فارغینِ مدارس کو یونیورسٹی میں کیوں پڑھنا چاہیے؟- محمد عادل خان

ہمارے پاس بہت سی وجوہات ہیں، چند ایک کا تذکرہ کردیتے ہیں:

(۱) مدرسہ کا ماحول اور دنیا کا ماحول دو مختلف چیزیں ہیں، جب آپ مدرسے سے فارغ ہوتے ہیں تو آپ دنیا کے ماحول، دنیاوی چال چلن، تہذیب و ثقافت اور دیگر چیزوں سے بہت حد تک ناواقف ہوتے ہیں، لہذا اس ناواقفیت کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی تعلیم حاصل کریں جو آپ کی معلومات کو بڑھا سکے۔ اس کے لئے سب سے بہترین ذریعہ کسی یونیورسٹی کی تعلیم ہے۔

(۲) مدارس کی اسناد کی اہمیت سرکاری اداروں میں بالکل زیرو ہے، لہذا آپ کو سرکاری ضروریات پوری کرنے، پاسپورٹ بنوانے، اور خود کو معاشرے میں پڑھا لکھا باور کروانے کے لئے سند کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لئے یونیورسٹی ایک بہترین جگہ ہے۔

(۳) قوم تعلیم میں بہت پیچھے ہے، اور آپ قوم کے قائد و رہنما ہیں، لہذا اسے تعلیم دلوانے اور تعلیم یافتہ بنانے میں آپ کا کردار سب سے اہم ہے، آپ ہی اخلاص کے ساتھ قوم کی تعلیم کا انتظام کرسکنے کے قابل ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ قوم مدرسے سے تعلیم حاصل نہیں کرے گی، لہذا اس کی دینی تعلیم کا انتظام آپ کو کالج میں ہی کرنا ہے، تو آپ کے اندر بھی اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ آپ قوم کی تعلیمی پیاس بجھا سکیں، اور عصری تقاضوں کے مطابق ان کی تعلیم کا انتظام کرسکیں، آپ کے اندر دین کی سمجھ پہلے سے ہوتی ہے، اگر آپ دنیا کی معلومات بھی رکھیں گے تو یہ فرض کفایہ آپ بہتر طریقے سے ادا کرسکیں گے. لہذا آپ کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے، اور یہ صلاحیت آپ کو یونیورسٹی فراہم کرے گی۔

(۴) نفاذ شریعت یا عدل پر مبنی نظام حکمرانی کی حصولیابی کے لئے ان تمام طبقوں کی ضرورت ہے جو کسی بھی حکومت کی بنیاد ہوتے ہیں؛ لیکن اسلامی حکومت کے قیام کے لئے ان طبقوں کا اسلامی فکر کا حامل ہونا اور قوم کے لئے اخلاص کی صفت سے متصف ہونا ضروری ہے، مثلا، اسلامی حکومت کے لئے مجاہدین کا ہونا ضروری ہے، اور ان کے لئے فوجی ٹریننگ ضروری ہے، اسلامی فکر کے حامل سائنس دانوں کا ہونا ضروری ہے، جو دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلم حکومت کو نئے نئے ہتھیار، دفاعی سامان، اور نئے نئے وسائل کی کھوج کرکے حکومت کو قوت فراہم کرسکیں، اسلامی فکر کے حامل ڈاکٹروں کا ہونا ضروری ہے، جو معاشرے کی طبی ضرورتیں پوری کریں اور صحت عامہ کو بحال کریں، اسلامی فکر کے حامل انجینئرس کا ہونا ضروری ہے جو حکومت کے لئے آلات بنائیں، بنیاد کو مضبوط کریں، علماء ربانین کا ہونا ضروری ہے جو مسلم معاشرے کی فکری و اعتقادی آبیاری کرتے رہیں، اگر آپ دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم کے حامل بھی ہوں گے، تو آپ کے لئے ایسے افراد کی تیاری آسان ہوگی۔

(۵) آپ کسی مدرسے کے استاد ہوں یا کسی مسجد کے مؤذن اور آپ کے مدرسے و مسجد کے مہتمم و متولی آپ کی عزت نفس کا خیال نہیں کرتے، تو آپ اس لئے صبر کرتے ہیں کہ آپ امامت یا معلمیت کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، لیکن اگر آپ کسی یونیورسٹی سے اضافی تعلیم یافتہ ہوں گے تو آپ اپنی عزت نفس بچا سکیں گے اور ایسی امامت اور معلمیت کو مہتمم و متولی کے منہ پر مار سکیں گے جس کی نظر میں آپ کی عزت نہ ہو۔

(۶) دعوت دین کے لئے عصری تقاضوں کا جاننا بے حد اہم چیز ہے، آپ صرف مدرسے کے ماحول میں تربیت حاصل کرکے یہ کام بحسن و خوبی انجام نہین دے سکتے، اسی طرح مدعو قوم کی زبان، ان کے استدلالات و احوال وغیرہ کو آپ مدرسے میں نہیں سیکھ پاتے،لہذا اس کے لئے بھی یونیورسٹی ایک بہترین ذریعہ ہے۔

(۷) اگر آپ کو اپنی تنخواہ حاصل کرنے کے لئے گھر گھر گھوم کر چندہ کرنا پڑتا ہے اور دو ٹکے کے لوگوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے، تو پھر آپ کو کسی ایسے علم کی ضرورت ہے جو آپ کو چندہ کرنے سے بے نیاز کردے اور ظاہر سی بات یہ ہے چیز آپ کو مدرسے میں نہیں ملے گی۔

اشکالات:

(۱) یونیورسٹی میں جانے کے بعد ۹۰ فیصد لوگ مولوی نہیں رہ پاتے!

جواب: سب سے پہلے تو آپ یہ واضح کیجیے کہ مولویت کیا ہے اور اسلام سے اس کا کیا تعلق ہے؟ ہماری نظر میں مولویت کسی ظاہری شکل و شباہت کا نام نہیں ہے، بلکہ مولوی علم شرعی کے حاملین کا لقب ہے، صحابہ کرام میں بھی بہت سے مولوی تھے، لیکن انہوں نے کبھی معاشرے سے ہٹ کر اپنی ظاہری شکل و شباہت اختیار نہیں کی، بلکہ بسا اوقات تو ان کو پہچاننا بھی مشکل ہوتا تھا کہ وہ عالم ہیں، اگر آپ کے اندر علم ہے، تو آپ پینٹ شرٹ میں بھی مولوی ہی رہیں گے، کسی کرتا پائجامہ یا کلی دار کرتے یا شلوار قمیص، دو پلی ٹوپی کی ضرورت نہ ہوگی. اور اگر مولویت آپ کے نزدیک بس ظاہری شکل و شباہت ہے، تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔

(۲) پڑھا لکھا سب بھلا دیتے ہیں۔
جواب: یہ کام تو آپ کے ساتھ مدرسے اور مسجد میں رہتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ آپ مطالعہ چھوڑ دیں، آپ یہ بتائیں کیا ہر مولوی خود سے ہر مسئلہ حل کرلیتا ہے؟ اگر ہاں تو پھر ہندوستان مین بڑے بڑے دار الافتاء کیوں قائم ہیں۔ ان میں کون سے مولوی سوال نامہ بھیجتے ہیں؟ جو شخص بھی مطالعہ سے دور ہوگا وہ اپنا علم کمزور کرتا جائے گا. اس کے لئے مدرسہ یا یونیورسٹی میں کوئی تفریق نہیں ہے۔

(۳) ایمان گنوا دیتے ہیں، گمراہ ہوجاتے ہیں
جواب: اگر گمراہی کا تعلق لباس سے ہے تو اس کی وضاحت ہم اوپر کرچکے ہیں، اور اگر گمراہی کا تعلق عقائد سے ہے تو ذرا گمراہوں کا کوئی بایو ڈیٹا پیش کردیں؟ اور اگر گمراہی کا تعلق وسعت فکری سے ہے کہ وہ یونیورسٹی جاکر تمام مسالک کا احترام سیکھ جاتے ہیں اور فرقہ واریت سے دور ہوجاتے ہین تو یہ عمل تو اسلام میں مطلوب و مقصود ہے۔ جب آپ یونیورسٹی جاتے ہین تو مختلف قسم کے افراد و خیالات سے واسطہ پڑتا ہے، جن کا تصور بھی آپ مدرسے مین نہیں کرسکتے، ایسے میں آپ کے پاس تین راستے ہوتے ہیں، (۱) آپ ان سوالات کو حل کریں، نئی نئی کتابوں کا مطالعہ کریں، افکار و خیالات پر غور کریں اور اشکالات رفع کریں. (۲) آپ ان سوالات کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائیں. (۳) آپ ان سوالات میں دل چسپی تو لیں لیکن حل نہ کریں، یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے مدرسے کی تعلیم ناقص ہوتی ہے تو آپ گمراہی میں پڑ سکتے ہیں۔

لیکن آپ مزید سنیں کہ: ایک یونیورسٹی کا گمراہ شخص کسی دوسرے کو دین کے نام پر گمراہ نہین کرسکتا، لیکن اگر ایک امام و مدرس گمراہ ہوجائے تو پورے معاشرے کو گمراہ کرسکتا ہے، اب یہ بھی جان لیں کہ یہ جتنی فرقہ واریت ہے‌، مسلکی اٹھا پٹک ہے، تعویذ گنڈے کے نام پر، قرآن خوانی کی دعوت اڑانے کے لئے جو بھی گمراہ کن کاروبار چل رہا ہے، قبر پرستی سے لے کر ریال کی پوجا تک جو دھندا چل رہا ہے یہ سب مولویوں کا ہی دھندا ہے کسی یونیورسٹی والے نے یہ دھندا نہین کیا۔

(۴) یونیورسٹی جاکر مدارس کے نظام و نصاب بدلنے کی مانگ شروع کردیتے ہیں۔
جواب: تو اس میں غلط کیا ہے؟ کیا آپ مدارس کی موجودہ حالت کو دو سو سال قبل کے کسی ماخذ سے ثابت کرسکتے ہیں؟ کیا درس نظامی کے نصاب میں عصری علوم شامل نہیں تھے؟ ٹھیک ہے ہم بھی کہتے ہیں کہ مدارس سے مفتی مدرس عالم و فاضل ہی نکلنے چاہیے، لیکن اگر تھوڑی تبدیلی کے بعد کسی مولوی و حافظ کا پاسپورٹ بن جاتا یے، کسی مدرس کو کمانے میں آسانی فراہم ہوجاتی ہے، کسی مفتی کو فتوی دینے میں پریشانیان لاحق نہین ہوتیں، کوئی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ معاشرتی چیلینجوں کا جواب دینے والا ہوجائے، کوئی اس قابل ہوجاتا ہے کہ امامت و مدرسیت کے علاوہ سے اپنے گھر بار کا خرچ اٹھا سکے، کوئی مین اسٹریم کے قابل ہوجاتا ہے، کوئی مولوی بننے کے بعد ڈاکٹر بننے کے لئے اہلیت پیدا کرلیتا ہے، تو اس سے آپ کا کیا نقصان ہے بھلا؟ آپ کو کیا پریشانی لاحق ہے؟ کہیں آپ ان شرفائے قوم کی نسل سے تو نہین ہیں جن کا کاروبار ہی مولوی کو معذور و مفلوج بنانے سے چلتا ہے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*