مسلم تنظیمیں مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟- مولانا نور عالم خلیل امینی

ترجمہ:نایاب حسن

 

ہم مسلمان دور حاضر میں جن تہذیبی امراض کے شکار ہیں،ان میں سے ایک باہمی تفرقہ بازی و گروہ بندی بھی ہے،جس کا دائرہ عام سماجی زندگی سے لے کر اسلامی اور مذہبی سرگرمیوں تک پھیلا ہوا ہے،حالاں کہ مذہبی سرگرمیوں کے تمام تر شعبے باہمی اتفاق؛بلکہ مکمل یگانگت ، خود پسندی و انانیت سے کامل دست برداری اور وحدتِ دینی و اخوتِ اسلامی کے سانچے میں مکمل طورپر ڈھل جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔

یہ زمانہ پیشہ ورانہ انجمنوں،مزدور یونینوں،سیاسی پارٹی بندیوں، عسکری، اقتصادی و تجارتی گروہ سازیوں اور یورپی،افریقی،ایشیائی و امریکی گروپ بازیوں اور دیگر بے شمار جماعت کاریوں کا دور ہے،جو کبھی مذہبی وابستگی تو کبھی جغرافیائی انتساب،کبھی دو بر اعظموں یا ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے درمیان تعاون و تفاہم کی غرض سے یا پسماندہ ملکوں کے خلاف یا دیگر مقاصد کے تحت وجود میں آتی ہیں۔

ان میں سے ہر گروہ دوسرے کے تئیں متعصب ہوتا ہے،صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے اور دوسرے کو نظر انداز کرکے؛بلکہ بسا اوقات دوسرے کو نقصان پہنچاکر محض اپنی حصول یابیوں کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

ان گروہوں کا ایک دوسرے کے تئیں حسد اور کینہ رکھنا ایک حد تک جائز بھی ہے کہ ان کا وجود ہی حد سے بڑھی ہوئی اناپرستی،ضرورت سے زیادہ احساسِ برتری اور دوسرے انسانی گروہوں کے ہاتھوں صرف اپنے حقوق کے ضیاع کے احساس کے تحت عمل میں آتا ہے،مگر مسلم جماعتوں اور تنظیموں کا اپنے جیسی دوسری جماعتوں اور تنظیموں کے تئیں متعصب ہونا نہیں بنتا ؛کیوں کہ ان میں سے ہر جماعت اور تنظیم وسیع تر معنوں میں خدمتِ دینی کے نصب العین کے تحت کام کرتی ہے اور جب ان کے درمیان دین کے تئیں اخلاص و وفاداری،اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے جدوجہد ،مسلمانوں کے مصائب کو دور کرنے اور دنیا و آخرت میں ان کی فلاح و کامرانی کے لیے جدوجہد جیسی مشترک قدریں پائی جاتی ہیں،تو ان میں سے ایک کو دوسری جماعت سے تنگی نہیں محسوس کرنا چاہیے،یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میرا جھنڈا ہمیشہ اونچا رہے اور دوسرے کا زمیں دوز ہوجائے۔

لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقت یہی ہے؛چنانچہ ہر مسلم تنظیم چاہے اس کی بنیاد سماجی خدمت کے لیے رکھی گئی ہو یا دینی و مذہبی خدمت کے لیے یا تعلیم و تربیت،تبلیغ و دعوت وغیرہ جیسی خدمات کے لیے،مشاہدہ یہ ہے کہ یہ تنظیمیں اپنے جیسی دوسری تنظیموں کے تئیں نہ صرف متعصب ہوتی ہیں؛ بلکہ ان کے اندر ایک دوسرے کے حوالے سے کینہ پروری اور عداوت و مخاصمت کے جذبات بھی پائے جاتے ہیں اور ہر حال میں ایک تنظیم دوسری تنظیم کو زیر کرنے اور دبانے کے لیے ہر ممکن وسائل و ذرائع اختیار کرتی ہے۔

ان کا یہ عمل نہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے اندر اخلاص نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی اور دین و مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی و خیر خواہی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں؛ بلکہ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یہ تنظیمیں معمولی انسانی آداب و اقدار سے بھی محروم ہیں اور حد سے بڑھی ہوئی خود پرستی ان کے رگ و ریشے میں سرایت کیے ہوئی ہے اور یہ تنظیمیں ’’اسلامی‘‘ دائرے سے نکل کر ’’دنیوی‘‘ جماعتوں اور تنظیموں کے دائرے میں داخل ہوگئی ہیں۔

یہ ایک ایسی تباہ کن بیماری ہے جو دینی جماعتوں اور اسلامی تنظیموں کو شعوری یا غیر شعوری طورپر نئی تہذیب سے اثر پذیری کی وجہ سے لگ گئی ہے،جس کی خرابیاں کمیت و کیفیت کے اعتبار سے اس کی خوبیوں سے بڑھی ہوئی ہیں۔اس تہذیب نے انسانی اقدار و اخلاقیات کو خاص طورپر متاثر کیا ہے اور اسے حقیقی انسانی قدروں سے محروم کرکے بہیمیت، نفسانیت اور دوسری ان تمام بیماریوں سے دوچار کردیا ہے،جو مختصراً انانیت اور خود پسندی جیسی صفتِ رذیلہ میں سمٹ آتی ہیں۔

ہم نے قرن اول کے مسلمانوں کے بارے میں کبھی نہیں سنا کہ ان میں سے کسی نے دینی خدمت کے حوالے سے اپنے دینی بھائی کے تئیں تعصب سے کام لیا ہو یا اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جو نیک اعمال انجام دے رہا ہے،وہ دوسرے مسلمانوں سے بہتر ہیں،چہ جائیکہ وہ مسلمان بھائیوں کے پیچھے پڑے،ان کی مخالفت کرے یا اس سے کھینچا تانی کرے،ہم نے نہیں سنا کہ حضرت ابوبکرؓ اپنی خدمتِ دین کو حضرت عمرؓ کی خدمت سے بہتر سمجھتے ہوں۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں تابعین اور تبع تابعین کی نسل میں کوئی ایسا نہیں ملتا جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں دین کی خدمت زیادہ بہتر کر رہا ہے،ہم نے نہیں سنا کہ امام ابوحنیفہؒ نے اپنے معاصرین کی خدماتِ دینی کو ہیچ گردانا ہو یا امام شافعیؒ،مالکؒ یا امام احمدؒ نے امام ابوحنیفہؒ کی خدمت کا انکار کیا ہو،امام ابن تیمیہؒ نے کبھی نہیں کہا کہ ان کے پیش رو ائمہ نے اسلام کے ساتھ برا کیا اور صرف وہ اچھا کر رہے ہیں،اسی طرح جنید بغدادی یا عبدالقادر جیلانی یا معین الدین چشتی یا ابن الجوزی نے حسن بصری یا سالم بن عبداللہ کی احسان و تزکیہ اور تصوف و سلوک کے باب میں خدمات کا انکار نہیں کیا۔

ہم نے ہمیشہ یہی سنا کہ ان صلحاے وقت اور خادمینِ اسلام اپنے معاصرین کا نہ صرف اعتراف کرتے تھے؛بلکہ انھیں ہر اعتبار سے اپنے سے بہتر سمجھتے تھے اور اگر کوئی انھیں اپنے معاصرین یا اسلاف میں سے کسی پر برتر قرار دیتا،تو انھیں برا لگتا اور رونے لگتے ؛بلکہ سخت غصہ ہوتے اور شرمندگی کا اظہار کرتے تھے۔

مگرآج کیا ہوگیا ہے کہ ہر شخص اور ادارہ اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتا، نہ کوئی بڑا عالم و فاضل اپنے معاصرین کی کسی بھی خوبی، صلاحیت کا اعتراف کرتا ہے۔ تمام تر مسلم جماعتوں،تنظیموں،تحریکوں اور اداروں کا یہی حال ہے،ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو تن تنہا مسلمانوں کا ترجمان سمجھتا ہے،ان تنظیموں کے درمیان نہایت ناپسندیدہ ، مبغوض و مکروہ مقابلہ آرائی نظر آتی ہے،جسے دیکھ کر بالکل بھی نہیں لگتا کہ یہ تنظیمیں اللہ کی رضا کے لیے کام کررہی ہیں یا دین کی خدمت کر رہی ہیں،جس کے لیے اعلیٰ درجے کا اور نفاق و ریا کاری سے پاک اخلاص چاہیے ہوتا ہے۔ ان کی بیشتر سرگرمیوں اور کم سے کم پچاس فیصد کاموں سےبالکل بھی نہیں لگتا کہ یہ اپنے کاموں میں مخلص ہیں یا دین کے فروغ،امت کی فلاح اور مسلمانوں کی تہذیبی و ثقافتی سربلندی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

یہیں سے ہمیں عام طورپر اٹھائے جانے والے اس سوال کا جواب ملتا ہے کہ: اتنی ساری سوچنے والی عقلوں،ہر وقت محوِ تدبیر رہنے والی جماعتوں،تازہ دم تنظیموں،مسلسل سرگرمِ عمل تحریکوں،ملت کو زوال و انحطاط اور نامرادی و ناکامی سے نجات دلانے کے ہر وقت منصوبہ بندی کرنے والے اداروں کے باوجود آخر مسلمانوں کی نامرادی و حرماں نصیبی کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہورہا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ ہر قسم کی معنویتوں اور فکری و عملی اقدار سے بے بہرہ جماعتوں کی کثرت ان قلیل تہذیبی و فکری چیلنجز کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں جو ایک خاص عقیدے،فکر اور پیغام(بھلے ہی وہ باطل ہو) کے تئیں اخلاص جیسی قدروں سے لیس ہیں۔

کسی بھی عقیدے کے تئیں اخلاص(گرچہ وہ باطل ہو،پھر صحیح عقیدے کا کیا کہنا!)اور جذبۂ فنائیت ایسا وصف ہے جو کم کو زیادہ اور زیادہ کو کم بنا دیتا ہے،تاریخ میں اس کی بہت سی دلیلیں اور حال و ماضی کے انسانی تجربات کے بطن میں اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔

آخر کوئی تو بات ہے کہ دنیا بھر میں آسمان کے تاروں کے مانند پھیلی ہوئی مسلم تنظیمیں اور جماعتیں مسلمانوں کو عمومی طورپر خوشحال بنانے، ان کی نامیدی کو امید میں تبدیل کرنے،ان کی تاریک صورتِ حال کو روشن بنانے اور ان کے پژمردہ حال کو شگفتہ بنانے میں ناکام ہیں۔ اور کوئی تو وجہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی تعداد میں مفکرین اور روشن دماغ لوگ موجود ہیں،مگر وہ ریا،نفاق،انتشار،باہمی بغض و حسد،پیٹھ پیچھے کی جانے والی سازشوں اور فرد و جماعت اور ادارے کی سطح پر ایک دوسرے کے درمیان جاری کشمکش کو دور کرنے میں ناکام ہیں۔

میرا خیال ہے کہ وہ جماعتیں، تحریکیں، تنظیمیں اور ادارے جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتے، وہ کبھی بھی دوسرے افراد اور جماعتوں کی اصلاح نہیں کرسکتے اور اگر وہ باطنی افلاس کی شکار ہیں ،تو ایسی تنظیموں کی ظاہری ترقی و ثروت مندی کا کوئی فائدہ نہیں ـ

مسلم تحریکوں اور تنظیموں کا اصل مرض باطن کا افلاس ہی ہے، اسی تباہ کن مرض کی وجہ سے تمام تر وسائل ، ترقی یافتہ ہتھیاروں اور قوم سے حاصل ہونے والی بھاری بھرکم امدادوں کے باوجود انھیں معرکۂ حیات میں مسلسل ہزیمتوں کا سامنا ہےـ

 

(مطبوعہ:من وحی الخاطر،ج:۲،ص:۲۰۹-۲۱۸،ط:ادارہ علم و ادب دیوبند جنوری ۲۰۲۱ء)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*