ہماری نماز ہمیں برائی سے کیوں نہیں روکتی؟ ـ (اکیسویں پارے سے ایک سبق) ـ عبدالغفار سلفی

 

سورۃ العنكبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ٱتۡلُ مَاۤ أُوحِیَ إِلَیۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَـٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَاۤءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ (العنكبوت :45)

۔ ( اے نبی ! ) آپ تلاوت کیجیے اس کتاب کی جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اور نماز قائم کیجیے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے ۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہوـ

آئیے اس آیت کریمہ پر غور و فکر کرتے ہیں :

1. آیت کریمہ میں سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہےـ تلاوت کا ایک معنی تو وہی ہے جو معروف ہے کہ قرآن کے الفاظ کو پڑھا جائے اور اس کے معانی پر غور و فکر کیا جائے. مگر تلاوت کا ایک معنیٰ پیچھے پیچھے چلنا اور اتباع کرنا بھی ہوتا ہےـ اس معنیٰ کے لحاظ سے یہاں تلاوت کا مفہوم بہت عام اور ہمہ گیر ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اے نبی آپ اس قرآن کے اوامر کی اطاعت کیجیے، اس نواہی سے رک جائیے . اس معنی کے لحاظ سے تلاوت قرآن کے لفظ میں پورا دین سمٹ کر آ جاتا ہےـ

2. دوسرا اہم حکم یہاں اقامت صلاۃ کا ہےـ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ نماز پڑھنا ایک الگ شے ہے اور نماز قائم کرنا الگ، یہاں نماز قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے. یعنی نماز کو اس کی تمام شرطوں اور آداب کے ساتھ ادا کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ جسم تو نماز میں مشغول ہو اور ذہن کسی اور وادی کی سیر کر رہا ہو، بلکہ پورے خشوع و خضوع کے ساتھ، تمام ارکان کی رعایت کرتے ہوئے پابندی کے ساتھ نماز کا اہتمام کیا جائےـ

3. پھر نماز کا ایک اہم فائدہ بتایا گیا کہ یہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے. فحشاء اور منکر کا معنیٰ بتلاتے ہوئے علامہ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : والفحشاء: كل ما استعظم واستفحش من المعاصي التي تشتهيها النفوس. والمنكر: كل معصية تنكرها العقول والفطر فحشاء ہر اس بڑے اور فحش گناہ کو کہتے ہیں جو نفس کی شہوت کے نتیجے میں ہوتا ہے اور منکر ہر اس گناہ کو کہتے ہیں کہ عقل اور فطرت جس کا انکار کرتی ہوـ

ظاہر ہے گناہ کی ان دونوں قسموں میں تمام قسم کے گناہ آ گئے. گویا نماز ہر قسم کے گناہ اور معصیت سے انسان کو روکتی اور باز رکھتی ہےـ

4. اب یہاں ایک سوال یہ ہے کہ نماز کے اندر ایسی کیا خاص بات ہے کہ وہ انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ نماز ہی اکلوتی ایسی عبادت ہے جس میں انسان کا قلب، زبان اور بدن سب اللہ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں اور بندہ جب خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی تمام شرائط اور آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے پابندی کے ساتھ نماز قائم کرتا ہے تو خیر کے کاموں کی طرف اس کی توجہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور شر کے کاموں سے اس کی طبیعت میں تنفر پیدا ہوتا ہے. ایک نمازی شخص خود بخود برائیوں سے دور ہونے لگتا ہے، اس کی نماز اسے اس کے مقصد زندگی سے روشناس کرتی ہے، کیونکہ بندے کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبودیت ہے اور نماز اس کا سب سے بڑا مظہر ہےـ

 

 

 

5. اب یہاں ایک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر پھر بھی وہ گناہوں اور فحش کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسا کیوں؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ ان کی نماز ان آداب اور شرائط سے عاری ہوتی ہے جو شریعت میں بتائے گئے ہیں. ورنہ حقیقی نماز انسان کو ضرور برائی سے روکے گی. جس شخص کی نماز میں خشوع و خضوع نہ ہو، اللہ کے در پر کھڑے ہونے کے باوجود اس کے دل و دماغ پر کوئی ہیبت طاری نہ ہو، وہ محض خانہ پری کر رہا ہو تو اس کی نماز اسے برائی سے ہرگز نہیں روکے گی بلکہ وہ اللہ سے اور دور ہوتا چلا جائے گا. اسی لیے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : فَمَنْ لَمْ تَأْمُرْهُ صَلَاتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ بِصَلَاتِهِ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا جس شخص کی نماز اسے بھلائی کا حکم نہ دے، برائی سے نہ روکے تو وہ ایسی نماز پڑھ کر اور زیادہ اللہ سے دور ہو جاتا ہےـ

6. تلاوت اور نماز کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا : اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے. اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ انسان اگر برائی سے بچنا چاھتا ہے تو صرف نماز پر اکتفا نہ کرے بلکہ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتا رہے کیونکہ بے حیائی اور برائی سے روکنے میں سب سے زیادہ معاون چیز ذکر الہی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں ذکر سے مراد خود نماز ہی ہو (جیسا کہ سورہ جمعہ میں نماز کو ذکر اللہ کہا گیا ہے : نُودِیَ لِلصَّلَوٰةِ مِن یَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡا۟ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو) اور اسے ذکرِ الہی کہہ کر یہ اشارہ کیا گیا ہو کہ یہ اسی وجہ سے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے کہ یہ ذکر الہی پر مشتمل ہےـ ایک تیسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نماز کے ذریعے تم اللہ کو جس قدر ذکر کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تمہارا ذکر کرتا ہے. چنانچہ حدیث قدسی میں ہے : فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ بندہ اگر مجھے اپنے نفس میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی اسے نفس میں ذکر کرتا ہوں، اگر وہ مجھے کسی جماعت میں ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر جماعت (یعنی فرشتوں کی جماعت) میں اسے ذکر کرتا ہوں ـ(متفق علیہ)

7. یہاں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ یہاں کہا گیا: وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ اللہ کا ذکر بڑا ہے. لیکن کس چیز سے بڑا ہے اس کو حذف کر دیا گیا. گویا اللہ کا ذکر ہر چیز سے بڑا ہےـ اس کا کسی اور ذکر کے ساتھ مقارنہ ہی نہیں کیا جا سکتاـ مثلاً پہاڑ کی بڑائی ذکر کرنی ہو تو یہ نہیں کہیں گے پہاڑ رائی سے بڑا ہے بلکہ پہاڑ کا مقابلہ کسی پہاڑ سے کریں گےـ چونکہ ذکر الہی کے مقابلے میں کوئی ایسی شے ہے ہی نہیں جس سے اس کا موازنہ کیا جائے اس لیے اکبر کہہ کر اسے مطلق چھوڑ دیا گیاـ

8. آیت کے آخر میں فرمایا گیا : وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہےـ یہ کہہ کر تنبیہ کی گئی کہ خواہ تلاوت ہو نماز ہو یا کوئی اور کام ہو اللہ تعالیٰ تمہارے سارے کاموں سے واقف ہے، ان کاموں کے پیچھے تمہاری نیت کیا ہے، اخلاص ہے یا نہیں اللہ اس سے بھی واقف ہےـ گویا آیت کا یہ ٹکڑا ہمیں اخلاص پر ابھار رہا ہے اور ریاکاری کے خطرات سے آگاہ کر رہا ہےـ

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کی تلاوت اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق دےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*