ولادت اور علم ـ حفصہ عبدالغفار

معہد ام القری یونیورسٹی کی ایک بزرگ پروفیسر ہیں، جن کے ساتھ بوجوہ اکثر رابطہ رہتا ہے۔ ایک دن فون آیا سلام دعا کے بعد پوچھنے لگیں "ولادت سے فارغ ہو گئی ہو تم؟”۔۔ "کیا مطلب دکتورة؟” میں نے حیرت سے پوچھا کیوں کہ وہ جانتی ہیں میں شادی شدہ نہیں ہوں۔ کہنے لگیں "میرا مطلب ہے امتحانات ختم ہوگئے ہیں تمہارے؟ حصول علم آسان معاملہ نہیں ہے اور میں تو اپنی بیٹی کو بھی یہی کہتی ہوں کہ علمی امتحانات کا وقت ولادت کے مانند مشکل ہوتا ہیں۔” اسلامی ممالک کی جامعات کے تعلیمی معیار اور امتحانات کے مشکل آسان ہونے میں اختلاف ہوسکتا ہے، البتہ علم کے حوالے سے ان کی تشبیہ مجھے بہت درست لگی۔
تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ علم تھکاوٹ و مشقت مانگتا ہے۔ کیفے میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے بے فکری سے سیکھنے سکھانے والا حصول علم کا تصور بالکل غلط نہیں تو نامکمل ضرور ہے۔ تنہائی، مصائب اور مشاکل کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ "نجانے کیوں ان دنوں مجھ سے پڑھا نہیں جا رہا” کہنے والا طالب علم، ” پتہ نہیں کیوں پریگننسی نہیں ہورہی” کہنے والی سے زیادہ کرب میں ہوتا ہے۔ "نجانے میکہ میرا گھر ہے یا سسرال” کہنے والی سے زیادہ تنہا اور ڈائلما کا شکار اس دور میں دینی ومعاصر علوم سے ہمہ وقت واقفیت رکھنے والا طالب علم ہے۔
یہی مثال پھر میں نے ایک خاتون کو بچوں کی تعلیم کے حوالے سے دی ۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ بچے تین چار پانچ سال کی عمر سے اوپر پہنچ رہے ہیں اور ان کو ابھی تک گھر پر بھی تعلیم دینا نہیں شروع کی۔ توجہ دلاؤ تو عجیب عجیب بہانے تراشنے لگتی ہیں۔ "وہ ان کے بابا ایسے ہیں تو میں ایسی، سارا وقت تو ان کو نہلانے دھلانے کھلانے پلانے میں لگ جاتا ہے، تھکاوٹ ہوجاتی ہے” وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ جیسے ہر حال میں ان کا پیپمر تبدیل کرنا ہوتا ہے آپ کو اور ان کو کھانا کھلانا ہوتا ہے، بھلے آپ جتنی بھی تھکی ہوں، اسی طرح یہ ذہن بنا لیں کہ ان کو پڑھانا سکھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہ مت سوچیں کہ باقی سب کام تو مشقت اور تھکاوٹ سے ہوں گے مگر تعلیم تو آسانی سے خودبخود ہوجائے گی، یا پھر تعلیم کو کسی ایسے بہانے کی بنا پر مؤخر کیا جاسکتا ہے جس بہانے کی بنا پر اس کو روز کپڑے پہنانا، باتھ روم لے جانا اور صاف کرنا مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے تو ڈوب مرنے کا مقام ہی ہے کہ ایک مسلمان کو یہ کہا جائے کہ علم اتنا اہم ہے جتنا کھلانا نہانا، مگر ان کی سمجھ سے قریب تر شاید یہی بات لگی تھی۔ مجھے تو بچپن میں اپنی امی کے ساتھ واشنگ مشین کے پاس بیٹھ کر ان سے سورة الطارق یاد کرنا آج بھی یاد ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب آٹومیٹک واشنگ مشین ہر گھر میں نہیں ہوتی تھی۔ احمد جاوید صاحب کی ایک گفتگو میں سنا تھا کہ ان کو فارسی ان کی دادی اماں نے سکھائی تھی۔ اس سب کے بعد آج کل کی "گھریلو” ماؤں کی سستی اور نااہلی سمجھ سے بالاتر ہے۔
میں تو ایسی ماؤں کو ہر صورت سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں، جو سمجھے خوب، جو ضد پر قائم رہے اس سے حیرت، تحقیر اور تضحیک کا رویہ ضرور شروع کردیتی ہوں۔ کہ وہ ہماری امت کے فرد/افراد اور نسلوں کو جاہل بنارہی ہے، اور اس امت کو عمدا جاہل رہنے والوں کو اپنی معاشرت میں قبولیت کا درجہ ہرگز نہیں دینا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*