’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘: داستانِ عشق ـ شکیل رشید

 

نابغۂ روزگار شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں اشعر نجمی کی ترتیب و تہذیب میں ، ابھی ابھی چھپ کر جو کتاب ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘کے نام سے آئی ہے ، اسے دیکھ کر مجھے اپنے من پسند ادیب رضا علی عابدی کے افسانے ’جان صاحب‘ کی تین سطریں یاد آگئیں۔

جان صاحب ایک ایسے کردار کا نام ہے جو کہیں سے آکر ایک چھوٹے سے شہر کے اسٹیشن پر پڑ جاتا ہے ، لوگ اسے پاگل سمجھتے ہیں ، لیکن جب اس سے کئی طرح کی کرامات منسوب ہو جاتی ہیں تو لوگ اسے پہنچی ہوئی ہستی سمجھنے لگتے ہیں ۔

ایک صبح جب لوگوں کو وہ اسٹیش پر نظر نہیں آتا تو سب سے بزرگ قلی سے لوگ پوچھتے ہیں کہ جان صاحب کو کہیں دیکھا ہے؟ قلی بتاتا ہے کہ شب میں آنے والی گاڑی سے ایک عورت ڈبہ سے باہر اتری تھی جان صاحب اس کے ساتھ ڈبے میں بیٹھ کر چلے گئے ۔ کوئی پوچھتا ہے کہ کیا معاملہ تھا ؟ اس سوال کا جواب درج ذیل سطریں ہیں جو مجھے یاد آ گئی تھیں ۔

بوڑھا قلی بولا ۔’’میرا خیال ہے عاشقی تھی‘‘ ۔
کسی نے کہا ۔ ’’مگر پھر یہ کرامات کہاں سے آئیں؟‘‘
بوڑھا قلی بولا ۔’’عشق سے ۔‘‘

اشعر نجمی کی یہ کتاب بھی عشق کی کرامات میں سے ایک ہے ۔ میں اس کتاب کو کرامت ، اشعر اور فاروقی صاحب کے رشتے کے حوالے سے کہہ رہا ہوں ۔عموماً کسی عزیز کی جدائی ، رنج و غم میں یوں مبتلا کرتی ہے کہ کبھی ٹک کر اپنی جگہ نہ بیٹھنے والا بھی نڈھال ہو کر یوں بیٹھ جاتا ہے کہ کوئی کام نہیں کر پاتا ۔

اشعر ، فاروقی صاحب سے بہت ہی قریب تھے ۔ جو لوگ اردو زبان و ادب کے شب و روز پر نظر رکھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ فاروقی صاحب ، اشعر کے لیے فادر فگر تھے ، باپ کی طرح ۔ حالانکہ اس رشتے میں کئی بار کچھ تلخی بھی پیدا ہوئی ، مگر دراڑ نہیں پڑ سکی ۔ اشعر ، اپنے روٹھنے کے باوجود ، اور فاروقی صاحب ناراض ہونے کے بعد بھی ، ایک دوسرے سے کبھی دور نہیں ہوئے ، تعلق کبھی ختم نہیں ہوا ، اس وقت بھی نہیں جب بات بند تھی ۔

ظاہر ہے کہ فاروقی صاحب کی موت اشعر کے لیے اتنا ہی بڑا غم تھا بلکہ ہے ، جتنا کہ مرنے والے کے کسی اور عزیز کے لیے ہے ۔ مگر اشعر نے غم کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیا بلکہ غم کی بنیاد پر انہوں نے وہ عمارت تعمیر کرنا شروع کی جو آج ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ، ایک خوبصورت خراجِ عقیدت ، اور وہ بھی مختصر ترین عرصے میں!

محبت مشکل کاموں کو ایسے ہی آسان کر دیتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں جب کام لوگوں کے سامنے آتے ہیں تو کرامات ہی محسوس ہوتے ہیں ۔ کہنے کو تو یہ فاروقی صاحب کی یاد میں ایک نمبر ہے ، مگر عام سا نمبر نہیں ہے ۔ عام سے نمبر کا مطلب اس طرح کے نمبر جو کسی بڑے کی موت کے بعد ، ان ادیبوں یا ان لوگوں کے مضامین سے بھر کر چھاپ دیے جاتے ہیں ، جو یا تو مرحوم کو ٹھیک طرح سے جانتے بھی نہیں تھے یا جو ، ہر مرنے والے کو نابغہ عصر قرار دینے پر اتارو ہوتے ہیں ۔

اگر کوئی مجھ سے کہے کہ اس کتاب کی خصوصیت کو ایک جملے میں بتائیں ، تو میں کہوں گا کہ اس کتاب میں شمس الرحمن فاروقی کو دوسروں کی زبان سے کم خود مرحوم کی اپنی زبان سے زیادہ یاد کیا گیا ہے ۔ آسان لفظوں میں یہ کہ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے والی جذباتی اور تاثراتی تحریریں اس کتاب میں شامل نہیں ہیں ۔

سات سوصفحات کی کتاب میں پندرہ لوگوں کے مضامین ، ایک غزل اور تین نظمیں ہیں ، اور ایک انٹرویو ۔ باقی سب کا سب مواد مرحوم فاروقی صاحب کا ہی ہے ، ان کی باتیں ، سوال جو ان سے دریافت کیے گیے ان کے جواب ، ان کی کچھ کھوئی ہوئی تحریریں اور ان کے اپنے افکار ۔ مرحوم بنیادی طور پر نقاد تھے ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ اپنے عہد کے سب سے بڑے ایسے نقاد تھے جنہوں نے اپنی ایک فکر اور اپنا ایک نظریہ پیش کیا ، اس لیے ان کی تنقید بالخصوص فکر اور نظریات پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔

کتاب کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، پیش لفظ علیحدہ سے ہے ۔ یہ پیش لفظ بھی ایک الگ انداز کا ہے ، مرحوم فاروقی صاحب کو ایک خط کی شکل میں ۔ فاروقی صاحب کی موت کے بعد اشعر جس کیفیت اور جس حالت سے گزرے اسے وہ Near Death Experience قرار دیتے ہیں ، جیسے فاروقی صاحب کی لحد پر لیٹے ہوئے ہوں ۔ وہ لکھتے ہیں ؛

مجھے تو صرف لکھنا آتا تھا ( حالاں کہ اس پر بھی مجھے شک ہے) ، سو میں نے لکھنا شروع کر دیا ، لکھتا چلا گیا ، لکھتے لکھتے آپ کی چیزوں کو سمیٹنا بھی شروع کر دیا ، آپ کے ڈھیروں برقی خطوط کو چھانٹتا پھٹکتا رہا ، آپ کے دوستوں کے تاثرات کو جاننے کی کوشش کرتا رہا ، آپ کے ’متروکہ اثاثے‘ کی تلاش میں دھول پھانکتا رہا ، غرضیکہ اس وقت تک خود کو مصروف رکھا جب تک میں اس لحد سے باہر نہ آ گیا ۔ اب میں خود کو کم سے کم اس لائق سمجھ رہا ہوں کہ آپ کو تعزیت پیش کر سکوں ۔

کتاب کے مشمولات پر بات کرنے سے پہلے اس شمارے میں شامل تین شعری تخلیقات کا تذکرہ کرنا بہتر ہوگا ۔ اشعر نے اپنے پیش لفظ میں جدید لب و لہجے کے شاعر خلیل مامون کی نظم ’ایک نقاد کی موت‘ کا تذکرہ کیا ہے ، یہ فاروقی کی موت پر ’استہزائی تعزیت‘ ہے ۔ اس نظم کی ابتداء یوں ہوتی ہے :

خدا مرگیا ہے
فرشتے مصروف ہیں
حمد و ثنا میں

میں اس نظم پر تو کوئی بات نہیں کروں گا کیونکہ یہ نظم اس لائق ہے بھی نہیں ۔ اس کا جواب عین تابش نے خوب دیا ہے :

خدا نہیں تھا وہ آدمی تھا
تمام تر فکر و جذبہ و آگہی میں
لفظوں کی رفعتوں میں
خیال کی ندرتوں بصیرت کی روشنی میں
وہ آدمی تھا

یہ نظم صرف خلیل مامون کی نظم کا جواب نہیں ، کسی کی موت پر سوچ کے دو دھارے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ عین تابش کی یہ نظم اسی طرح زندہ رہ جائے گی جیسے فاروقی کا نام زندہ رہے گا ، مگر خلیل مامون کی نظم اسی طرح لوگوں کے حافظے سے محو ہوجائے گی جیسے کوئی برا خواب ۔

عین تابش کی ایک اور نظم ’الوداع‘ بھی کتاب میں شامل ہے، دس مصرعوں میں انہوں نے فاروقی مرحوم کو ، ان کے شانِ شایان خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ۔ عرفان صدیقی مرحوم نے کبھی ’فاروقی کے نام‘عنوان سے ایک خوبصورت غزل خراجِ تحسین کے طور پر پیش کی تھی ، اسے بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ، یہ غزل بھی خلیل مامون کی سوچ کی دھجیاں اڑا دیتی ہے ۔

کتاب کا پہلا حصہ یا پہلا باب ’احوالِ فاروقی‘ہے ۔ اس باب میں انیس صدیقی نے (فاروقی صاحب پر ان کا بڑا کام ہے) ‘آئینہ خانہ حیرت ‘ کے عنوان سے مرحوم کی پیدائش سے لے کر خاندان ، وطن ، تعلیم ، شادی ، بچوں ، ملازمتوں ، ادبی خدمات ، انعامات ، کتابوں اور موت تک ساری تفصیلات پیش کردی ہیں ۔ کوزہ میں سمندر کی مثال اس پر صادق آتی ہے ۔

ابرار اعظمی نے ، جنہیں فاروقی صاحب کی قربت حاصل تھی ، فاروقی صاحب کی تصانیف اور ان پر لکھی کتابوں و مقالوں کی طویل فہرست دی ہے ، یہ ان طالب علموں کے لیے ، جو فاروقی صاحب پر کام کر رہے ہیں یا کریں گے ، قیمتی خزانہ ہے ۔

اس باب میں بعد کی سات تحریریں فاروقی صاحب کی خودنوشتیں ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر لکھی تھیں ۔ ادبی، سماجی، سیاسی اور مذہبی حالات کا احاطہ کرتی ان خودنوشتوں کا مطالعہ دلچسپ بھی ہے اور سوچ کے در کھولنے والا بھی ، لیکن یہ صفات کسی خودنوشت کو بہت اہم نہیں بناتیں ۔ فاروقی صاحب کی ان خودنوشتوں کی اہمیت دراصل ان میں پایا جانے والا کھرا پن ہے ۔

فاروقی صاحب نے اپنے ذہنی سفر کے اتار چڑھاؤ کی کہانی بغیر لاگ لپیٹ کے بیان کی ہے ۔ ترقی پسند تحریک سے لگاؤ ، جماعت اسلامی کا ساتھ ، دونوں سے علیحدگی ۔ اور پھر ادب کے ان فکری اور نظریاتی پہلوؤں کی طرف جھکاؤ ، جو بعد میں جدیدیت کی تحریک کے نام سے ان کی ذات کا کبھی علیحدہ نہ ہونے والا حصہ بنے ، اور جس کے لیے انہوں نے گالیاں بھی پائیں اور محبتیں بھی بٹوریں ۔

یقیناً ان خودنوشتوں میں کئی جگہ تکرار ہے لیکن انہیں نہ آج نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ انہیں آئندہ نظرانداز کیا جا سکے گا ۔ کاش ان خودنوشتوں کو کوئی ایڈٹ کر کے کتابی شکل میں لے آتا ۔ ایک دلچسپ اقتباس پیش ہے اس کے بعد دیگر ابواب پر نظر ڈالیں گے ؛

تھوڑے عرصے بعد جماعت اسلامی کی ادبی شاخ سے میرا ساتھ ٹوٹ گیا ۔ تحریک سے تو میرا کوئی تعلق پہلے بھی نہ تھا ۔ تھوڑی بہت مذہبیت جو ان دنوں مجھ میں آ گئی تھی، اس کا بھی رنگ ہلکا ہونے لگا ۔ لیکن میرے لیے یہ بات ذرا تعجب کی تھی کہ میرے بزرگ جو سب کے سب بہت مذہبی تھے، جماعت اسلامی کے بارے میں اچھے خیالات نہ رکھتے تھے ۔ یقیناً ان معاملات میں ان کی سمجھ بوجھ مجھ سے بہت بہتر تھی ۔ میرے باپ کا سارا گھرانہ دیوبندی تھا۔ ـ

دوسرا باب ’افکارِ فاروقی‘ ہے ۔ اسے اشعر نجمی نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے ۔ یہ باب دراصل فاروقی صاحب کی نظریاتی شناخت سے متعلق تمام موضوعات کا انتخاب ہے ۔ بقول مرتب ’’جو شخص فاروقی صاحب کے نظریات اور ان کے تحفظات کو جاننا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ انتخاب ضروری ہوگا اور شاید اس انتخاب سے وہ اس اجمال کی تفصیل جاننے کے لیے ان کی کتابیں بھی پڑھ ڈالے‘‘۔

تیسرا باب ’مذاکرات فاروقی‘ ہے ۔ اس باب میں مرتب نے فاروقی صاحب کے تحریری مذاکرات اور دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا انتخاب پیش کیا ہے ۔ مختلف مواقع پر دنیا بھر میں فاروقی صاحب نے طرح طرح کے موضوعات پر جو خطبات پیش کیے تھے ابھی ان پر کام ہونا باقی ہے ۔ دیکھیے یہ کام اشعر نجمی کرتے ہیں یا کوئی اور ۔

چوتھا باب ’شذراتِ فاروقی‘ ہے ۔ اس باب میں ’شب خون‘ میں ’سوانحی گوشے‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی تحریروں کا بہترین انتخاب ہے ۔ ان تحریروں میں علم اور معلومات کا خزانہ چھپا ہوا ہے ۔ ادب نوازوں کو بھی اور ادب کے طالب علموں کو بھی چاہیے کہ وہ ان تحریروں کو لازمی پڑھیں ۔

بعد کے دو ابواب ’باقیاتِ فاروقی‘ اور ’بازیافتِ فاروقی‘ فکشن کے حوالے سے ہیں ۔ اولالذکر باب میں فاروقی صاحب کے چار ایسے افسانے شامل ہیں جو ان کے افسانوی مجموعہ میں شامل نہیں ہیں ۔ ایک طویل افسانہ ’فانی باقی‘ کے عنوان سے ہے، یہ شاید آخری افسانہ ہے اور کولکاتہ سے شائع ہونے والے ادبی پرچے’رہروانِ ادب‘میں شامل تھا۔ اس افسانے کے تعلق سے بس میں ایک ہی لفظ کہوں گا ’غضب‘ ۔

بعد کے باب میں فاروقی صاحب کے وہ افسانے اور ترجمے شامل ہیں جنہیں فاروقی صاحب نے لڑکپن اور نوجوانی کے دنوں میں لکھا تھا اور انہیں بعد میں اپنے معیار کے مطابق نہیں پایا تھا۔ یہ افسانے یا ترجمے خراب نہیں کہے جا سکتے، انہیں پڑھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ لکھنے والا آگے چل کر قلم کا جادو جگائے گا۔

اشعر نجمی فاروقی صاحب کے تراجم کی ایک پوری کتاب مرتب کررہے ہیں۔ ان سے استدعا ہے کہ اِس کتاب کے دونوں ترجمے اُس میں شامل کرلیں تاکہ مکمل ترجمے ایک کتاب میں جمع ہو جائیں۔

کتاب کا آخری باب ’نذرِ فاروقی‘ ہے ۔ اس باب کا آغاز ظفر اقبال کی ایک نظم اور ان ہی کے ایک مضمون سے ہوا ہے ۔ نظم پراثر ہے ؛

ہے جہاں زندہ جاوید لکھائی تیری
جیتے جی مار گئی ہم کو جدائی تیری

مضمون مختصر اور تاثراتی ہے ۔ محمد سلیم الرحمن نے اپنے مضمون میں فاروقی صاحب کے افسانوں پر بات کی ہے ۔ اس مضمون میں انہوں نے ایک سوال اٹھایا ہے جس کا جواب اب شاید نہیں مل سکے گا کم از کم فاروقی صاحب تو جواب نہیں دے سکیں گے : ’’فاروقی نے اپنے زمانے کے بارے میں فکشن کیوں نہ لکھا؟‘‘

صدیق عالم نے ’ایک کلید چند دروازے‘ کے عنوان سے بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے، لیکن اس میں فکشن، کلاسک اور ادبی نظریات پر خود صدیق عالم کی فکر حاوی ہے۔ مضمون میں صدیق عالم نے اپنی بیٹی کے ساتھ فاروقی صاحب کی شفقت کاجو احوال لکھا ہے وہ مرحوم کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتا ہے جس سے شاید کم ہی لوگ واقف ہوں گے۔

خالد جاوید کا مضمون سادہ ہے اور فاروقی صاحب کی سادگی کا احوال سامنے لاتا ہے۔ احمد محفوظ نے اپنے مضمون میں ایک شاگرد کی حیثیت سے استاد فاروقی صاحب کو یاد کیا ہے۔ علی اکبر ناطق کا مضمون ’ایک عہد کا مرقع‘ طویل تو ہے مگر دلچسپ ہے۔ مگر اس مضمون میں فاروقی صاحب کی یاد کے ساتھ کچھ ایسے تذکرے بھی آگیے ہیں جو ناطق کے ذاتی ہیں، مثلاً ایک بڑے فکشن نگار کو پسند نہ کرنا یا علامہ اقبال کا محمد حسین آزاد سے ملاقات نہ کرنے پر اقبال پر نکتہ چینی کرنا۔

اس مضمون میں فاروقی صاحب سے اپنی ایک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئےناطق لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے فاروقی صاحب سے کہا کہ آپ کا ناول پڑھا ہے تو کہنے لگے ؛’’تم دہلی سے ادھر دور پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھے میری کتابیں اور خاص کر شعر شور انگیز پڑھ رہے تھے اور ادھر سالے نارنگ تک نے نہیں پڑھی…‘‘

مجھے لگتا ہے یہ جملہ نہیں لکھنا چاہیے تھا کہ نارنگ بھی ہمارے بزرگ ہیں ان کی صرف دل آزاری ہی نہیں ہو گی بلکہ مرحوم فاروقی صاحب کے لیے ان کے دل میں گرہ پختہ ہو سکتی ہے ۔

محمد حمید شاہد کا مضمون شاندار ہے، انہوں نے خوبصورت یادیں خوبصورت انداز میں پیش کی ہیں ۔ اطہر فاروقی کا مضمون تڑپا گیا، کتنا کچھ فاروقی صاحب کے کمپیوٹر میں جمع ہے، پورا خزانہ، اسے کیسے محفوظ کیا جا سکے گا؟ یہ سوال بڑا اہم ہے ۔ شاید مہر افشاں فاروقی اور باراں فاروقی کچھ کریں، ویسے امید نہیں ہے کیونکہ ادباء و شعراء کے بچوں کی روایت ہمارے سامنے ہے ۔

شہناز نبی نے بڑی محبت سے اپنا مضمون لکھا ہے، ان کا ایک جملہ آنکھیں نم کر گیا : ’’فاروقی صاحب کی تدفین کے بعد سے میری آنکھوں میں ایک بہت بڑی لائبریری اور ایک خالی کرسی تصویر کی طرح ٹھہری ہوئی ہے‘‘۔ تالیف حیدر کا مضمون متضاد خیالات سے بھرا ہوا ہے ۔ انہوں نے ’قبضِ زماں‘ کو گھٹیا ناول کہا ہے ، لیکن کیوں؟ اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔ کتاب میں مہر افشاں فاروقی اور فاروقی صاحب کے داماد رچرڈ کوہن کے دو انگریزی مضامین کے ترجمے شامل ہیں۔ یہ دونوں ہی مضامین ایک بیٹی اور داماد کے تاثرات، غم اور محبت کی کیفیات پیش کرنے میں کامیاب ہیں ۔

کتاب کا آخری مضمون اشعر نجمی کاہے ’’یہ لوحِ مزار تومیری ہے‘‘۔ یہ طویل مضمون ہے، مختلف کیفیات، تاثرات اور مختلف طرح کے رنگوں کو اپنے دامن میں سمیٹے اس مضمون کو اگر میں یہ کہوں تو شاید بہتر ہو گا کہ اشعر نجمی نے اس مضمون کے ذریعے خود کو کھوجا ہے اور جو بھوت دامن سے چمٹے ہوئے تھے انہیں جھٹکا بھی ہے ۔

اس میں اشعر کا بچپن بھی ہے، گھر اور والدین بھی ہیں اور بہار و ممبئی کی ادبی فضا بھی ۔ ادبی سازشوں کا بھی ذکر ہے ۔ اور ’اثبات‘ کے نکلنے اور بند ہونے کا بھی۔ لیکن یہ سب فاروقی صاحب کے حوالے سے ہے، یوں سمجھیں کہ اشعر کی کہانی فاروقی صاحب کی کہانی بن جاتی ہے، یا فاروقی صاحب کی کہانی اشعر کی کہانی بن جاتی ہے۔

اشعر نے فاروقی صاحب سے اپنے روٹھنے کی جو وجوہ بتائی ہیں وہ مجھے حیران کرتی ہیں ۔ کوئی بات روٹھنے جیسی مجھے نظر نہیں آئی، لیکن یہ تو عشق کا معاملہ تھا اور میں عشق کیا جانوں۔ فاروقی صاحب کا ناراض ہونا بھی مجھے حیران کرتا ہے، اشعر کا خط ایسا نہیں تھا کہ اس پر ناراض ہوا جائے ۔ لیکن شاید انہیں یہ یقین تھا کہ اشعر ان کی بات ایک بیٹے کی طرح سنیں گے اور مانیں گے۔ شاید اشعر بیٹا نہیں ثابت ہو سکے۔

اچھی بات یہ ہوئی کہ اشعر کے عشق نے زور مارا اور فاروقی صاحب کی بیماری کی خبر سن کر انہوں نے ان سے بات کر لی اور فاروقی صاحب نے بھی انہیں گلے لگا لیا۔ عشق نے بازی مار لی ۔ اس مضمون میں مرحوم ساجد رشید کا بھی ذکر ہے، مجھے وہ کبھی سازشی نہیں لگے ۔ لڑائی شاید دو متضاد فکر رکھنے والے مدیروں کی تھی جس میں بھس دوسروں نےلگائی ۔ مضمون خوب ہے، یہ فاروقی صاحب اور اشعر کے مختلف نفسیاتی شیڈز کو کامیابی سے اجاگر کرتا ہے ۔ یہ کتاب یادگار رہے گی ۔

(بشکریہ دی وائر اردو)