وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھاؤں جیسا ہے- عبداللہ زکریا 

جمیل گلریز ایک شخص نہیں بلکہ ایک انجمن کا نام ہے ۔اردو سے محبت کا دعوی تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن اردو کا ایسا مخلص اور بے لوث سپاہی شاید ہی ملے ۔صلہ کی تمنا اور ستائش کی پروا کئے بغیر وہ ہندوستانی زبانوں اور خاص کر اردو کو بچانے کی مہم میں جٹے ہوئے ہیں ۔وہ بمبئی(ممبئی) پانچ نومبر انیس سو انچاس (5/11/49)میں پیدا ہوئے ۔اردو میں ایک محاورہ ہے “سونے کا چمچ “لیکر پیدا ہونا ۔وہ بھی منھ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوئے ۔والد عابد گلریز انتہائی متمول تھے ۔عابد صاحب گوناگوں صلاحیتوں کے مالک تھے ۔۴۰ اور ۵۰ کی دہائی میں انھوں نے فلموں میں گانے بھی لکھے ۔”سورج مکھی “جو سنہ ۱۹۵۰ میں بنی تھی اس کا ایک گانا کچھ اس طرح ہے “سنئے حضور پیار کا چرچا نہ کیجئے”یہ گانا عابد گلریز صاحب کے قلم کی دین ہے ۔اسی فلم کا ایک اور گانا “حسن کا غرور ہے ،یہ بری بات ہے “بہت مشہور ہوا۔
اس گانےکولتا منگیشکر نے اپنی آواز سے سجایا ہے ۔بیس کے قریب گا نے اور غزلیں جس کے بارے میں ہمیں آج معلوم ہے کہ وہ عابد گلریز صاحب کے تخیل اور قلم کی دین ہیں ۔ وہ ایک زمانے میں “انقلاب “اخبار سے بھی وابستہ تھے ۔”باتیں “کے نام سے طنز ومزاح سے بھرپور ایک نظم روز انقلاب کی زینت بنتی ۔”یہ نظمیں وہ “سگریٹ باز”کے نام سے لکھتے تھے ۔”تازیانے”کےعنوان سے لکھا ان کا کالم اتنا مشہور تھا کہ بہت سارے لوگ انقلاب اخبار صرف یہ کالم پڑھنے کے لیے خریدا کرتے تھے ۔لکھنے والے کانام “پھول پھینک “ہوتا تھاجو گلریز سے آیا تھا۔اس کے علاوہ کئی اور کالم مختلف ناموں سے لکھا کرتے تھے ۔قلم برداشتہ لکھتے اور انھیں اپنے اوپر اتنا بھروسہ تھا کہ ادھر اخبار پرنٹ ہونے کو جارہا ہوتا اور یہ ادھر اپنے خیالات کو کاغذ پر اتار رہے ہوتے ۔بعد میں جب مالکان سے اختلاف ہوا تو کچھ عرصہ “مصور “کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے ۔یہ وہ رسالہ ہے جس کے مدیر ہونے کی ذمہ داری منٹو نے بھی اٹھائی ہے یہ بابو راؤ پٹیل کی ملکیت تھا اور ایک زمانہ میں سب سے مقبول فلمی رسالہ مانا تھا ۔لیکن چرخِ کج رفتار کب کسی کو چین سے رہنے دیتا ہے ۔عابد صاحب کو گھوڑوں کی ریس کا شوق تھا ۔شو مئی قسمت سے ایک ریس میں اپنی پوری پونجی ہار گئے اور اس گھرانے پر مصیبتوں کا دور شروع ہوگیا ۔حالات نے انھیں اتنا متاثر کیا کہ اسی کڑھن نے ان کی جان لے لی ۔وقت بدلا تو دھیرے دھیرے سب کچھ بدلتا چلا گیا۔ماہم کا چھ کمروں کا بنگلہ دو کمرے کا ہوا،پھر وہ بھی چھن گیا ۔اسکول بدلا ۔باندرہ اردو ہائی اسکول اب تعلیم و تربیت کا مرکز بنا (شاید قدرت جمیل صاحب سے اردو کی ترویج کا کام لینا چاہتی تھی )پھر جمیل صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ان کی ماں بھی چل بسیں ۔وہ آج بھی ،جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں ،تو آنکھوں میں نمی دور سے دیکھی جا سکتی ہے ۔اٹھارہ سال کی عمر ،یتیمی کا داغ اور تین چھوٹے بھائیوں کی کفالت اب ان کے ذمہ تھی ۔تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی ۔آمدنی زیرو تھی ۔تین پیٹ بھی بھرنے تھے اور دوسری روزانہ کی ضروریات بھی اپنا منھ پھاڑے کھڑی رہتی تھیں ۔ماہم سے کھسکتے کھسکتے مسکن مالونی تک پہونچ گیا ۔روزانہ ایک گھنٹہ پیدل چل کر “نائے گاؤں “اسٹیشن آنا پڑتا تب جا کر ٹرین ملتی ۔اس زمانہ میں مضافات ابھی اتنے ڈیویلپ نہیں ہوئے تھے ۔تعلیم کے ساتھ اب روزگار بھی ڈھونڈھنے کی اضافی ذمہ داری کندھوں پر آ پڑی تھی ۔والد کے زمانہ کے ایک دوست ایاز پیر بھائی مسیحا بن کر سامنے آئے ۔انکی ایڈورٹائزنگ کی ایجنسی تھی ۔ایک بہت قلیل مشاہرے پر کام شروع کیا لیکن تن کو چھپانے اور بھوک کو مٹانے کے لیے یہ ناگزیر تھا ۔اس زمانہ میں ایڈورٹائزنگ میں کام کرنے کے لئے انگریزی آناضروری ہی نہیں بلکہ اس پر عبور ہونا بھی ضروری تھا ۔جمیل صاحب کی ساری پڑھائی اردو میڈیم سے ہوئی تھی لیکن ان کے اندر حوصلہ نہ ہارنےکی جو خوبی ہے اس نے زندگی کے ہر موڑ پر انکا ہاتھ تھاما ہے ۔یہاں بھی یہی صفت کام آئی ۔انگریزی میں مہارت حاصل کی پھر بتدریج ترقی کرتے کرتے اپنی ایڈورٹائزنگ فرم بنائی ۔ایک زمانہ میں” ٹاپ برینڈز “کے اکاؤنٹ ان کے پاس تھے۔
جمیل صاحب کو کتابوں سے عشق ہے اور کھار میں واقع ان کے گھر پر ایک اچھی خاصی لائبریری موجود ہے ۔دیوار پر ایک طرف ،ایک آرٹسٹ نے ، اردو کے تمام قابل ذکر ادیبوں اور شاعروں کے نام اس خوبصورتی سے کندہ کئے ہیں کہ دیکھتے ہی بنتا ہے ۔ہم اسے ازراہِ مذاق “وال آف فیم “کہتے ہیں ۔یہ وہ کمرہ ہے جہاں جمیل صاحب مہمانوں کی خاطر تواضع بھی کرتے ہیں اور لذتِ کام و دہن کے ساتھ علمی اور ادبی گفتگو کا سلسلہ بھی چلتا رہتاہے ۔پیٹ بھر جاتاہے اور علم کی پیاس بڑھ جاتی ہے۔ایک بار جو جمیل صاحب کے دامِ الفت میں گرفتار ہوا تو پھر چھٹکارا نہیں ۔کوئی اس سحر کے بارے میں ان کی شریکِ حیات ریکھا راؤ سے پوچھے ۔اسی کمرے میں کتابوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے جمیل صاحب پر ایک دن ایک انکشاف ہوا اور یہ ان کی زندگی کے تیسرے دور کا آغاز تھا ۔انھیں یہ خیال آیا کہ ،یہ جو اردو کا نادر لٹریچر ان کے پاس ہے ،انکی موت کے بعد اسکا کیا ہوگا ۔ایک ردی والا آئے گا ۔کچھ بھاؤ تاؤ کرے گا ،پھر یہ کتابیں کسی کباڑی کے پاس پہونچ جائیں گی ۔لوگ چوپاٹی پر “منٹو “کے افسانوں میں بھیل کھا ئیں گے ۔پنواڑی “عصمت چغتائی “کو پان میں لپیٹ کر کسی کے حوالے کر دے گا ۔”کرشن چندر “کسی ناقدر کے ہاتھوں میں چاٹ کی شکل میں موجود ہوں گے ۔اس خیال نے انھیں دہلا دیا ۔اور اس طرح “کتھا کتھن “وجود میں آئی۔انھوں نے اردو کے تمام قابلِ قدر افسانہ نگاروں کی تخلیقات کو اپنی آواز میں ریکارڈ کرنا اور پھر اپنے یو ٹیوب چینل پر ڈالنا شروع کیا کہ کم از کم اس طرح سےیہ آواز کی شکل میں محفوظ ہو جائیں گی ۔کل جب اردو رسم الخط پڑھنے والے لوگ ناپید ہو جائیں گے ،کتابیں چھپنا بند ہو جائیں گی ،اس وقت اگر کسی کے دل میں اشتیاق ہوا کہ چلو دیکھا جائے کہ منٹو نے کس طرح اپنے قلم کے نشتر چلائےہیں ،عصمت کا قلم کس بے باکی سے معاشرے کی تصویر کشی کر رہا ہے یا کرشن چندر کے یہاں عام انسانوں اور ان کے مسائل کو کس انداز میں پیش کیا ہے تو اگر وہ “اوریجنل “پڑھ نہیں سکتا ہے تو کم از کم “سن” کر ہی واقفیت حاصل کر سکتا ہے ۔یہ سلسلہ دو ہزار پندرہ میں شروع ہواتھا۔
اور اب تک دو ہزار سے زائد ویڈیوز ریکارڈ اور اپلوڈ کی جا چکی ہیں ۔جب انھوں نے یہ مہم شروع کی تھی تو انھیں لگا کہ یہ حالتِ زار صرف اردو کی ہے ۔بعد میں اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ یہ صورتِ حال دوسری ہندوستانی زبانوں کی بھی ہے ،سو کتھا کتھن دائرہ بڑھ کر اب تمام ہندوستانی زبانوں کی حفاظت کا ہوگیا ہے ۔اس میں وقت اور جان دونوں کا ضیاع ہے ۔مالی منفعت کوئی ہے نہیں ہے ۔الٹا اپنی ہی جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے لیکن جمیل صاحب کو پروا نہیں ۔آج کی مادی دنیا میں جہاں لوگ اپنے ایک ایک منٹ کا حساب رکھتے ہیں اور اس کی قیمت طلب کرتے ہیں اس بے لوثی کی مثال نہیں ملے گی ۔
 جب آپ کوئی کام خلوصِ نیت سے کرتے ہیں تو چاہے کامیابی ملنے میں تھوڑا وقت لگے،لیکن کامیابی ضرور قدم چومتی ہے ۔جمیل صاحب کو آج دنیا جانتی ہے ۔ان کے پرستاروں کی فہرست آج ملک سے نکل کر بیرونِ ملک تک پہونچ چکی ہے ۔نصیر الدین شاہ صاحب جیسے عظیم المر تبت فنکار ان کے ساتھ جڑ ے ہوئے ہیں ۔نصیر صاحب اور ان کے دوستی کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔جمیل صاحب نے عصمت آپا کی کچھ کہانیاں ریکارڈ کی ہوئی تھیں ۔یو ٹیوب پر جب وہ اپلوڈ ہوئیں تو ان پر کچھ” کمنٹ “آنے شروع ہوئے ۔نام لکھا ہوتا تھا نصیرالدین شاہ اور تعریف ہوتی تھی ۔جمیل صاحب کو شروع میں لگا کہ کوئی ان کے ساتھ مذاق کر رہاہے ۔کہاں نصیر صاحب اور کہاں وہ ۔یہ ضرور کسی کی شرارت ہے ۔پانچویں کہانی کے بعد میسیج آیا کہ میں دلی آرہا ہوں اور آپ سے ملاقات کرنا چاہتاہوں (نصیر صاحب کو لگا کہ جمیل صاحب دلی میں رہتے ہیں )۔اس پر جمیل صاحب بتایا کہ وہ تو ممبئی می ہی رہتے ہیں ۔پھر د ونوں کے بیچ ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعہ بات ہوئی ۔آگے چل کر ملاقات ہوتی ہے اور پھر انھیں کہانیوں پر نصیرالدین شاہ اپنا ناٹک “عورت عورت عورت “کرتے ہیں ۔جمیل صاحب نصیر صاحب کی اعلی ظرفی کا ذکریوں کرتے ہیں “اس ناٹک کے بعد نصیر صاحب نے ،جو بھی انٹرویو دئے ،چاہے وہ اخبار میں ہوں یا ٹیلیویژن کو دیے گئے ہوں ،ان میں بڑی فراخ دلی سے میرے تعاون اور مشوروں کا ذکر ضرور کیا ہے “جمیل صاحب کبھی کبھی تعجب کرتے ہیں کہ کوئی اتنا شریف النفس آج کے زمانہ میں کیسے ہوسکتا ہے ؟۔یہی اس دوستی کا نقطہ آغاز تھا ۔آج نصیر صاحب پھر سے اردو کی طرف راغب ہوئے ہیں اور جمیل صاحب سے اردو کے مشکل الفاظ اور دوسری چیزوں میں رجوع کرتے ہیں اور کتھا کتھن کا حصہ بن گئے ہیں ۔جمیل صاحب کے الفاظ میں “یہ نصیر صاحب کا بڑکپن اور ان کی کریم النفسی ہے کہ میں نے جب بھی انھیں اپنے کسی پروگرام میں ان کو بلایا انھوں نے بڑی خندہ پیشی سے میری دعوت قبول کی “۔حقیت یہ کہ آج کتھا کتھن کا کوئی بھی پروگرام جو بڑے اسکیل پر کیا جاتا ہے ،اس میں نصیر صاحب کی شرکت یقینی ہے ۔راقم نے بھی اس دوستی کے بہت فائدے اٹھائے ہیں اور نصیر صاحب نے ،”کاروان محبت “جس سے میں وابستہ ہوں ،کے  لیے سارے انٹرویو ریکارڈ کیے ہیں ۔نہیں تو ہما شما کی پہونچ کہاں نصیر صاحب تک ۔آج کل ریکھا بھاردواج اور وشال بھاردواج ،جمیل صاحب سے غالب سمجھ رہے ہیں غالب کے تعلق سے دو جملہ بہت مشہور ہیں ۔ایک تو یہ اگر کلامِ غالب کی شرحیں نہ تو غالب کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں ۔دوسرا یہ کہ غالب دنیا کا واحد شاعر ہے جو نہ سمجھ آئے تو لطف دو بالا ہو جاتاہے ۔جمیل صاحب مانتے ہیں کہ غالب ایک صوفی ہیں ۔اس کی طرف خود غالب نے خود ہی اشارہ کیا ہے:
یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
جمیل صاحب کا ماننا ہے کہ کلام غالب کو اگر اس زاویہ سے سمجھایا جائے اور اس کی تشریح اگر اس کو مدِّ نظر رکھ کر کی جائے تو اس کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے ۔کلام ِ غالب کی ایک ایسی ہی تشریح سن کر گلزار صاحب اتنا متاثر ہوئے ہیں کہ وہ اب جمیل صاحب سے ملنا چاہتے ہیں ۔
منٹو سے جمیل صاحب کو خاص شغف ہے ۔جمیل صاحب ماہم کے جس بنگلہ میں پیدا ہوئے ، اس کا ایک حصہ ان کے والد نے ،جب حالات خراب ہوئے ،کرایہ پر اٹھا دیا تھا ۔اس حصہ میں مشہور ایکٹر شیام رہا کرتے تھے ۔شیام اور منٹو کی بہت گہری دوستی تھی اور وہ اکثر یہاں آیا کرے تھے ۔منٹو اور جمیل صاحب کا نال (umbilical cord)کا تعلق ہے شاید ۔
منٹو کے پاکستان جانے کے پیچھے بھی ایک واقعہ ہے ۔فسادات زوروں پر تھے ۔سرحد کے دونوں پار انسان گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے تھے ۔شیام کے کچھ رشتہ دار لاہور اور پنجاب کے دوسرے علاقوں میں تھے ۔ایک دن ،جب ان کے کسی عزیز کو مار دیا گیا ،تو نشہ میں دھت ہوکر انھوں نے منٹو سے کہا میں بھی تجھے کسی دن مار ڈالوں گا ۔بات آئی گئی۔شیام نے معافی بھی مانگی لیکن منٹو کے دل میں یہ بات گرہ کر گئی ۔اس واقعہ کو منٹو نے بڑے فنکارانہ انداز میں اپنی کہانی “سہائے “میں استعمال کیا ہے اور ایک کیریکٹر سے بعینہ یہی ڈائیلاگ کہلوائے ہیں۔
جمیل صاحب آج عمر کے اس مقام پر ہیں جہاں آدمی اپنی کامیابوں کے نشہ میں سرشار اپنا سارا وقت ماضی کی حسین اور خوشگوار یادوں میں بتانے لگتا ہے لیکن وہ آج بھی چاق و چو بند ہیں ۔ہر مہینہ کے پہلے سنیچر کو آج بھی کتھا کتھن کی بیٹھک ہوتی ہے ۔کرونا سے پہلے یہ ان کے گھر پر ہوا کرتی تھی .آج زوم پر ہوتی ہے ۔مختلف موضوعات پر کہانیاں پڑھی جاتی ہیں ۔بھارت کی مختلف زبانوں میں کہانیاں ریکارڈ کی جاتی ہیں ۔ادھر کچھ دنوں سے “کلب ہاؤس “(Club house )پر کہانیاں سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔جمیل صاحب کا مخصوص انداز لوگوں کے درمیان بہت پاپولر ہے ۔بشری رحمن نے ،جو ایک بہت بڑی افسانہ نگار ہیں اور سرحد کے اس پار رہتی ہیں ،کچھ دنوں پہلے کہانیاں سنانے کے اس انداز کی بہت تعریف کی تھی ۔”جمیل صاحب بھارت میں ضیا محی الدین کا جواب ہیں ،”یہ جملہ نصیر الدین صاحب کاہے جب ان سے کسی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں کہانیاں سنانے والا کوئی نہیں ۔ یہ اردو کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے عاشقوں میں جمیل گلریز جیسے عاشق آج بھی موجود ہیں۔پانچ سال پہلے اکیلے شروع کیا گیا سفر آج ایک کارواں بن چکا ہے اور یہ امانت اب محفوظ ہاتھوں میں پہونچ چکی ہے:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا