وہ چل بسے جنھیں عادت تھی مسکرانے کی -مولانا کبیر الدین فاران مظاہری

 

ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ،ضلع سرمور( ہما چل پردیش)
E-mail: faran78699@gmail.com

اتر بھارت کی ترائی اورنیپال کے آنچل میں بسے قدیم پورنیہ اورحال ارریہ کی مردم خیز سرزمین نے اپنی کوکھ سے ان گنت رجال کار جنم دیے ،جن کی اپنی الگ شناخت ہے ۔اس خطے نے ملک کے ہر صوبے کو کار آمد اور نامور شخصیات کا بیش بہا تحفہ دیا ، آزادی کے متوالے ، سیاسی و سماجی خدمت گار، دینی اورعصری میدان کے بیشمارجیالوں سے اس کا دامن بھرا پڑا ہے ،علما، مجاہد ،آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، ڈاکٹر ، انجینئر، مین پاور اور داعی اسلام کو اس کی گود نے پالا اور سنوارا اور اس کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ، انشاء اللہ رہتی دنیا تک اس سرزمین کی کان سے قیمتی جواہر پارے نکلتے رہیں گے۔
انہی میں سے ایک مرد جلیل مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس بھی تھے جن کو اس دھرتی نے جنم دیا،جنہوں نے نہ یہ کہ اپنی خدمات سے خطہ ٔ بہار بلکہ ہندو وبیرون ہندمیں اپنے زریں کارناموں سے دنیائے علم وادب کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوئے اب سدا کیلئے ان کے کھوجانے سے یہ خطہ ہی نہیں بلکہ کرۂ ارض پربسنے والے ان کے متعلقین و محبین کی روح تڑپتی رہے گی۔
اللہ رب العزت نے انہیں سیاسی ، سماجی اور دینی شعور کیساتھ صحافت میں بھی انفرادیت بخشی تھی ،وہ مشہور اور موقر اخبار روزنامہ راشٹریہ سہارا دہلی یونٹ کے سینئر سب ایڈیٹر، دسیوں کتابوںکے مصنف، جامعہ ملیہ نئی دہلی سے پی ایچ ڈی اور ازہر ہند دار العلوم دیوبند کے بھی فارغ التحصیل تھے ،اسی کیساتھ ان کا محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب نور اللہ مرقدہ ٗشیخ الحدیث مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپورسے روحانی رشتہ اور حضرت مولانا ظریف احمد ندوی دامت برکاتہم خلیفہ مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ (مقیم قطر )کے خلیفہ و مجاز بھی تھے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال فرما یا تھا، وہ سیاسی سماجی لوگوں کے مشیر، علمی و قلمی لوگوں کے سر پرست اورہم عصروں کی حوصلہ افزائی کا ان میںقابل رشک جذبہ عطا فرمایا تھا ۔وہ نہایت سادہ مزاج، درویشانہ صفات کے حامل اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔
کبھی کسی نے انہیں ان کی کسی ادا سے تعلّی، اپنی صفات جلیلہ اور نسبت حمیدہ کا اظہار کرتے نہیں دیکھا ۔تقریباً ڈیڑھ سال قبل کسی حادثے میں ان کا پائوں فرکچر ہو گیا تھا؟ اس درد و کرب میں بھی وہ تیمار داروں سے مسکراکر ملتے اور ان کے ہشاش بشاش رہنے کی وجہ سے ملاقاتی کا غم کافور ہوجاتا تھا۔ان کے چاہنے والوں کو یہ خوب معلوم ہے کہ وہ غیر سنجیدہ ماحول اور کشیدہ حالات میں بھی اپنی مثبت رائے، ہمدردانہ لہجہ اور حوصلہ افزا جملہ کہتے اور زندگی کے نشیب و فراز کا کبھی شکوہ نہ کرتے ۔ آج تک ان کی زبان سے کسی کی ہجو،دلخراش باتیں نہیں سنیں وہ علمی حلقے کی رسہ کشی اور امت کے آپسی بگاڑ پررنج و الم کا اظہار کرتے اورحتی المقدور مداوا کی شکلیں بہم پہنچاتے ۔
ان کے اخلاق حمیدہ کی وجہ سے ان کی قدر اور چاہت اپنوں وبیگانوں میں مساوی تھی۔ اللہ نے انہیں ہر دل پر چھاجانے کی انمول ادائوں سے نوازا تھا ،وہ علمائے دین اور عصری علوم کے ماہرین کے درمیان کی سنہری کڑی تھے ،انہوںنے اپنے افکار و خیالات سے مسلکی دوریوں کو قریب تر لانے کی کوششیںکیں اور ہمیشہ ہر ٹوٹے دل کا سہارا بنے، ہر ایک کو خوش دیکھنا اور ہر چہرہ پر مسرت وطمانینت کی جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ بلاشبہ دنیا میں عظیم ہیں وہ لوگ جو دوسروں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہیں ۔
وہ اتنے اچھے تھے کہ انہیں سب اچھا کہتے تھے ،وہ اس قدر ہر دل عزیز تھے کہ انہیں سب اپنا عزیز مانتے تھے،انہوں نے اپنے وہاٹس ایپ کےسٹیٹس پر بھی ’’میں ہر چہرے پر مسکان دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ لکھ رکھا تھا۔ اس تحریرکی وہ عملی تصویر تھے۔
میری سعادت رہی کہ وہ مجھ سے قریبی مراسم رکھتے تھے، دہلی اور ارریہ میں بھی ان سے ملاقاتیں رہتیں،میرے لئے وہ حوصلہ افزائی کے وقیع الفاظ استعمال کرتےاوروہ اپنی مجلسوں میں میرا ذکر اور قد بڑھانے کی فکر فرماتے ۔
میری فائل میں راشٹریہ سہار اکے اوراق اب تلک محفوظ ہیں ،انہوں نے میر ی تالیف ـ’’مٹی کا چراغ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے راشٹریہ سہارا کے امنگ میں ۱۵؍ مئی ۲۰۱۴؁ء کوتبصرہ کرتے ہوئے اظہار کیا تھا کہ ’’ایک حساس دل قلمکار کے سامنے جو کچھ بھی مثبت و منفی واقعات و حوادث رونما ہوتے ہیں وہ انھیں قلمبند کئے بنا نہیں رہتا ۔اگر ایسا شخص حق آگاہ ، شرعی اصول کا واقف کار اور مقاصد الٰہیہ سے باخبر ہوتو پھر اس کا قلم نہ صرف ہر ظلم ونا انصافی کے خلاف رواں ہوجاتاہے بلکہ سماج کی اتھل پتھل اور اصلاح معاشرہ کیلئے بھی ہر پل بیدار و چوکنا رہتاہے، زیر نظر کتاب ’’مٹی کا چراغ ‘‘ (دار الکتاب دیوبند،جے ۔ ایم ۔ سی ۔ پبلیکیشنز حضرت نظام الدین نئی دہلی)بھی ایک بیدار مغز قلمکار ،فکر مند زعیم ملت اور شریعت و مقاصد خدا وندی کے رو شناس مولانا کبیر الدین فاران کے علمی اور دینی شہ پاروں کا مجموعہ ہے ، جس میں دین و شریعت کی روشنی بھی ہے، اصلاحات کی تلقین بھی اور آپ بیتی کا ایک ایسا دلچسپ سلسلہ کہ جس میں نہاں ہے پندو نصیحت کا ایک خزانہ ،اس میں مولانا نے عقل و خرد کی بیشمار باتیں جمع کر دی ہیں، اس میں موصوف کبھی مدارس کی اصلاح کے تعلق سے مضامین لکھتے ہیں اور کبھی حکومت و انتظامیہ کے تساہل پرطنز کر تے ہیں تو کبھی سر کاروں کی کوتاہی پر قلم اٹھاتے ہیں اور کبھی علما کی ذمہ داریوں کے تئیں فکر مند ہوجاتے ہیں ‘‘-
محترم شمس صاحب کے عزم و ارادہ میں کئی کچھ منصوبے تھے ملت اسلامیہ کے دینی و عصری تعلیمی اداروں کا قیام ، آئی اے ایس اورآئی پی ایس کا ٹریننگ کوچنگ سینٹر ،علاج و معالجہ کیلئے ہاسپیٹل کی تعمیر ، بین المذاہب بھائی چارے کا تحریکی سینٹر ،سیمانچل کے حقوق کی تحصیل کیلئے کار گر آواز وغیرہ وغیرہ جواب ادھورے خواب بن کر رہ گئے اور وہ سدا کیلئے اپنی روشنی بکھیر کر بالآ ٓخر مختصر علالت کے بعد مجیدیہ ہاسپیٹل نئی دہلی میں 25؍اگست 2020 مطابق 5؍محرم الحرام 1442ھ سہ شنبہ کی دوپہر جوا ر رحمت کو پہنچ گئے اور سرزمین’’ ڈوبا‘‘ارریہ کے قبرستان نے ہمیشہ کیلئے اس چاند کے ٹکڑے کو اپنی پیٹ میں سمو لیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
در اصل ان کی ذات حرکت و عمل سے عبارت تھی، وہ اپنے افکا ر و خیالات، تحریر و تقریر اور قلمی جولانیوں سے اظہار حق سے دریغ نہیں فرماتے تھے۔ انھیں احساس تھا کہ سماج کا نقصان برے لوگوں سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کے چپ رہنے سے ہوتاہے ۔
احقر نے سیمانچل کے رانی گنج خطہ کی تباہ حالی ، نارتھ ایسٹ کیلئے ٹرینوں کی پورتی کیلئے مرکزی حکومت سے جب مطالبات کے سلسلے شروع کیے تو انہوں نے میری ہمت افزائی اور قلمی تعاون سے ہمیشہ ساتھ دیا ، ایک وقت آیا کہ ہم نے بہار سرکار سے اپنے علاقہ کی سڑکوں ،پل ،پلیا ، اسکول ، پرائمری ہیلتھ سینٹر اور بجلی کی آواز صوبائی اور مرکزی حکومت تک پہنچانے کیلئے ارریہ ڈی ایم آفس پر 26-03-2012 کودھرنا دیا جس میں حضرات علمائے کرام ، سیاسی شخصیات اورعوام کی بڑی تعداد تھی اور اپنے حق کی آواز کیلئے ضلع کلکٹریٹ کا احاطہ ہماری آواز سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر بھی کئی اخبارات میں انہوں نے ہماری خبریں شائع کرائیں ،بالآخر ہماری تحریک کامیابی تک پہنچی اور سابق ڈپٹی ہوم منسٹر جناب الحاج تسلیم الدین صاحب اور ایم ایل اے سرفراز عالم صاحب نے سارے شعبوں کے افسران کیساتھ میرے گائوں اور علاقہ کا دورہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اب ہمارایہ علاقہ چمن زار ہوگیا۔
صد افسوس کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ،لیکن ان کی محبت و مود ت، شفقت، حوصلہ افزا کلمات، دینی و سماجی خدمات اور ان کی قابل قدر تصانیف ہمارے لئے مشعل راہ رہیں گی، وہ کبھی فراموش نہیں کئے جائیں گے بلکہ رہتی دنیاان کے کارناموں کی وجہ سے ا ن کے نقش پا پر چلتی رہے گی اور ان کی یادوں کے چراغ سے لوگ اپنی راہ تلاشتے رہیں گے۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انھوں نے غیرمعمولی کارنامے انجام دیے ،متعلقین کو علم و فن کے ہتھیاروں سے لیس کیا، ایسی صفات کے لوگ اب دنیا میں نایاب تو نہیں، کمیا ب ضرور ہیں ۔اب ان کی ذات سے تعلق اور کئی موقعوں پر ہاتھ پکڑ کر چلنے کافن اوران کا ہنر بانٹنے کا صلہ کم از کم یہ ہو نا ہی چاہئے کہ میں متعلقہ مدارس ، حلقہ ٔ احباب، نزدیک و دور کے آشناسے دیر تک ان کیلئے ایصال ثواب کا اہتمام کرنے اور کرانے کی درخواست کرتا رہوں:
بجھا چراغ ، اٹھی بزم ، کھل کے رو اے دل
وہ چل بسے جنہیں عادت تھی، مسکرانے کی

ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ،ضلع سرمور( ہما چل پردیش)

E-mail: faran78699@gmail.com

 

اتر بھارت کی ترائی اورنیپال کے آنچل میں بسے قدیم پورنیہ اورحال ارریہ کی مردم خیز سرزمین نے اپنی کوکھ سے ان گنت رجال کار جنم دیے ،جن کی اپنی الگ شناخت ہے ۔اس خطے نے ملک کے ہر صوبے کو کار آمد اور نامور شخصیات کا بیش بہا تحفہ دیا ، آزادی کے متوالے ، سیاسی و سماجی خدمت گار، دینی اورعصری میدان کے بیشمارجیالوں سے اس کا دامن بھرا پڑا ہے ،علما، مجاہد ،آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، ڈاکٹر ، انجینئر، مین پاور اور داعی اسلام کو اس کی گود نے پالا اور سنوارا اور اس کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ، انشاء اللہ رہتی دنیا تک اس سرزمین کی کان سے قیمتی جواہر پارے نکلتے رہیں گے۔

انہی میں سے ایک مرد جلیل مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس بھی تھے جن کو اس دھرتی نے جنم دیا،جنہوں نے نہ یہ کہ اپنی خدمات سے خطہ ٔ بہار بلکہ ہندو وبیرون ہندمیں اپنے زریں کارناموں سے دنیائے علم وادب کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوئے اب سدا کیلئے ان کے کھوجانے سے یہ خطہ ہی نہیں بلکہ کرۂ ارض پربسنے والے ان کے متعلقین و محبین کی روح تڑپتی رہے گی۔

اللہ رب العزت نے انہیں سیاسی ، سماجی اور دینی شعور کیساتھ صحافت میں بھی انفرادیت بخشی تھی ،وہ مشہور اور موقر اخبار روزنامہ راشٹریہ سہارا دہلی یونٹ کے سینئر سب ایڈیٹر، دسیوں کتابوںکے مصنف، جامعہ ملیہ نئی دہلی سے پی ایچ ڈی اور ازہر ہند دار العلوم دیوبند کے بھی فارغ التحصیل تھے ،اسی کیساتھ ان کا محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب نور اللہ مرقدہ ٗشیخ الحدیث مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپورسے روحانی رشتہ اور حضرت مولانا ظریف احمد ندوی دامت برکاتہم خلیفہ مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ (مقیم قطر )کے خلیفہ و مجاز بھی تھے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال فرما یا تھا، وہ سیاسی سماجی لوگوں کے مشیر، علمی و قلمی لوگوں کے سر پرست اورہم عصروں کی حوصلہ افزائی کا ان میںقابل رشک جذبہ عطا فرمایا تھا ۔وہ نہایت سادہ مزاج، درویشانہ صفات کے حامل اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔

کبھی کسی نے انہیں ان کی کسی ادا سے تعلّی، اپنی صفات جلیلہ اور نسبت حمیدہ کا اظہار کرتے نہیں دیکھا ۔تقریباً ڈیڑھ سال قبل کسی حادثے میں ان کا پائوں فرکچر ہو گیا تھا؟ اس درد و کرب میں بھی وہ تیمار داروں سے مسکراکر ملتے اور ان کے ہشاش بشاش رہنے کی وجہ سے ملاقاتی کا غم کافور ہوجاتا تھا۔ان کے چاہنے والوں کو یہ خوب معلوم ہے کہ وہ غیر سنجیدہ ماحول اور کشیدہ حالات میں بھی اپنی مثبت رائے، ہمدردانہ لہجہ اور حوصلہ افزا جملہ کہتے اور زندگی کے نشیب و فراز کا کبھی شکوہ نہ کرتے ۔ آج تک ان کی زبان سے کسی کی ہجو،دلخراش باتیں نہیں سنیں وہ علمی حلقے کی رسہ کشی اور امت کے آپسی بگاڑ پررنج و الم کا اظہار کرتے اورحتی المقدور مداوا کی شکلیں بہم پہنچاتے ۔

ان کے اخلاق حمیدہ کی وجہ سے ان کی قدر اور چاہت اپنوں وبیگانوں میں مساوی تھی۔ اللہ نے انہیں ہر دل پر چھاجانے کی انمول ادائوں سے نوازا تھا ،وہ علمائے دین اور عصری علوم کے ماہرین کے درمیان کی سنہری کڑی تھے ،انہوںنے اپنے افکار و خیالات سے مسلکی دوریوں کو قریب تر لانے کی کوششیںکیں اور ہمیشہ ہر ٹوٹے دل کا سہارا بنے، ہر ایک کو خوش دیکھنا اور ہر چہرہ پر مسرت وطمانینت کی جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ بلاشبہ دنیا میں عظیم ہیں وہ لوگ جو دوسروں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہیں ۔

وہ اتنے اچھے تھے کہ انہیں سب اچھا کہتے تھے ،وہ اس قدر ہر دل عزیز تھے کہ انہیں سب اپنا عزیز مانتے تھے،انہوں نے اپنے وہاٹس ایپ کےسٹیٹس پر بھی ’’میں ہر چہرے پر مسکان دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ لکھ رکھا تھا۔ اس تحریرکی وہ عملی تصویر تھے۔

میری سعادت رہی کہ وہ مجھ سے قریبی مراسم رکھتے تھے، دہلی اور ارریہ میں بھی ان سے ملاقاتیں رہتیں،میرے لئے وہ حوصلہ افزائی کے وقیع الفاظ استعمال کرتےاوروہ اپنی مجلسوں میں میرا ذکر اور قد بڑھانے کی فکر فرماتے ۔

میری فائل میں راشٹریہ سہار اکے اوراق اب تلک محفوظ ہیں ،انہوں نے میر ی تالیف ـ’’مٹی کا چراغ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے راشٹریہ سہارا کے امنگ میں ۱۵؍ مئی ۲۰۱۴؁ء کوتبصرہ کرتے ہوئے اظہار کیا تھا کہ ’’ایک حساس دل قلمکار کے سامنے جو کچھ بھی مثبت و منفی واقعات و حوادث رونما ہوتے ہیں وہ انھیں قلمبند کئے بنا نہیں رہتا ۔اگر ایسا شخص حق آگاہ ، شرعی اصول کا واقف کار اور مقاصد الٰہیہ سے باخبر ہوتو پھر اس کا قلم نہ صرف ہر ظلم ونا انصافی کے خلاف رواں ہوجاتاہے بلکہ سماج کی اتھل پتھل اور اصلاح معاشرہ کیلئے بھی ہر پل بیدار و چوکنا رہتاہے، زیر نظر کتاب ’’مٹی کا چراغ ‘‘ (دار الکتاب دیوبند،جے ۔ ایم ۔ سی ۔ پبلیکیشنز حضرت نظام الدین نئی دہلی)بھی ایک بیدار مغز قلمکار ،فکر مند زعیم ملت اور شریعت و مقاصد خدا وندی کے رو شناس مولانا کبیر الدین فاران کے علمی اور دینی شہ پاروں کا مجموعہ ہے ، جس میں دین و شریعت کی روشنی بھی ہے، اصلاحات کی تلقین بھی اور آپ بیتی کا ایک ایسا دلچسپ سلسلہ کہ جس میں نہاں ہے پندو نصیحت کا ایک خزانہ ،اس میں مولانا نے عقل و خرد کی بیشمار باتیں جمع کر دی ہیں، اس میں موصوف کبھی مدارس کی اصلاح کے تعلق سے مضامین لکھتے ہیں اور کبھی حکومت و انتظامیہ کے تساہل پرطنز کر تے ہیں تو کبھی سر کاروں کی کوتاہی پر قلم اٹھاتے ہیں اور کبھی علما کی ذمہ داریوں کے تئیں فکر مند ہوجاتے ہیں ‘‘-

محترم شمس صاحب کے عزم و ارادہ میں کئی کچھ منصوبے تھے ملت اسلامیہ کے دینی و عصری تعلیمی اداروں کا قیام ، آئی اے ایس اورآئی پی ایس کا ٹریننگ کوچنگ سینٹر ،علاج و معالجہ کیلئے ہاسپیٹل کی تعمیر ، بین المذاہب بھائی چارے کا تحریکی سینٹر ،سیمانچل کے حقوق کی تحصیل کیلئے کار گر آواز وغیرہ وغیرہ جواب ادھورے خواب بن کر رہ گئے اور وہ سدا کیلئے اپنی روشنی بکھیر کر بالآ ٓخر مختصر علالت کے بعد مجیدیہ ہاسپیٹل نئی دہلی میں 25؍اگست 2020 مطابق 5؍محرم الحرام 1442ھ سہ شنبہ کی دوپہر جوا ر رحمت کو پہنچ گئے اور سرزمین’’ ڈوبا‘‘ارریہ کے قبرستان نے ہمیشہ کیلئے اس چاند کے ٹکڑے کو اپنی پیٹ میں سمو لیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

در اصل ان کی ذات حرکت و عمل سے عبارت تھی، وہ اپنے افکا ر و خیالات، تحریر و تقریر اور قلمی جولانیوں سے اظہار حق سے دریغ نہیں فرماتے تھے۔ انھیں احساس تھا کہ سماج کا نقصان برے لوگوں سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کے چپ رہنے سے ہوتاہے ۔

احقر نے سیمانچل کے رانی گنج خطہ کی تباہ حالی ، نارتھ ایسٹ کیلئے ٹرینوں کی پورتی کیلئے مرکزی حکومت سے جب مطالبات کے سلسلے شروع کیے تو انہوں نے میری ہمت افزائی اور قلمی تعاون سے ہمیشہ ساتھ دیا ، ایک وقت آیا کہ ہم نے بہار سرکار سے اپنے علاقہ کی سڑکوں ،پل ،پلیا ، اسکول ، پرائمری ہیلتھ سینٹر اور بجلی کی آواز صوبائی اور مرکزی حکومت تک پہنچانے کیلئے ارریہ ڈی ایم آفس پر 26-03-2012 کودھرنا دیا جس میں حضرات علمائے کرام ، سیاسی شخصیات اورعوام کی بڑی تعداد تھی اور اپنے حق کی آواز کیلئے ضلع کلکٹریٹ کا احاطہ ہماری آواز سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر بھی کئی اخبارات میں انہوں نے ہماری خبریں شائع کرائیں ،بالآخر ہماری تحریک کامیابی تک پہنچی اور سابق ڈپٹی ہوم منسٹر جناب الحاج تسلیم الدین صاحب اور ایم ایل اے سرفراز عالم صاحب نے سارے شعبوں کے افسران کیساتھ میرے گائوں اور علاقہ کا دورہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اب ہمارایہ علاقہ چمن زار ہوگیا۔

صد افسوس کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ،لیکن ان کی محبت و مود ت، شفقت، حوصلہ افزا کلمات، دینی و سماجی خدمات اور ان کی قابل قدر تصانیف ہمارے لئے مشعل راہ رہیں گی، وہ کبھی فراموش نہیں کئے جائیں گے بلکہ رہتی دنیاان کے کارناموں کی وجہ سے ا ن کے نقش پا پر چلتی رہے گی اور ان کی یادوں کے چراغ سے لوگ اپنی راہ تلاشتے رہیں گے۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انھوں نے غیرمعمولی کارنامے انجام دیے ،متعلقین کو علم و فن کے ہتھیاروں سے لیس کیا، ایسی صفات کے لوگ اب دنیا میں نایاب تو نہیں، کمیا ب ضرور ہیں ۔اب ان کی ذات سے تعلق اور کئی موقعوں پر ہاتھ پکڑ کر چلنے کافن اوران کا ہنر بانٹنے کا صلہ کم از کم یہ ہو نا ہی چاہئے کہ میں متعلقہ مدارس ، حلقہ ٔ احباب، نزدیک و دور کے آشناسے دیر تک ان کیلئے ایصال ثواب کا اہتمام کرنے اور کرانے کی درخواست کرتا رہوں:

بجھا چراغ ، اٹھی بزم ، کھل کے رو اے دل

وہ چل بسے جنہیں عادت تھی، مسکرانے کی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*