Home تجزیہ ڈی ڈی اے نے مہرولی کی قدیم مسجدکیوں منہدم کی؟-سہیل انجم

ڈی ڈی اے نے مہرولی کی قدیم مسجدکیوں منہدم کی؟-سہیل انجم

by قندیل

جنوبی دہلی میں واقع تاریخی قطب مینار کے قریب واقع ایک قدیم مسجد کے انہدام نے متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اب اُن تمام تاریخی مساجد کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے جن کے مندر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مہرولی کی اخوندجی مسجد کو منہدم کرنے والے ڈی ڈی اے کے عملہ کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔ یہ سوالات اس لیے پیدا ہو رہے ہیں کہ اس منہدم شدہ مسجد پر تو کسی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں تھا۔ کسی ہندو تنظیم نے اس کے خلاف کوئی مہم بھی نہیں چلائی تھی۔ دہلی میں اراضی اور تعمیرات کے ذمہ دار ادارے ڈی ڈی اے نے یہ کہہ کر اس کو صبح کے اجالے میں زمین بوس کر دیا کہ یہ غیر قانونی تعمیر ہے۔ اس مسجد سے ملحق مدرسہ بحر العلوم اور وہاں عشروں سے موجود قبروں کو بھی توڑ دیا گیا۔ مسجد کے امام ذاکر حسین کے مطابق فجر کے وقت ڈی ڈی اے کا عملہ پولیس دستے کے ساتھ پہنچا۔ اس نے ہم لوگوں کو اپنا سامان ہٹانے کے لیے مشکل سے دس منٹ دیے۔ ڈی ڈی اے کے عملہ نے ان کا فون لے لیا۔ انھیں وہاں سے ہٹا کر پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا۔ وہاں سیکورٹی جوانوں کو تعینات کر دیا گیا اور ملبہ دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ مدرسے میں تقریباً دو درجن بچے زیر تعلیم تھے ان کا سارا سامان تباہ ہو گیا۔ اس طرح وہ جگہ جہاں ایک مسجد چھ سو سال سے کھڑی تھی آنِ واحد میں سپاٹ میدان میں تبدیل کر دی گئی۔ ادھر ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد سنجے ون میں تھی جسے ریزروڈ فارسٹ ایریا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بیان کے مطابق ’رِیج مینجمنٹ بورڈ‘ کے فیصلے کے تحت اس پورے علاقے کو تجاوزات سے پاک کیا جانا ہے۔ مذہبی نوعیت کی اس عمارت کے انہدام کی منظوری متعلقہ محکمے کی مذہبی کمیٹی نے دی تھی۔ جب ڈی ڈی اے کے ذمہ داروں سے پوچھا گیا کہ کیا انہدام سے قبل مسجد کمیٹی کو کوئی نوٹس دیا گیا تھا تو انھوں نے کہا کہ ہم نے ضابطے پر عمل کرکے یہ کارروائی کی ہے۔ حالانکہ اس مسجد کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک معاملہ بھی چل رہا ہے جس پر سماعت کے دوران ڈی ڈی اے نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مہرولی آرکیالوجیکل پارک میں کسی مسجد، قبرستان یا وقف بورڈ کی املاک کو منہدم نہیں کرے گی۔ انہدام کے خلاف مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا اور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس معاملے پر بارہ فروری کو سماعت ہونی ہے۔

 

تاریخ دانوں کے مطابق 1922 میں شائع ہونے والی مولوی ظفر حسن،اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی کتاب ’لسٹ آف محمڈن اینڈ ہندو مانومنٹس‘ جلد تین میں اخوندجی مسجد کے وجو کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مسجد اخوندجی عید گاہ سے تقریباً 100 میٹر کے مغرب میں ہے اور وہ 1398 میں ہندوستان پر تیمور کے حملے کے وقت موجود تھی۔ اس کی تعمیر کا سال نامعلوم ہے لیکن 1853 میں اس کی مرمت کی گئی تھی۔ جبکہ ڈی ڈی اے نے اسے غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا ہے۔ اس کے مطابق مسجد اخوندجی سنجے ون یعنی سنجے فارسٹ ایریا میں تھی اور غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو ہٹانے کی مہم کے تحت اسے منہدم کیا گیا۔ ماہرین کی بات مانیں تو یہ مسجد تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنجے ون فارسٹ ایریا میں ناجائز قبضہ کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ جبکہ سنجے ون کو خود 1994 میں فارسٹ ایریا قرار دیا گیا ہے۔ معروف تاریخ داں رعنا صفوی نے راقم سے گفتگو میں کہا کہ مولوی ظفر حسن کی کتاب ’مانومنٹس آف انڈیا‘ میں مسجد کے پاس نصب کتبے کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ظفر (بہادر شاہ ظفر) کا لکھا ہوا ہے۔ اس کے باہر ایک بورڈ آویزاں تھا جس کی تصویر دو سال قبل ’ہیریٹیج مہرولی‘ نامی ہینڈل سے انسٹا گرام پر پوسٹ کی گئی تھی۔ اس بورڈ پر درگاہ شیخ جلال الدین تبریزی اور اس کے نیچے ’جنازہ پرّاں‘ لکھا ہوا تھا۔ شیخ تبریزی التمش کے زمانے میں 1210 میں دہلی آئے تھے۔ بعدمیں وہ بنگال چلے گئے جہاں انھوں نے اسلام اور صوفی ازم پر کافی کام کیا تھا۔ لیکن وہاں ان کی درگاہ نہیں بلکہ خانقاہ ہے۔ (لوگوں کا کہنا ہے کہ جنازہ پرّاں کا مطلب یہ ہے کہ جنازہ اڑ کر بنگال سے یہاں آگیا تھا۔ بنگال میں ان کی میت نہیں ملی تھی۔ اس لیے پنڈوا کے مقام پر ان کی بہت بڑی خانقاہ ہے، وہاں درگاہ نہیں ہے) درگاہ یہاں تھی۔ ان کے بقول اس مسجد اور درگاہ کا اگر کوئی تعلق شیخ جلال الدین تبریزی سے تھا تو ان کی تعمیر تیرہویں یا چودہویں صدی میں ہوئی ہوگی۔ مزید براں یہ کہ اس مسجد اور درگاہ کا طرز تعمیر لودھی دور حکومت کا تھا۔ اگرچہ اس میں کافی مرمت ہوئی تھی لیکن یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد سات آٹھ سو سال پرانی تھی۔ دہلی میں بہت سی عمارتیں دہلی وقف بورڈ میں لسٹڈ ہیں۔ ایسی عمارتوں کو ڈی ڈی اے کیسے منہدم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق مسجد اخوندجی کا کتبہ اگر بہادر شاہ ظفر نے لکھا تھا اور درگاہ کا تعلق شیخ جلال الدین تبریزی سے تھا تو اس مقام کی بہت زیادہ تاریخی اہمیت ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہ مسجد رضیہ سلطان کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ رضیہ سلطان نے 1236 سے 1240 عیسوی تک دہلی پر حکومت کی تھی۔

 

پچھلے دنوں دہلی کی سنہری باغ مسجد کے انہدام کا تنازع پیدا ہوا تھا جس کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ یہ معاملہ میڈیا میں بھی کافی اچھلا تھا۔ جس کے بعد اس کے انہدام کا ارادہ فی الحال ملتوی کر دیا گیا۔ لیکن یہ التوا کب تک رہتا ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن مسجد اخوندجی کو چپکے چپکے صفحہئ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ اگر اس کے انہدام کے سلسلے میں مسجد کمیٹی کو کوئی نوٹس ایشو کیا گیا ہوتا تو یہ معاملہ میڈیا میں آجاتا۔ شاید اسی لیے ایسا کرنے کے بجائے مجرمانہ انداز میں خاموشی سے اس کو گرا دیا گیا۔ خیال رہے کہ ملک کی متعدد تاریخی اور قدیم مسجدوں پر ہندو تنظیموں کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ بدایوں اور آگرہ کی جامع مسجد کے بھی مندر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آگرہ اور دہلی کی جامع مسجد کے زینوں کے نیچے مورتیاں دفن ہیں۔ شدت پسند تنظیموں کے دعوؤں کی وجہ سے آگرہ کی جامع مسجد کے داخلی دروازے پر سیکورٹی جوان تعینات رہتے ہیں۔ ادھر ایک غلط دعوے کی بنیاد پر گیا ن واپی مسجد کے تہہ خانے میں مقامی عدالت کی جانب سے پوجا کی اجازت دیے جانے کی وجہ سے وہ معاملہ کافی گرم ہو چکا ہے۔ مسجد کمیٹی کے ایک وکیل محمد اخلاق کے مطابق ہندوؤں کی جانب سے گیان واپی مسجد کے سلسلے میں تقریباً دو درجن اپیلیں عدالتوں میں داخل ہیں جن میں الگ الگ مطالبے کیے گئے ہیں۔ بنار س کے ایک سابق صحافی اور سماجی کارکن عتیق انصاری کے مطابق مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ ویاس جی سال میں ایک بار اس کے باہر پنڈال لگا کر پوجا کیا کرتے تھے اور پھر سارا سامان تہہ خانے میں رکھ دیا جاتا تھا۔ تہہ خانے میں ٹوٹی مورتیوں کی حقیقت یہ ہے کہ مسجد کی کئی دکانوں کے ہندو کرایے دار تھے جو مورتیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ وہ بھی اپنی ٹوٹی مورتیاں تہہ خانے میں ڈال دیتے تھے۔ بعد میں عدالت کے ایک حکم سے تہہ خانے کی بیریکیٹنگ کر دی گئی اور ٹوٹی مورتیاں اور دوسری چیزیں اندر رہ گئیں۔ اب وہاں مورتیاں پائے جانے اور پوجا کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد باہر سے مورتیاں لے جا کر اس میں رکھ دی گئیں۔ بہرحال جس طرح تاریخی مسجدوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اس کے پیش نظر آنے والے دنوں میں کسی اور مسجد کو گرایا جا سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کس تاریخی مسجد کا نمبر آتا ہے اور مہرولی کی مسجد کے بارے میں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

You may also like