وہ آئے جن کے آنے کی زمانے کو ضرورت تھی ـ محمد شاداب تقی قاسمی کریم نگری

ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا ہی اندھیرا تھا ،دور دور تک روشنی کا کوئی نام و نشان نہ تھا، دنیا کا ماحول انتہائی بد سے بدتر ہوچکا تھا ،ماؤں کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا ،بیٹیوں کے آنسو تیز ی سے بہہ رہے تھے ،غلاموں اور یتیموں کی سسکیاں زوروں پر تھی ،کفروشرک نے عقیدہ کی بزم کو ویران کر رکھا تھا،جاہلیت نے تمام اخلاقی حدوں کو پامال کردیا تھا ،عرب کہ جہاں اگر کسی کا جانور پانی کی گھاٹ سے دوسرے کے جانور سے پہلے پی لیتا تو بس اتنی سی بات پر تلواریں نیام سے باہرآجاتی اور صدیوں تک نسل در نسل لڑائیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ،خون ریزی ان کا محبوب مشغلہ بن چکا تھا ،انسانوں کی جانوں کا اتلاف ان کی نگاہ میں کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ،شراب نوشی ان کی سرشت کا حصہ بن چکی تھی ،بے حیائی اور بدکاری اہل عرب میں عام تھی ،عورت ان کے یہاں صرف تسکین جان کا ذریعہ اور تفریح طبع کا سبب تھی ،غلاموں اور یتیموں کے ساتھ ناروا سلوک بے حد ہوچکا تھا ،ایسا بدترین دور شاید عالم انسانیت نے کبھی نہ دیکھا ہو ، الغرض دنیا کفر وشرک ،ظلم وزیادتی ،قتل وغارت گری ،بے حیائی وبے شرمی اور بددیانتی وناانصافی کی آماجگاہ بن چکی تھی۔یہ قدرت کا نظام ہے کہ جب اندھیریں اپنی تاریکی کی انتہاء کو پہونچ جاتے ہیں تو خدا کے حکم سے اجالوں کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں ،وہ رفتہ رفتہ وہ افق پر چھا جاتی ہیں ،پھر وہ پوری دنیا کو روشن اور تابناک بنادیتی ہے ۔

جب انسانیت تباہی کے دہانے پر آگئی تو رحمت خداوندی جوش میں آئی ،اب خدا نے اس ہستی کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا جو نظام عالم کو بدلنے والا تھا ،جو ایک عظیم انقلاب کا بانی ورہبر بننے والا تھا،یعنی آقائے نامدار ،شہنشاہ ذی وقار جناب محمد رسول اللہ ااس دنیائے رنگ وبو میں جلوہ افروز ہوگئے ، وہ آئے کہ جن کے آنے کی زمانے کو ضرورت تھی ،وہ آگئے کہ جن کی آمد کا سبھی کو بے چینی سے انتظار تھا ،آپ اکا تشریف لانا ہی تھا کہ توحید کے زمزمے بلند ہونے لگے ،باطل کے ایوانوں میں طوفان برپا ہونے لگے،ٹوٹے ہوئے دل آپس میں ملنے لگے ،افکار وخیالات چمکنے لگے ،،کم تر درجہ کے لوگ اعلی ترین ہوگئے ،انسانیت کو شرمادینے والے کام انجام دینے والے عزتوں اور عفتوں کے امین بن گئے ،تحت الثری سے نکل کر انسانیت ثریا کی بلندی کو پہونچ گئی ،کل تک غلاموں اور یتیموں کے ساتھ ناروا سلوک جاری رکھنے والے ان کے محافظ وکفیل بن گئے ،الغرض تمام برائیوں کا خاتمہ ہوگیا اور تمام اچھائیوں کا بول بالاہوگیا۔

اب ہم قدرے تفصیل کے ساتھ ان انقلابات کا تذکرہ کریں گے جو آپ کی بعثت کے نتیجہ میں رونما ہوئیں ،اسی طرح آپ کے دنیا میں تشریف لانے کے ذریعہ سے غم کے ماروں اور ستم رسیدہ لوگوں کی جو دستگیری ہوئی اس کو بھی بیان کریں گے ،نیز ان دبے کچلے طبقات کے آپ نے جو حقوق بیان کئے ہیں ان کا بھی سرسری جائزہ لیں گے ،واضح رہے کہ ذیل میں ان چند ہی مظلوم طبقات کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو بعثت نبوی سے پہلے ظلم وستم اور رنج والم میں مبتلا تھے،پھر آپ کی آمد کے بعد ان کو حقیقی زندگی جینے کا قرینہ ملا ۔

عورتوں کے ساتھ خیر خواہی:
آپ اکی بعثت سے پہلے عرب کی جو بدترین حالت تھی اس کا اجمالا تذکرہ کیا گیا ہے کہ عرب میں انسانی حقوق کو پامال کیا جاتا تھا اور کمزور طبقات پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے ،بالخصوص خواتین کے ساتھ اہل عرب انتہائی درجہ کے مظالم ڈھاتے اور ظلم وستم کی داستانیں رقم کرتے ،حقوق اس طرح مفقود ہوچکے تھے کہ عورت صرف ہوائے قلب کے لیے سمجھی جاتی تھی اور مال ومتاع کی طرح وراثت میں تقسیم کی جاتی تھی ،اس بدترین صورت حال پر نظر ڈالتے ہوے مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں :
عورت کی ان کے یہاں کوئی عزت باقی نہ تھی ،مکان کے دوسرے سامان کی طرح یا مویشیوںکی طرح جہاں چاہی منتقل کی جاتی یا ورثہ میں ملتی،کچھ کھانے مردوں کے ساتھ خاص تھے ،عورتیں ان کو استعمال نہیں کرسکتی تھی،آدمی جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کرسکتا تھا ۔(نبی رحمت :۵۵)
لیکن آپ انے معاشرہ کے اند ر عورتوں کے حقوق اور ان کے مقام کو متعین کیا اور بڑے ہی اہتمام سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے معاملہ میں خدا سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا،چنانچہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ ا نے بڑے تفصیل کے ساتھ عورتوں کے حقوق کو بیان کیا اور فرمایاکہ: اے لوگو !تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہو ؛کیوں کہ تم نے ان کو اللہ تعالی کی امان سے لیا ہے ۔(مسلم :۴۵ا۲)
عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت کو قرار دیا ، عورت اگر بہن ہے تو بھائی کے لئے سعادت ونیک بختی کا ذریعہ بتایا ،عورت اگر بیوی ہے تو اس کے ذریعہ سے ایمان کے مکمل ہونے کی بشارت سنائی ،عورت اگر بیٹی ہے تو اس کی پرورش ،تعلیم وتربیت اور اس کے مناسب جگہ شادی کرانے پر جنت کی خوشخبری دی ،چنانچہ ارشاد فرمایا :من عال ثلث بنات فادبہن وزوجہن واحسن الیہن فلہ الجنۃ (ابوداؤد :۴۴۸۳)جس شخص نے لڑکیوں کی پرورش کی ،پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو اس کے لیے جنت ہے ۔

غلاموں کی دستگیری:
بعثت نبوی سے قبل غلاموں کاطبقہ بہت ہی ناروا سلوک کی زد میں تھا ،مالک غلاموں کو طرح طرح کی ظلم وزیادتی کا نشانہ بنائے ہوے تھے ،معاشرہ کے اندر ان کا کوئی مقام اور کوئی حیثیت نہیں تھی ؛لیکن آپ انے آکر ایسے اصول وقوانین مقرر کئے کہ جس سے غلام غلامیت کی زنجیروں سے نکل سکتے ہیں ،آپ انے گناہوں اور غلطیوں کے سرزد ہوجانے پر بطور کفارہ کے غلاموں کے آزاد کرنے کا حکم دیا ،آپ انے آقاؤں کو حکم دیاکہ :اخوانکم جعلہم اللہ تحت ایدیکم فمن جعل اللہ اخاہ تحت یدہ فلیطعمہ مما یاکل ویلبسہ مما یلبسس ولا یکلفہ من العمل مایغلبہ ان کلفہ مایغلبہ فلیعنہ علیہ۔ (بخاری :ا۳۳۷) یہ(غلام)تمہارے بھائی ہیں ،اللہ تعالی نے ان کو تمہارا زیر دست بنایا ہے ،اللہ جس کے زیر دست اس کے بھائی کو کردے تو اس کو چاہیے کہ اس کو وہ کھلائے جو خود کھاتا ہو ،جو خود پہنے اس کو پہنائے ،اور ایسے کا م کا مکلف نہ کرے جو اس کے لئے بھاری ہو ،اگر ایسے کا م کا مکلف کردے تو پھر اس کا م میں خود اس کی مدد کرے ۔
آپ انے مسلسل غلاموں کے ساتھ خیرخواہی اور بھلائی کرنے کی ترغیب دی ،ان کو مارنے اور اذیتیں پہونچانے سے باز رہنے کا حکم دیا ،حضرت ابومسعود سے سے ایک روایت ہےکہ :میں نے کوڑوں سے اپنے غلام کو مارا تو پیچھے سے ایک آواز سنی ،مڑکر دیکھا تو رسول اللہ ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابو مسعود !یہ جان لو کہ اللہ تعالی کو تم پر تمہارے غلاموں سے زیادہ قدرت حاصل ہے (صحیح مسلم :۲/ا۵)

یتیموں کی غمخواری:
آپ اکی تشریف آوری سے قبل یتیموں اور کمزوروں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ،معاشی وسماجی اعتبار سے وہ بے بسی اور کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے تھے ،معاشرہ کے دیگر افراد ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ،ان کے دکھ درد میں شریک ہوکر ان کی دل داری کرنے والا کوئی نہیں تھا ؛لیکن بعثت کے ساتھ ہی آپ انے ان کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کی تعلیم دی اور ان کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا برتاؤ کرنے کی ترغیب دی ،نیز یتیم کی پروش کو ذریعۂ نجات قرار دیا ،چنانچہ آپ انے ارشاد فرمایا :اللہ کے جس بندے نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم بچے کو لے لیا اور اپنے کھانے میں شریک کرلیا تو اللہ تعالی ضرور بالضرور اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔ (ترمذی :۸۳۶ا)
ایک موقعہ پر آپ انے ارشاد فرمایا :انا وکافل الیتیم فی الجنۃ ھکذا (بخاری:۶۰۰۵ )میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میںاس طرح ہوں گے (جیسے یہ دو انگلیاں ہیں )یتیم کی کفالت اور پرورش تو دور کی بات ہے ،آپ ا نے یتیم کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرنے کو بھی نیکیوں کے حصول کا سبب بتایا ،آپ اکا فرمان ہے :جس شخص نے کسی یتیم کے سر پر صرف اللہ کے لیے ہاتھ پھیرا تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھرا ،ہرہر بال کے حساب سے اس کی نیکیاں ثابت ہوں گی ۔(مسند احمد :۵۷ا۲)

مسکینوں کی دلداری:
اسی طرح معاشرہ کا ایک ستم رسیدہ طبقہ غرباء ومساکین کا بھی ہے ،اہل عرب کے یہاں غرباء ومساکین کی کوئی وقعت نہیں تھی ،وہ لوگ غرباء کو اپنی مجلسوں اور محفلوں میں شریک کرنے سے گریز کرتے تھے ؛لیکن آپ امساکین وغرباء سے بے پناہ محبت فرمایا کرتے تھے اور ان کی دادر سی کی فکر میں کوشاں رہتے تھے ،اس بات کا اندازہ آپ اس ارشاد عالی سے لگاسکتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ انے حضرت عائشہ ؓکو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :اے عائشہ !تو مسکین کو کھجو رکا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو دے ؛مگر اسے خالی ہاتھ واپس نہ لوٹا ،اے عائشہ !مسکینوں سے محبت کرتی رہا کر اور انہیں اپنے سے قریب کر ،اللہ تعالی قیامت کے دن تجھے قریب رکھے گا۔ (ابو داؤد :ا/۳۴۹) ایک مرتبہ آپ انے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو کسی مسکین کو ذلیل کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہا :جو نیکی اور مدد ان کو حاصل ہوگی وہ انہی فقراء کا نتیجہ ہوگی اور وہ ان مساکین کے ممنون ہوں گے ۔(بخاری :ا/۴۰۵)

حرف آخر:
الغرض آپ اکی آمد سے دنیا میں مظلومیت اور کسمپرسی کی زندگی گذارنے والوں ، آلام ومصائب کی بھٹیوں میں تپنے والوں اور حالا ت کی چکیوں میں پسنے والوں کو سکون واطمینان نصیب ہوا اور امن وامان کے ساتھ جینے کا موقع ملا ،راقم اپنی بات کو حضر ت خدیجہ ؓکے ان تسلی بھرے کلمات سے کرے گا جس کو انہوں نے آپ ا پرپہلی وحی کے نزول کے بعد اپنے گھر گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں تشریف لانے پر کہے تھے :کلا واللہ لایخزیک اللہ ابدا ،انک لتصل الرحم ،وتحمل الکل ،وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق۔ (بخاری :۴)خدا آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ؛اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور کمزوروں کا بوجھ اپنے سر لیتے ہیں ،مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں آنے والی باتوں میں مدد کرتے ہیں ۔

اسی کو الطاف حسین حالی ؒنے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے :
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماوی
یتیموں کا والی غلاموں کا مولی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*