Home تراجم ہم نے آرایس ایس سربراہ سے کیوں ملاقات کی؟- ایس وائی قریشی

ہم نے آرایس ایس سربراہ سے کیوں ملاقات کی؟- ایس وائی قریشی

by قندیل

ترجمہ:نایاب حسن

 

جب سے یہ خبر عام ہوئی ہے کہ پانچ مسلم افراد نے 22 اگست کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی ہے، میڈیا اسے لے اڑا ہے اور اپنی مختلف تشریحات کے ساتھ اسے پھیلا رہا ہے۔ بھاگوت سے ملاقات کرنے والوں میں دہلی کے سابق ایل جی نجیب جنگ، صحافی شاہد صدیقی، ہوٹل بزنس سے وابستہ سعید شیروانی، سابق لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ اور راقم الحروف شامل تھے۔

میں واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ مکمل طور پر ہم پانچوں کی انفرادی پہل تھی، مختلف پس منظر کے حامل دوستوں کے ایک گروپ کی،جو ہندوستانی مسلمانوں کے احساسِ عدم تحفظ کے بارے میں مشترکہ خدشات اور دوسرے مذہبی گروپوں سے بات چیت کے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ خبر عام ہونے کے بعد سے ہمیں بہت سے مسلمانوں ، حتیٰ کہ غیر مسلموں کی جانب سے بھی  بے شمار تائیدی پیغامات موصول ہوئے ہیں، جو ہمارے اس احساس کی بازگشت ہیں کہ بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

ہم نے بہت سے تنقیدی تبصرے بھی دیکھے ہیں۔ جیسے یہ کہ ہمیں کس نے پوری کمیونٹی کی نمایندگی کا "اختیار” دیا؟ کچھ لوگوں نے تشویش کا اظہار کیاہے کہ ایک فرقہ وارانہ تنظیم کے پاس جانا ہماری اب تک کی صاف ستھری شبیہ  کو خطرے میں ڈال دے گا ۔ کچھ لوگوں نے ہمیں ان کے جال میں”پھنسنے” سے بھی خبردار کیا۔ البتہ اس سب کے باوجود کسی نے اس حقیقت پر سوال نہیں اٹھایا کہ مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

ہم سے بہت سارے سوالات پوچھے گئے ہیں، جن کا میں  اس تحریر کے ذریعے جواب دینے کی کوشش کروں گا، جس کی درخواست ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے کی ہے؛ تاکہ ریکارڈ کو درست رکھا جا سکے۔

 

 

کس چیز نے ہمیں اس ملاقات پر آمادہ کیا؟

دیکھیے،دراصل  ہماری بڑی تشویش موجودہ حالات کے تئیں ہے، خاص طور پر بے گناہوں کی ماب لنچنگ کے واقعات، ہندوتوا رہنماؤں کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات اور تقریباً ہر شعبے میں مسلمانوں کو حاشیے پر رکھنے کے واقعات کے نتیجے میں ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

ملاقات کیسی رہی؟

پہلے تو ہم آر ایس ایس سربراہ کے  دفتر کی سادگی دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ پھر ان کی وقت کی پابندی ،ٹھیک صبح 10 بجے وہ میٹنگ کے لیے تیار تھے۔ اسی طرح ملاقات کے دوران ان کا صبر و برداشت بھی قابل تعریف تھا۔ انھوں نے ایک گھنٹے تک ہم سب کو ایک بار بھی بغیر کسی مداخلت کے پوری توجہ سے سنا۔ اس میٹنگ میں  ان کے ساتھ دوسرے شخص کرشن گوپال تھے، جو ان کے قریبی معاون ہیں۔

یقیناً ہم نے یہ محسوس کیا کہ بھاگوت ایک صاحبِ اختیار شخص کی حیثیت سے بول رہے تھے؛ لیکن انداز ملایم تھا اور ان کا برتاؤ کسی بھی طرح رعب دارانہ نہیں تھا۔ وہاں ایسی کوئی چیز نہیں تھی، جو ہمیں تشویش میں ڈالتی ۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انھوں نے تین چیزوں پر زور دیا: ہندوتوا ایک جامع تصور ہے، جس میں تمام سماجی طبقات کے لیے برابر کی گنجائش ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے، جب تمام طبقات متحد ہوں۔ ایک انتہائی اہم  بات انھوں نے یہ کہی کہ ہندوستانی آئین مقدس ہے اور پورے ملک کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ انھوں نے اس خوف کو دور کرنے کی کوشش کی کہ آر ایس ایس موقع ملتے ہی آئین کو کالعدم قرار دے دے گا اور یہ کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا جائے گا۔

آگے بھاگوت نے یہ کہا کہ ہندو دو چیزوں کے بارے میں انتہائی حساس ہیں: پہلی چیز گائے ہے۔ ہم نے جواب دیا کہ مسلمان اس بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی ہے۔ قانون پہلے ہی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دیتا رہا ہے، جیسا کہ ہونا چاہیے۔ ان کے کہنے کا مطلب شاید یہ تھا  کہ جن ریاستوں میں گئو کشی پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، وہاں بھی مسلمانوں کو رضاکارانہ طور پر اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر یہ چیز سماجی تحفظ کو یقینی بناسکتی ہے تو یہ تو بہت آسان ہے۔

دوسری چیز، جس کا انھوں نے ذکر کیا وہ تھا ہندوؤں کو "کافر” کہا جانا۔ ہمارا جواب یہ تھا کہ اگرچہ اس عربی لفظ کے اصل معنی ہیں ’جو خدا کو نہیں مانتا‘؛ لیکن اگر اسے ہندو اپنے لیے توہین آمیز سمجھتے ہیں، تو مسلمانوں کو اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ بھی بہت آسان اور قابل عمل ہے۔ قرآن نے تو خود کہا ہے کہ "اللہ رب العالمین ہے،” رب المسلمین‘‘ نہیں ہے،وہ پوری کائنات کا خدا ہے، صرف مسلمانوں کا خدا نہیں ہے۔اسی طرح قرآن کہتا ہے ’’تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا‘‘۔

ہم نے بھی ان جارحانہ اصطلاحات کی نشان دہی کی، جو بہت سے ہندووں کی جانب سے  مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں،جیسے جہادی اور پاکستانی،تو انھوں نے اتفاق کیا کہ اسے فوری طور پر روکنا چاہیے۔

ہم نے مکالمے کا سلسلہ  جاری رکھنے کی ضرورت کا مشورہ دیا اور پوچھا کہ کیا وہ اپنے کچھ معاونین کے نام بتا سکتے ہیں، جن کے ساتھ ہم بات چیت کو آگے بڑھا سکیں ۔ تو انھوں نے چار افراد کے نام بتائے۔ ضرورت کے وقت رضاکارانہ طور پر اپنے دستیاب ہونے کی بات بھی کہی ۔ میں نے اس موقعے پر اپنے ساتھیوں کی پیشگی رضامندی سے بھاگوت کواپنی کتاب The Population Myth: Islam, Family Planning and Politics in India بھی پیش کی۔ ساتھ ہی ہندوستان میں مسلم آبادی سے متعلق چار پہلووں کو واضح کرنے کی کوشش کی۔

 

 

 

اول: اگرچہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ سب سے زیادہ ہوا ہے؛ لیکن اس شرح کو انتہائی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ہندو اور مسلم شرحوں میں فرق، جو 30 سال پہلے 1.1 تھا، کم ہو کر 0.3 پر آ گیا ہے؛ کیونکہ مسلمان ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خاندانی منصوبہ بندی کو اپنا رہے ہیں۔

دوم: عام تصور کے برعکس، حکومت ہند کی اپنی رپورٹ اور مردم شماری کے پرانے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں میں تعدد ازدواج کے واقعات سب سے کم ہیں۔

سوم: صنفی تناسب کے منفی ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں وسیع پیمانے پر تعدد ازدواج ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف 940 عورتیں ہیں، یعنی 60 مردتو ایسے ہیں،جن کی ایک بیوی بھی نہیں ہے۔ اس پر بھاگوت نے دل کھول کر قہقہہ لگایا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات انھوں نے نوٹ کی۔

چہارم: مسلم آبادی 1000 سالوں میں بھی ہندوآبادی سے بڑھ نہیں سکتی، جیسا کہ ریاضی کے ایک ماڈل سے واضح ہوتا ہے، جو ریاضی کے پروفیسر دنیش سنگھ اور اجے کمار نے میری درخواست پر تیار کیا ہے۔

جیسے ہی میڈیا کو اس ملاقات کی ہوا لگی، وہ خبروں کے لیے ٹوٹ پڑا۔

رد عمل؟ حد سے زیادہ مثبت۔

کوئی تحفظ؟ آر ایس ایس نہیں بدلے گا۔ شاید ہاں، شاید نہیں۔

تنقید؟ ہم انھیں تسلیم کر رہے ہیں۔

دیکھیے، انھیں ہمارے تسلیم یا رد کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم ہیں۔ اور ویسے بھی ہم کون ہیں؟ ریٹائرڈ لوگوں کا ایک گروپ، جواپنی زندگی اور ملازمت کی کامیاب اننگز کھیل چکے ہیں اور اب معاشرے اور ملک کے تئیں فکر مند ہیں۔

کیا ہم اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں؟ شاید نہیں۔ ہمیں کسی نے اس کام کے لیے منتخب نہیں کیا تھا؛ لیکن ہم بھی مسلم سماج کا لازمی حصہ ہیں۔ ہمارے اپنے نظریات و مشاہدات ہیں، یہ ہمارا انفرادی اقدام تھا۔

کیا ہم مسلم اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ ممکنہ طور پر؛ لیکن ان لوگوں سے تو ہمارا کوئی مقابلہ ہی نہیں جو ہم پر الزام لگا رہے ہیں، جو ہمارے نسبتاً معمولی گھروں سے 10-15 گنا بڑے محل میں رہتے ہیں۔ ہم نادان اور جاہل نہیں ہیں۔ ہم زمینی حقائق سے بھی اتنے ہی واقف ہیں: لنچنگ کے واقعات، نسل کشی کا اعلان، عصمت دری، اقتصادی بائیکاٹ، ووٹنگ کے حقوق چھیننے کا مسئلہ  اور مکانات یا نوکری حاصل کرنے میں امتیازی سلوک وغیرہ۔

 

 

ہماری مشکل: میڈیا کو کتنا بتائیں؟ہم پہلے میڈیا کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے؛ لیکن جب انھوں نے رابطہ کیا، تو ہم ان سے چھپنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ آخرکار ہم نے پورے ایک ماہ تک میڈیا سے اس معاملے کو چھپائے رکھا، حالاں کہ اس دوران درجنوں دوستوں سے اس پر آزادانہ گفتگو کی۔ یہ ان بدخواہوں کے لیے جواب ہے، جنھوں نے یہ کہا کہ ہم شہرت کے خواہاں ہیں۔

ہمارا پختہ یقین ہے کہ بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اس وقت ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، البتہ حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ہم اپنے جذبات کو جلد از جلد وزیر اعظم تک بھی پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیں سنیں گے ۔

 

(اصل مضمون آج کے روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے)

You may also like

Leave a Comment