وہ کتاب ،جس نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا-کامران غنی صباؔ

شعبۂ اردو نتیشور کالج، مظفرپور

چاروں طرف کتابوں کی بھیڑ ہے۔ کچھ کتابیں تبصرے کا تقاضا کر رہی ہیں۔کچھ کتابیں شاکی ہیں کہ جب مجھے پڑھنا نہیں تھا تو خرید کر شیلف میں کیوں سجا رکھا ہے۔اتنی ساری کتابوں میں میری نظر پھر سے اُسی کتاب پر جا کر ٹھہر گئی ہے جسے میں کئی بار پڑھ چکا ہوں لیکن نہ جانے اس کتاب میں کون سا جادو ہے کہ ہر بارمجھے اس کتاب کی "قرات "کے بعد ایک نیا سرور حاصل ہوتا ہے۔ میں نے "قرات” اس لیے لکھا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ کا حق کم از کم مجھ جیسے کم علم سے تو ادا ہو ہی نہیں سکتا۔
ایک بار میرے ذہن میں ذرا سا شک و شبہ پیدا ہو گیا کہ قرآن کے رہتے ہوئے دین کی تفہیم کے لیے کوئی دوسری کتاب کیوں پڑھی جائے؟ قرآن تو خود تمام علوم کا سرچشمہ ہے۔ پھر خود ہی یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کیا ایک عام انسان قرآن کے اسرار و رموز کواز خود سمجھ سکتاہے؟ ۔ میں کلاس میں بیٹھا تھا۔ ایک بچے سے کہا "بابو پنکھا چلا دو۔” بچہ چھوٹا تھا ۔پنکھے کی سوئچ تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچ پا رہا تھا۔اس نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ پاس کے بنچ کو سوئچ بورڈ کے قریب کیا۔ جوتا اتارا۔ بنچ پر چڑھ کر پنکھے کی سوئچ آن کر دی۔ بچہ میرا استاد بن گیا۔ اُس نے مجھے ایک سبق سکھا دیا۔ ذریعہ معتبر ہو تو اصل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔مجھے سورۃ الفاتحہ کی آیات یاد آئیں’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا‘‘۔یہی تو رازِ طریقت ہے کہ سیدھے راستے پر چلنا ہے تو سالکین راہِ حق کے نقوش پر چلنا ہوگا۔لیکن یہ خیال بھی رہے کہ سالک معتبر ہو۔ منزل مقصود تک پہنچانے والا۔ کشف و کرامات دکھاکر ایمان کی دولت لوٹنے والانہیں۔
جی! تو میں بات کر رہا تھا اُس کتاب کی جسے میں بار بار پڑھتا ہوں۔ اس کتاب نے نہ جانے کتنے تاریک دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دی۔ کتنے اذہان کو شعورِ معرفت عطا کیا۔ ہائے افسوس! کہ ایسی لطیف اور اسرارِ حق کو کھولنے والی کتابیں بھی ہمارے قلب و نظر کو شکار نہیں کر پاتیں۔ ہم انہیں پڑھ کر واپس شیلف میں رکھ دیتے ہیں۔ "تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے”(قرآن)۔آہ! کیسی بدنصیبی ہے۔کاش کہ حرف و صوت کی دنیا بصارت و سماعت سے آگےروح میں بھی آباد ہوتی ؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازیؔ نہ صاحبِ کشافؔ
میں بات کررہا ہوں مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیریؒ کے مکتوبات پر مشتمل کتاب "مکتوبات دو صدی” کی۔ یہ وہ کتاب ہےجس میں تصوف بھی ہے اور ادب بھی۔شریعت بھی ہے اور طریقت بھی۔تعلیم بھی ہے اور تربیت بھی۔مکتوبات کا ایک ایک لفظ دل کی آنکھوں سے پڑھیے تو ایک نیا جہان دریافت ہوگا۔ محبت شرطِ ایمان ہے کون نہیں جانتا لیکن اس محبت کو سمجھانے کا یہ انداز تو دیکھیے:
"اے بھائی! جس طرح ظاہر میں نماز روزہ فرض ہے، اسی طرح باطن میں عشق و محبت فرض ہے۔” (مکتوب 11)
اور پھر شیخ سعدیؔ کے یہ اشعار جب مخدوم جہاں کے قلم کا بوسہ دیتے ہیں تو شعور و آگہی کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے ؎
مجنونِ عشق را دگر امروزِ حالت است
کاسلام دین لیلی و دیگر ضلالت است
سعدیؔ بشوئ لوح دل از غیر نقشِ دوست
علمے کہ راہِ حق نہ نماید جہالت است
(ترجمہ: عشق کے مجنوں کی آج حالت ہی دوسری ہے۔ لیلی کا دین ہی اس کے لیے اسلام ہے، باقی سب گمراہی ہے۔ ائے سعدی! دل کے تختے پر محبوب کے نقش کے سوا جتنے نقوش ہیں سب کو دھو ڈال۔ ایسا علم جو حق تعالیٰ کے راہ کی رہبری نہ کرے وہ جہالت ہے۔)
آج کے مادی عہد میں دنیا کی محبت سے بچ پانا دشوار ترین کام ہے۔ہم نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کے جھمیلوں میں ملوث ہو ہی جاتے ہیں۔مخدوم پاکؒ اگر آج کے عہد میں ہوتے تو نہ جانے کیا کہتے۔ آج سے تقریباً سات سو سال پہلے لکھے اپنے مکتوب میں وہ کہتے ہیں:
"اے بھائی! واقعی بہت سخت اور بڑی مشکل کی گھڑی ہے جس میں ہم لوگ ہیں۔اور وہ یہ کہ اگر کوئی کافر طبیب کسی کو کہے کہ فلاں چیز تمہارے لیے مضر ہے نہ کھائو تو اُسی وقت سے پرہیز کر لیتے اور نہیں کھاتے ہیں۔ مگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغامبراں علیہم السلام آئے اور سب نے یہی کہا ‘ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی سر چشمہ ہے لیکن ہم میں سے کسی نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی تو یہ ایسا ہوا گویا ایک کافر طبیب کے قول پر یقین محکم ہے مگر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا علیہ الصلاۃ والسلام کے قول پر یقین کامل نہیں ، تو ایسے حال میں ایمان کہاں رہا، اس پر یہ گمان کہ ہم اہلِ ایمان ہیں۔” (مکتوب 10)
صوفیاے کرام کے یہاں "محبت” اور "دل کی پاکیزگی”کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں شریعت کے ساتھ ایک اصطلاح”طریقت” استعمال کی جاتی ہے۔بعض اہل علم اعتراض کرتے ہیں کہ صوفیا کے یہاں طریقت، شریعت پر حاوی ہو جاتی ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے۔ طریقت بغیر شریعت کے مکمل ہو ہی نہیں سکتی۔ بلکہ گہرائی سے جائزہ لیجیے تو طریقت میں ہی مکمل شریعت نظر آئے گی۔ "شریعت” دراصل ایمان کا minimum criteria ہے۔ جس طرح کسی ادارےکے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ ملازمین کے لیے ان اصول و ضوابط کو ماننا لازمی ہے ورنہ انہیں ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔اب یہ ممکن ہے کہ اس ادارے کا ایک ملازم ادارے کے تمام اصول و ضوابط کو عملی طور پر تو مانتا ہو لیکن اندرونی طور پر وہ اپنے ادارے کے تئیں وفادار نہ ہو یا وفادار ہو بھی تو صرف اس ڈر سے کہ اگر اس کے دل کا حال ادارے کے سربراہ پر افشا ہو گیا تو اسے سزا مل سکتی ہے۔ ایسا ملازم صرف اپنی ڈیوٹی کر سکتا ہے۔ ادارہ سے محبت نہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ شریعت کا ہے۔ ہم مسلمان ہیں اس لیے شرعی اصولوں کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہماری مجبوری ہے۔ صوفیا اس "مجبوری” کو عشق و محبت سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ وہ عبادت ہی کیا جو جزا و سزا کی امید یا ڈر سے کی جائے؟محبت میں مفاد داخل ہو جائے، غرض شامل ہو جائے تو محبت خالص نہیں رہتی۔ محبت تو خود سپردگی کا نام ہے۔ محبوب کی رضا میں راضی رہنے کا نام ہے۔دیکھیے اس نکتہ کو مخدوم جہاںؒ کتنے معرفانہ اندازہ میں سمجھاتے ہیں:
"حضرت ابو علی سیاحؒ کا ارشاد ہے کہ اگر تم سے پوچھیں کہ بہشت چاہتے ہو یا دو رکعت نماز؟ دیکھو ہرگز بہشت کا نام نہ لینا اور یہی کہنا کہ ہمیں دو رکعت نماز چاہیے۔ یہ اس لیے کہ بہشت تماری غرض کا حصہ ہے۔ اور جہاں غرض و مطلب درمیان میں ہے وہیں بلا، مکر، فریب بھی گھات لگائے ہوئے ہے۔ دیکھو موسیٰ و خضر علیہم السلام کے قصہ میں غور کرو جب جناب موسی کی ملاقات حضرت خضر سے ہوئی اور ہمراہ ہوئے تو موسی علیہ السلام نے دو بار اعتراض کیا ایک کشتی میں چھید کرنے پر دوسرے اس لڑکے کے قتل پر۔ جب کشتی میں چھید کرنے اور لڑکے کے قتل پر غرض کی بات درمیاں نہ تھی حضرت خضر درگزر کرتے رہے اور جب غرض کی بات آئی یعنی جناب موسی نے کہا ” لو شئت لاتخذت عليه اجرا”(اگر آپ چاہتے تو اس دیوار بنانے پر کچھ اجرت لیتے) تو حضرت خضر نے کہا "ھذا فراق بینی و بینک ” یعنی جب غرض کی بات درمیان میں آ گئی تو میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہوتی ہے۔” (مکتوب 24)
صوفیوں کے یہاں سوز و گداز سے بھرا ہوا شکستہ دل تجلیات الہی کا مرکز ہوتا ہے۔ جس دل میں جتنی شکستگی ہوگی وہ دل خدا سے اتنا ہی قریب ہوگا۔ اقبالؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمتہ اللہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
"ائے بھائی! مسلسل اس غم میں دل شکستگی کے ساتھ لگے رہنا چاہیے۔ دنیا کی تمام چیزیں ٹوٹنے کے بعد بے قیمت ہو جاتی ہیں لیکن دل جتنا شکستہ ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ترجمہ: میں ان لوگوں کے پاس ہوں جن کے دل میرے لیے شکستہ ہیں۔ اپنا یہی پتہ اس نے دیا ہے۔ ایک دفعہ جناب موسی علیہ السلام نے عرض کی الہی تجھے کہاں ڈھونڈوں؟ جواب ملا ٹوٹے ہوئے دل والوں کے پاس۔ عرض کی ائے مرے اللہ مجھ سے زیادہ کسی کا دل شکستہ نہیں ہے۔ وحی آئی تو میں وہیں پر ہوں۔” (مکتوب 48)
بت پرستی کے تعلق سے سمجھاتے ہوئے مخدوم جہاں ؒ نے ایک جگہ حضرت امام جعفر صادقؒ کا قول نقل کیا ہے لکھتے ہیں :
"امام جعفر صادقؒ سے کسی نے پوچھا بت کیا ہے؟ فرمایا : جو چیز تمہیں حق تعالیٰ کی مشغولیت سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول کرے وہی تمہارا بت ہے۔”
اسی مکتوب میں نفس کو بت قرار دیتے ہوئے تلقین کرتے ہیں:
"۔۔۔ کسی وجہ سے بھی اسے خیر خواہ نہ جانو اور اس سے مامون و مطمئن نہ رہو اور جب بھی وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنی پاکبازی دکھلائے اس پر اس وقت تک یقین نہ کرو جب تک اس کا امتحان نہ کر لو۔”(مکتوب 84)
شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری ؒ کا تصوف معرفت الہیٰ عطا کرتا ہے۔ وہ اپنے معتقدین کو کشف و کرامات سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ صرف "عشق و مستی” کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کے مکتوبات میں گہرے علمی مباحث، حدیث، فقہ اور فلسفہ موجود ہے۔ شیخ صاحبؒ کی سب سے بڑی خوبی جس نے مجھے بے انتہا متاثر کیا ہے کہ ان کی گفتگو”میں” سے خالی ہے۔ مکتوبات صدی ہو یا دو صدی ان کی گفتگو میں "مَیں” کا کہیں کوئی گزر ہی نہیں ہے۔انہوں نے اپنے خطوط میں کئی جگہ فارسی کے استاد شعرا کے اشعار نقل کیے ہیں۔ ان اشعار کے ساتھ شعرا کے نام بھی درج ہیں لیکن کئی جگہ شعر نقل کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ "کسی دیوانے نے کہا ہے” یا "کسی عاشق نے کیا پتے کی بات کہی ہے” وغیرہ۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس طرح کے اشعار خود مخدوم جہاںؒ کے ہی ہیں۔ جہاں دانستہ طور پر انہوں نے خود کو پردہ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔
مکتوبات دو صدی کے تمام خطوط علم و معرفت کا سرچشمہ ہیں۔ ان کا مطالعہ ہمیں "شعورِ عشق” عطا کرتا ہے۔ان خطوط کے مطالعہ سے قرآن و حدیث تک پہنچنے کا شوق و جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ علم و آگہی کے دروازے کھلتے ہیں۔اپنی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جھوٹی انا پر شدید ضرب پڑتی ہے۔خدا اور خلق خدا کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ان سب کے لیے شرطِ اولیں یہی ہے کہ ہمارے دل کی نگاہیں کھلی ہوں ؎
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات
(اقبالؔ)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*