وہ اک چہرہ جو کل تک زندگی کا استعارہ تھا

(فتح اللہ خاں کی یاد میں )

ضیافاروقی

فتح اللہ خاں صاحب کو میں نے نسیم انصاری مرحوم کے توسط سے پہچانا ہی نہیں بلکہ ان کی محبتوں اور مہربانیوں کا اسیر بھی ہوا ۔ نسیم بھائی اور فتح اللہ صاحب دونوں بچپن کے دوست تھے ۔ ان کے ساتھ بچپن اور نوجوانی کے بیتے شب و روز ، ان کی خوش مزاجی ۔ان کی مجنوں باشی، ان کا والہانہ پن ، دوستوں کے تئیں ان کا ایثار و قربانی کا جذبہ ان سب کو نسیم بھائی اس طرح بیان کرتے کہ سننے والا خود کو بھی ان حادثات و واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ۔فتح اللہ بھائی عاشق اقبال ممنون حسن خاں کے اکلوتے صاحبزادے تھے ۔ممنون خاں صاحب کا نسبی اور خاندانی سلسلہ مغلیہ دور کے جانباز سپہ سالار نواب دلیر خاں کے اس قبیلے سے تھاجس نے شہنشاہ کی عقیدت اور محبت میں شاہجہاں پور بسایا تھا ۔اور جس قبیلے میں بعہد اکبر اعظم حضرت قاسم سلیمانی جیسے بزرگ اپنی روحانیت اور بزرگی کی چھاپ دنیا میں چھوڑ گئے تھے ۔ممنون خاں صاحب نے علامہ اقبال کی آنکھیں دیکھی تھیں اور اس وقت علامہ اقبال کی خدمت کی تھی جب وہ بغرض سیاحت یا بغرض علاج بھوپال آئے تھے ۔ممنون صاحب جو اپنے خودروں میں پا پا کہلاتے تھے بہت کروفر کے انسان تھے۔ ان کی وجاہت اور دبدبے کے گواہ بھائی اقبال مسعود ، حفیظ محمد لعل ۔ڈاکٹر سید افتخار علی اور رشید اختر سبھی ہیں بھوپال میں اقبال مرکز ، اقبال میدان اور میدان میں شاہین والا مینار سب ممنون صاحب کی دین ہیں ۔اپنے عہد کے تمام مشاہیر سے ان کی خط کتابت تھی ان میں وہ خطوط بھی ہیں جو اقبال شناسی کے سلسلے میں برصغیر کے معروف اہل قلم نے ممنون صاحب کو لکھے تھے ۔یہ خطوط بہت اہم ہیں اور کئی معتر اہل قلم اقبالیات کے سلسلے میں ان خطوط کو موضوع بناچکے ہیں ۔ ایک موقعے پر فتح اللہ صاحب نے یہ تمام خطوط مجھے بھی اس حکم کے ساتھ عنایت کئے تھے کہ میں ان خطوں کی روشنی میں ممنون صاحب پر ایک کتاب لکھوں لیکن ان دنوں کچھ تو میری خانگی الجھنیں مانع رہیں دوسری اہم بات یہ کہ ممنون صاحب اور ان خطوط کےحوالےسے پہلے ہی کئی کتابیں لکھی جا چکی تھیں ۔جو میری نظر میں تھیں چنانچہ یہ پروجکٹ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا ۔
بہرحال میں بات کر رہا تھا فتح اللہ صاحب کی جن کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔ان کا ننہالی سلسلہ مشہور علیگیرین مسعود ٹامی سے تھا ، شاید اسی لئے ان کے مزاج میں جہاں متانت اور سنجیدگی تھی وہیں آنکھوں میں ایسی شوخی اور کشش بھی تھی جو کسی کو بھی ان کا گرویدہ بنالیتی تھی ، بھوپال میں ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا ۔ مشہور اسٹوری رائٹر جاوید اختر بھی ان کی نو عمری کے احباب میں شامل تھے ۔ بڑے باپ کے اکلوتے بیٹے ہونے کے سبب ان کو وہ سب ماد٘ی آسائشیں میسر تھیں جن کا اس وقت اچھے اچھے تصور نہیں کر سکتے تھے ۔جیسا کہ نسیم بھائی بتاتے تھے کہ فتح اللہ اس وقت بھی موٹر سائکل اور جیپ سے کالج آتے ۔ضرورت مندوں کی حاجت روائی دل کھول کر کرتے ان کی والدہ بھی اپنے ہونہار بیٹے کے دوستوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتیں اور بچوں کی طرح ہی خیال رکھتیں ۔ان سب کے باوجود فتح اللہ صاحب نے اعلی تعلیم حاصل کی ۔پیشے سے وکیل تھے مگر باقاعدہ کبھی وکالت نہیں کی ۔ وہ بھوپال کے ادبی اور سماجی حلقوں میں تا عمر معزز اور مکرم رہے ۔ وقف بورڈ اور متولی کمیٹی میں بھی اعلی ذمے داریاں نبھائیں ۔ مسلم ویلفیر سوسائٹی جس کے تحت منشی حسین خاں ٹیکنکل انسٹیٹوٹ ہے اس کے پہلے وائس چیرمین اور نسیم انصاری صاحب کے انتقال کے بعد چیرمین ہوئے۔ اور اپنی سوجھ بوجھ اور اپنی محبتوں سے سب کا دل جیتتے رہے ۔
ایسی دلآویز اور پیاری شخصیت 21 مئی 2018 کو عین رمضان کے عشرۂ رحمت میں یعنی ۵ رمضان المبارک کو مالک حقیقی سے جاملی اور اپنے پیچھے اپنے تمام مداحوں دوستوں کے علاوہ اپنی وفا شعار بیگم اور لائق اولادوں کو چھوڑ گئی۔ صاحبزادوں میں ایک ڈاکٹر سیف اللہ ٹیپو اور دوسرے انجینیر فیض اللہ ممنون ہیں جو اپنے بزرگوں کی رووایتوں کے ہاسدار بھی ہیں اور سچے جانشین بھی ۔اللہ ان سب کو سلامت رکھے ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)