جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کے ذکر سے اعراض کیوں ؟ ـ مسعود جاوید

 

کیا ایسی تصویریں ملک کی اکثریت پوسٹ کرتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا آزاد کا ذکر شاید اس لئے مجبوری رہی ہو کہ آزاد ہندوستان کے وہ پہلے وزیر تعلیم تھے۔

جدوجہد آزادی میں علما کی شہادت اور مسلمانوں کا کردار کا تذکرہ ہمارے مسلم مورخین نے بھی شاذونادر ہی کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی کہ مورخوں شاعروں ادیبوں اور پروفیسروں کی اکثریت اشتراکیت کے پیروکار تھے۔

سیکولرازم کا حقیقی مفہوم گرچہ مذہب بیزاری نہیں ہے تاہم مسلم سیاست دان ، پولیٹیکل سائنس کے مصنفین مؤلفین، سیاسی تجزیہ نگاروں، ادیبوں اور صحافیوں نے سیکولرازم کو اسلام کے مدمقابل رکھا، کمیونزم کو سیکولرازم کے مساوی سمجھا اور ملک کی اکثریتی طبقہ کی نظر میں آزاد خیال بمعنی آخر مذہب سے آزاد ثابت کرنے کے لئے پوری کوشش کی کہ ان پر مسلمان کی چھاپ نہ لگے۔ اس کا بہترین نسخہ یہ تھا اور ہے کہ دینی طبقہ پر بے جا تنقید ہی نہیں تنقیص کی جائے۔ علما کی قربانیوں کے ذکر سے بھی بچا جائے۔

آزادی کے حصول میں مسلمانوں اور علما کی قربانیوں کا واضح طور پر ذکر سے گریز کرنا اسی مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔

آزادی کے حصول میں مسلمانوں کی شراکت اور قربانیوں کا ذکر مورخ تارا چند اور پچھلے دنوں پارلیمنٹ میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کر سکتے ہیں لیکن روشن خیال مسلم دانشور نہیں۔ مسلم دانشوروں کو خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان پر دقیانوسی مسلمان کا لیبل نہ لگ جائے۔

 

سیکولرازم کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ سیکولر ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا یعنی اس کی حکومت اس کے کارندے اور حکومتی مشینریاں کسی مذہب کے فروغ یا کسی مذہب کے خلاف کام نہیں کریں گی، ہاں ذاتی زندگی میں ان لوگوں کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی پسند کے مذہب کی اتباع کریں اور چاہیں تو کسی مذہب کی اتباع نہ کریں۔ آزادی کے بعد سے ماضی قریب تک اس پر عمل ہوتا رہا کسی پروجیکٹ یا عمارت کا افتتاح ہو یا کوئی اور کام دفتر ہو یا آلات کسی مخصوص فرقہ کی مذہبی علامت سے احتراز کیا جاتا تھا۔ دفاتر میں مذہبی پیشواؤں کی تصاویر آویزاں کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ناریل توڑ کر افتتاح نہیں کیا جاتا تھا اس لئے کہ سیکولر ملک مختلف عقائد کے لوگوں کا ہے نہ کہ کسی مخصوص مذہبی عقیدہ والوں کا۔ دھیرے دھیرے سیکولرازم کا یہ علامتی عمل کم یا ختم ہو رہا ہے۔

 

اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ ہندوستان میں محدود نہیں ہے۔ یہ روش دیگر مسلم ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ سیکولر ترکی ہو یا سیکولر مصر ، سیکولر مراکش ، سیکولر تونس ، سیکولر الجزائر، سیکولر پاکستان اور سیکولر بنگلہ دیش، کم و بیش ان تمام ملکوں میں دیکھی گئی ہے۔ ماڈرن ترکی میں سیکولرازم کے نام پر قرآن کریم احادیث اور دینی کتب بالخصوص عربی زبان میں جو ہوں ان کے پڑھنے پر پابندی ، مساجد اور دینی مکاتب، دینی شعائر حجاب وغیرہ پر ماضی قریب تک پابندی عائد تھی مگر مذہبی آزادی کے نام پر عیسائیوں کو ہر قسم کی آزادی دی جاتی تھی۔ مصر میں مذہبی آزادی کے نام پر مساجد کے جوار میں شراب و شباب کے محلات کی آزادی تھی۔ اسلام بیزاری ظاہر کرنے کی اسی قبیل کے عمل دیگر مسلم ممالک میں روا رکھے جاتے تھے۔ اگر سیکولرازم کا تقاضا تھا کہ دین کے فروغ کی حوصلہ شکنی کی جاۓ تو نشانے پر صرف اسلام اور مسلمان ہی کیوں ! انصاف پسند بات یہ ہے کہ سیکولرازم میں کسی بھی مذہب کا فروغ ریاست اور حکومت کا کام نہیں ہے یہ اس کے پیروکاروں کا کام ہے۔

جدوجہد آزادی میں اور مابعد آزادی ملک کی تعمیر وترقی میں ہندوستانیوں کا contribution کا ذکر ، تعصب اور امتیازی سلوک کے بغیر، حکومت اور عوام کو کرنا چاہیے۔ اور ہمیں اپنی نسل کو اس تاریخ سے واقف کراتے رہنا چاہیے۔