وہ جو چاند تھا سر آسماں:اشعر نجمی کا ایک تاریخ ساز کارنامہ ـ خالد جاوید

آج ’’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘‘ مجھے بذریعہ ڈاک موصول ہوئی۔ اس عہدساز کتاب کو اشعر نجمی نے مرتب کیا ہے جو ایک عہد ساز ادیب کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے ترتیب دی گئی ہے۔ شمس الرحمان فاروقی کی حیثیت اردو کے سب سے بڑے ادیب، سب سے بڑے ناول نگار، سب سے بڑے نقاد اور سب سے بڑے عالم و دانش ور کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ وہ صحیح معنوں میں نابغۂ روزگار تھے۔ شمس الرحمان فاروقی کی طرح نہ کوئی پہلے پیدا ہوا اور نہ ہی آگے اس کا کوئی امکان ہے۔

اشعر نجمی نے اس کتاب کو ترتیب دے کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بہت بروقت؛ فاروقی صاحب کے انتقال کو ابھی صرف دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور دو ماہ سے پہلے ہی اشعر نجمی نے یہ کتاب مکمل کرلی۔ اگرچہ اس پر مجھے کوئی زیادہ حیرت نہیں ہے، کیوں کہ میں برسوں سے اس امر سے واقف ہوں کہ اشعر نجمی جیسا جنونی اور بےحد تندہی اور لگن سے کام کرنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔ وہ جو اپنے دل میں ٹھان لیتے ہیں اسے ہرحال میں پورا کر کے دکھاتے ہیں۔ حالات چاہے کتنے بھی نامساعد کیوں نہ ہوں، اشعر نجمی کی قوت ارادی میں کوئی کمی نہیں واقع ہوتی اور نہ ہی ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا ہوتی ہے۔

’’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘‘ سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں احوال فاروقی، افکار فاروقی، مذاکرات فاروقی، شذرات فاروقی، باقیات فاروقی، بازیافت فاروقی اور نذر فاروقی کے عنوانات سے ابواب قائم کیے گئے ہیں اور ہرباب اور ہر مضمون اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ شمس الرحمان فاروقی کی عظیم اور ہمہ جہت شخصیت کو ان ابواب میں بڑی کامیابی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور یہ خود اتنی بڑی بات ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

یہ کتاب شمس الرحمان فاروقی کی تنقید، ان کے افکار، ان کے تراجم اور ان کی تخلیقات کے حوالے سے ایک جامع،مبسوط اور مستند حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ خراج عقیدت کے طور پر ہمارے زمانے کے بڑے شاعر عین تابش کی دو عمدہ نظمیں بھی کتاب میں شامل ہیں۔ بلند پایہ فکشن نگار صدیق عالم کا تاثراتی مضمون ’’ایک کلید چند دروازے‘‘ بھی بہت شدت کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ظفر اقبال، محمد سلیم الرحمان، محمد حمید شاہد، مہر افشاں فاروقی، شہناز نبی اور احمد محفوظ کے مضامین بھی اس نوعیت کے ہیں کہ ان سے شمس الرحمان فاروقی کی شخصیت کی کسی نہ کسی نئی جہت پر روشنی پڑتی ہے۔
مگر صرف اتنا ہی نہیں، اشعر نجمی نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے علاوہ خود بھی ایک طویل مضمون قلمبند کیا ہے جس کا عنوان ’’یہ لوح مزار میری ہے‘‘ ہے۔ اسے ایک مضمون نہ کہہ کر اپنے آپ میں مکمل کتاب کا درجہ دیا جاسکتا ہے ، جو 140 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں اشعر نجمی نے فاروقی کے حوالے سے اپنی یادیں اور واقعات تحریر کیے ہیں جنھیں پڑھنے کے بعد آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ یہ مضمون انتہائی پُراثر ہے اور جس عالمانہ دیانت داری کے ساتھ لکھا گیا ہے اس کی مثال فی زمانہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گی۔

اشعر نجمی نے کتاب کاجو پیش لفظ لکھا ہے وہ بہت انوکھا ہے اور اس کی ایک ایک سطر سے تخلیقیت کا چشمہ پھوٹ رہا ہے۔ یہ پیش لفظ اشعر نجمی کی شمس الرحمان فاروقی سے والہانہ عقیدت اور محبت کا ایک نمونہ ہے۔

’’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘‘ اشعر نجمی کا ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے جو ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک نابغۂ روزگار ہستی کو خراج عقیدت کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی یہ اردو ادب کا ایک ناقابلِ فراموش اور یادگار واقعہ ہے۔
اس کتاب کو دیکھ کر میں جن کیفیات سے دو چار ہوں، ان کا بیان لفظوں میں کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ ہر شخص اس بات سے واقف ہے کہ وہ مجھے کتنا عزیز رکھتے تھے۔ شمس الرحمان فاروقی میرے محسن، رہنما اور ادب کی دنیا میں میرے سرپرست تھے۔ اس لیے میں اب ایک سناٹے میں خود کو گھرا ہوا محسوس کرتا ہوں اور اندھیرےمیں بھی۔ وہ جو چاند تھا سر آسماں اس اندھیرے میں میرے لیے روشنی کی ایک کرن بن کر سامنے آئی ہے۔