممتاز ممبر اور تجربہ کار صحافی پر ملک سے بغاوت کا الزام لگایا گیا ہے۔

آپ کی بہادری کی ایک اور مثال 4 گھنٹوں کی مہلت دے کر پورے ہندوستان کو لاک ڈاون میں جھونک دینا بھی ہے ، جس کی وجہ سے سینکڑوں جانیں چلی گئیں، لاکھوں مزدوروں کو بھوکے پیاسے پیدل سفر کرنے کی مشقت اٹھانی پڑی ۔ معیشت کے میدان میں بھی سال 2020 میں ہندوستان کی رفتار ترقی پذیر ممالک میں سب سے پیچھے رہی بلکہ سب سے خراب رہی۔
پی ایم فنڈ کو ان کمپنیوں سے پیسہ ملا ہے جس پر ہندوستانی حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے، تو حکومت نے وہ چندہ واپس کیوں نہیں کیا ؟ وزیر اعظم تو آئیں گے اور جائیں گے تو اس فنڈ کا نام کسی ایک شخص کے نام پر کیسے رکھا جا سکتا ہے؟

میڈیا بھی تمام صحافی اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوے ہر دن نیچے گررہا ہے۔ حالیہ "واٹس اپ چیٹ لیکس” سے حکومت اور سرمایہ داروں کا ایسا گٹھبندھن سامنے آیا ہے ، جس سے بچانے کی جھوٹی امید خود یہ حکومت ہمیں دلاتی رہی ہے۔

آپ کانگریس کو ایمرجنسی کا طعنہ دیتے رہتے ہیں ، لیکن آج ہندوستان ایک "غیر اعلانیہ ” ایمرجنسی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ شاید اس حکومت نے اندازہ غلط لگا لیا ہے۔ بزدلی اور جرات کے درمیان ایک فرق یے۔ بزدل صرف اس وقت بہادر ہوتا ہے جبکہ اس کے پاس طاقت اور اختیار ہو، جبکہ حقیقی بہادر ہتھیاروں کے بغیر بھی مقابلہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب آپ پولیس اور بیوروکریسی کو غازی پور خالی کرانے کا حکم نامہ جاری کرتے ہیں، انٹرنیٹ بند کردیتے ہیں ، تو یاد رکھیے کہ یہ آپ کی بہادری نہیں ، بلکہ آپ کی "بزدلی ” اور "نکما پن” کا ثبوت ہے۔ یہ مت بھولیے کہ ہریانہ کے جوان پولیس اور فوج میں خاصی تعداد میں ہیں اور اپنی جان کی بازی لگا کر اس ملک کی حفاظت کرتے ہیں اس لئے نہ ان کو "دیش دروہی” کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو "غداری” کا سرٹیفکیٹ دیا جاسکتا ہے۔

آپ کی تمام حالیہ کاروائیاں یہ بتاتی ہیں کہ آپ بہادر نہیں بلکہ طاقت اور اختیار سے لیس "ڈرپوک” ہیں۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس نے کہا تھا کہ ہمیں ہندوستان کی قسمت پر یقین رکھنا چاہیے۔ لیکن میں کہتی ہوں کہ ہندوستان چند ڈرپوکوں کا غلام بن کر نہیں رہےگا ، اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب سچی "بہادری” اور "جرأت” کا مظاہرہ کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*